پیاف کا روزمرہ اشیاء کی ایل سی پر مارجن میں اضافے پر تشویش کا اظہار

پیاف کا روزمرہ اشیاء کی ایل سی پر مارجن میں اضافے پر تشویش کا اظہار

لاہور (کامرس رپورٹر)پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) نے روزمرہ اشیاء کی ایل سی پر مارجن 100 فیصد ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ اقدام مہنگائی اور سمگلنگ کو پروموٹ کرے گا۔امپورٹس کی حوصلہ شکنی ایک درست قدم ہے مگر اسکو کم کرنے کے اور بھی بہت سے طریقے ہیں بجائے اسکے کہ کہ ایل سی پر مارجن کو ڈبل کر دیا جائے۔

کاروبار مخالف اقدامات کرنے کی بجائے حکومت کو گرتی ہوئے برآمدات سے نمٹنے کیلئے جنگی بنیادوں پر حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے۔

ایل سی پر مارجن 100 فیصد ہونے سے روزمرہ استعمال کی بیشتر اشیاء میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے اور تاجر برادری کے ساتھ جرنل پبلک بھی متاثر ہو رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار چیئر مین پیاف عرفان اقبال شیخ نے سیئنر وائس چیئر مین تنویر احمد صوفی اوروائس چیئرمین خواجہ شاہزیب اکرم کے ہمراہ امپورٹرز ایسوسی ایشن کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ ملکی امپورٹس مختلف ڈیوٹیز کے باعث پہلے ہے مہنگی ہیں، حالیہ اقدام سے اور زیادہ مہنگی ہو جائیں گی اور غیر قانونی طریقے سے درآمدات بڑھ جائیں گی جنکا ملکی معیشت پر حصہ نہیں ہو گا اور حکومت کا ریونیو بھی گھٹ جائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کو کم کرنے کیلئے ایسے اقدامات کئے جائیں جس سے صنعتوں میں پیداواری لاگت کو کم ہو تاکہ ملکی برآمدات کو بڑھایا جا سکے۔عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ پاکستان کی برآمدات مخصوص مصنوعات اور مخصوص ممالک تک محدود ہیں جن کی وجہ سے ہم برآمدات بڑھانے کا خواب پورا نہیں کرپائے. پچھلے تین سالوں میں ملکی برآمدات کم ہو کر 25 سے 20 ارب ڈالر ہو گئی ہیں جبکہ اسی پریڈ اور انہی حالات میں بنگلہ دیش کی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک ریسرچ کرکے نئے ذرائع تلاش جبکہ ہم خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔ پیاف کے عہدیداران نے حکومت پر زور دیا کہ وہ تمام معاشی امور پر بزنس کمیونٹی کو اعتماد میں لیں کیونکہ تاجر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور معاشی بہتری کے لیے زیادہ بہتر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تجارتی پالیسی میں برآمدات میں اضافہ کیلئے اربوں روپے مختص کیے گئے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ برآمدات میں اضافہ کیلئے اس رقم کا استعمال کیا جائے اور بیرون ملک نئی منڈیوں کی تلاش کے ساتھ ساتھ پاکستانی مصنوعات کی نمائش کے انتظاما ت کیے جائیں تاکہ پاکستانی اشیاء کی بیرون ملک برآمدات میں اضافہ ممکن ہوسکے ۔ بار بار کے وعدوں کے باوجود ریفنڈز کی عدم ادائیگی نے برآمدگان کی کمر توڑ دی ہے جس سے ایکسپورٹ سیکٹر متاثر ہورہا ہے ۔ریفنڈز کی جلد ادائیگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایکسپورٹر دلچسپی سے برآمدات میں اضافہ کیلئے کوششیں کرسکیں۔انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی بھی ملکی برآمدات میں کمی کا باعث ہے اس لیے صنعتی مقاصد کیلئے بجلی کی قیمتوں میں بھی کمی کی جائے۔

مزید : کامرس