مصطفی کمال کی جارحانہ پریس کانفرنس،روایت توڑ ڈالی

مصطفی کمال کی جارحانہ پریس کانفرنس،روایت توڑ ڈالی

  

تجزیہ : مبشر میر

مصطفی کمال نے جارحانہ انداز میں ایم کیو ایم قیادت کے خلاف پریس کانفرنس کرکے روایت توڑ ڈالی ۔ایسا ممکن نہیں تھا جو سابق ناظم اعلیٰ کراچی اور ان کے ساتھی انیس قائم خانی نے کیا ۔ماضی میں ایم کیو ایم کی قیادت سے بغاوت کا اعلان خطرے کی گھنٹی تصور کیا جاتا تھا ۔ایم کیو ایم چھوڑ نے والے عامر لیاقت حسین ،آفتاب شیخ وغیرہ بھی ایم کیو ایم کی قیادت کے خلاف زبان نہیں کھول سکے تھے ۔مصطفی کمال نے پارٹی کا نام دانستہ صیغہ راز میں رکھا ہے ۔وہ پارٹی کے اندر سے ہی پارٹی اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ردعمل کا درجہ حرارت دیکھنے کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے ۔ان کی نئی سیاسی زندگی کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ ایم کیو ایم کے موجودہ اراکین صوبائی و قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سے کون ان کا ساتھ دینے کا اعلان کرتا ہے ۔یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا پارٹی کے اندر فارورڈ بلاک بننے کے امکانات موجود ہیں یا نہیں ۔اس حوالے سے گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد کا کردار بہت اہم ہوگا جن کی ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو سے وابستگی کمزور پڑچکی ہے ۔انہوں نے اپنے ایک گزشتہ انٹرویو میں مصطفی کمال کی بہت تعریف کی تھی ۔اس بات کا امکان ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف مصطفی کمال کے اقدام کی حمایت کرسکتے ہیں ۔ایم کیو ایم لندن اور کراچی رابطہ کمیٹی نے جوابی پریس کانفرنس میں مائنس ون (الطاف)فارمولا لانے والوں کو بے نقاب کیوں نہیں کیا کہ آخر کون الطاف حسین کو قیادت سے ہٹانا چاہتا ہے ۔

مزید :

تجزیہ -