دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون نے اپنے پوتے کو جنم دے دیا

دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون نے اپنے پوتے کو جنم دے دیا
دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون نے اپنے پوتے کو جنم دے دیا

  

لندن (نیوز ڈیسک) برطانیہ میں ایک خاتون نے اپنے بیٹے کے بیٹے کو جنم دے کر ایک عجیب و غریب تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ مقامی میڈیا میں حال ہی میں انکشاف ہوا کہ ایک ہائیکورٹ نے بچے کے والد کو یہ اجازت دے دی ہے کہ وہ اپنی والدہ سے پیدا ہونے والے اپنے بیٹے کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے۔

اس انکشاف کے بعد متعدد سماجی تنظیموں کی طرف سے اس معاملے پر شدید تنقید کا آغاز ہو گیا ہے اور ناصرف خاتون کو فرٹیلٹی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا جا رہا ہے بلکہ عدالت کو بھی اس نوعیت کی اجازت دینے پر سماجی اقدار کا مذاق اڑانے کا مرتکب قرار دیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خاتون کانوجوان بیٹا بے اولاد تھا اور حصول اولاد کیلئے اپنی والدہ کی مدد کا طلب گار تھا۔ چونکہ یہ شخص شادی شدہ نہ تھا لہٰذا اس نے عطیہ کئے گئے بیضے اور اپنے سپرم سے بچہ پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس کی قانونی اجازت کیلئے عدالت کا رخ کیا۔

کیا اس مردکے ساتھ بچے پیدا کیے جاسکتے ہیں ؟خواتین سونگھ کر بتا سکتی ہیں

مسز جسٹس تھئیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے طویل غور و فکر کے بعد خاتون کو اجازت دی کہ وہ عطیہ کئے گئے بیضے اور اپنے بیٹے کے سپرم سے پیدا ہونے والے زائیگوٹ کو اپنے رحم میں رکھ سکتی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یہ بچہ حمل کی نارمل مدت کے بعد پیدا ہوا اور اب سات ماہ کا ہو چکا ہے۔ قانونی لحاظ سے بچے کی دادی اس کی والدہ بھی ہے جبکہ بچے کا والد اس کا بھائی بھی ہے۔ اگرچہ قانون اکیلے باپ کو بچے کی حوالگی کی اجازت نہیں دیتا مگر عدالت کا کہنا ہے کہ چونکہ بچے اور اس کے باپ میں بھائی کا رشتہ بھی موجود ہے لہٰذا اس متنازعہ حوالگی کی اجازت دیدی گئی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -