خاتون ڈرائیور بے ہوش، نوجوان کا ایسا کام کہ کئی بچوں کی جان بچالی

خاتون ڈرائیور بے ہوش، نوجوان کا ایسا کام کہ کئی بچوں کی جان بچالی
خاتون ڈرائیور بے ہوش، نوجوان کا ایسا کام کہ کئی بچوں کی جان بچالی

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) امریکہ میں سکول کے ایک طالبعلم نے کمال ذہانت اور بہادری کا بہانہ کرتے ہوئے اس وقت فراٹے بھرتی بس کا کنٹرول سنبھال لیا جب ہارٹ اٹیک کی وجہ سے خاتون ڈرائیور اپنے حواس کھو چکی تھی، اور اس طرح تین درجن سے زائد بچوں کی جان بچالی۔

اس آدمی نے اپنی بوڑھی ماں کو اس طرح ڈگی میں کیوں بٹھا رکھا ہے؟ وجہ وہ نہیں جو آپ سوچ رہے ہیں بلکہ حقیقت ایسی کہ سوچنا بھی مشکل

ایم ایس این نیوز کی رپورٹ کے مطابق الباما ہائی سکول کے طالبعلم جیس فرینک نے دیکھا کہ اچانک بس ایک طرف مڑنا شروع ہوگئی اور بچوں نے خوف سے چیخنا چلانا شروع کردیا۔ تب اس کی نظر خاتون ڈرائیور پر پڑی جس کا سر پیچھے کی جانب لٹک چکا تھا اور اس کے ہاتھ سٹیرنگ پر نہیں تھے۔ جیس نے بتایا ”میں نے ڈرائیور پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ بس اس کے کنٹرول میں نہیں تھی اور میں نے سوچا کہ فوری طور پر کچھ کرنا ہوگا۔ میں آگے بڑھا اور ایک ہاتھ سٹیرنگ پر رکھا اور ساتھ ہی بریک کو دبانا شروع کردیا۔ میں نے بریک کو تب تک دبائے رکھا جب تک بس رک نہ گئی اور اس کے بعد 911پر کال کرکے مدد طلب کی۔ مجھے یہ کوئی بہت پیچیدہ کام نہیں لگا ۔ میں نے بس یہ سوچا کہ مجھے کیا کرنا ہوگا اور پھر میں نے وہ کردیا۔ بس میں بہت سے چھوٹے بچے تھے جو بری طرح خوفزدہ ہوکر چلارہے تھے۔“

ایمرجنسی اہلکار موقع پر پہنچے اور انہوں نے ڈرائیور کو ہسپتال پہنچایا۔ اس موقع پر بھی جیس ننھے بچوں کو حوصلہ دیتا رہا اور ان کا خوف دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا نظر آیا۔ جیس کو صرف اس کے سکول کی انتظامیہ نے ہی نہیں بلکہ پورے شہر نے زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنا ہیرو قرار دیا ہے۔ شہر کے میئر کا کہناتھا کہ جیس نے بروقت ہمت کا مظاہرہ کرکے 38بچوں کی جان بچائی۔ پیل سٹی کاﺅنسل میں اسے خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی جس کے دوران شہر کے میئر بل پروئٹ نے اسے اعزازی شیلڈ پیش کی۔ ان کا کہنا تھا”جیس تمام بچوں اور ان کے والدین کے لئے ہیرو ہے، بلکہ وہ ہم سب کے لئے ہیرو ہے۔ اس کی بہادری ہم سب کے لئے ایک مثال ہے، جسے شہر کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس