جڑی بوٹیوں کے پیدا ہونے کی تین بنیادی وجوہات تلاش

جڑی بوٹیوں کے پیدا ہونے کی تین بنیادی وجوہات تلاش

لاہور (کامرس رپورٹر)محکمہ زراعت پنجاب نے جڑی بوٹیوں کے پیدا ہونے کی تین بنیادی وجوہات تلاش کر لی ہیں۔ جڑی بوٹیوں کو پیدا کرنے والے ان اسباب کے خاتمے کے لیے آج سے ہی مہم شروع ہو جائے گی۔ یہ مہم 12مارچ تک جاری رہے گی۔ماہرین کے مطابق جڑی بوٹیوں کے پیدا ہونے کے اسباب یہ ہیں : (1)جڑی بوٹیاں جنگلوں ، غیر آباد جگہوں، نہروں، سڑکوں، کھالوں، ریل کی پٹڑیوں کے کنارے اگتی ہیں۔

اور مسلسل کثیر تعداد میں اپنا بیج بناتی رہتی ہیں۔ جہاں سے یہ بیج ہوا، پانی اور جانوروں کے ذریعے کھیتوں تک پہنچ جاتے ہیں۔(2)چراگاہوں میں چرنے والے جانور جڑی بوٹیاں کھاتے ہیں۔ کاشتکاران کا گوبر کھیتوں میں بطور کھاد استعمال کرتے ہیں تو جڑی بوٹیوں کے بیج گوبر کے ساتھ مل کر نئے کھیتوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ (3)بہت سی فصلوں کے بیجوں میں جڑی بوٹیوں کے بیج بھی ملے ہوتے ہیں۔ اس طرح جڑی بوٹیاں ایک کھیت سے دوسرے کھیت تک پہنچ جاتی ہیں۔ جڑی بوٹیوں کے بیج فصلوں کے بیجوں کے ساتھ مل کر نہ صرف ایک کھیت سے دوسرے کھیت تک بلکہ ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچ جاتے ہیں مثلاً دمبی سٹی کا بیج ساٹھ کے عشرے میں میکسیکو سے درآمد شدہ گندم کے بیج کے ساتھ پاکستان پہنچ گیا اور آج ہمارے ملک کے لئے بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب محمد محمود نے کہا ہے کہ جڑی بوٹیوں کے خاتمے کے متعلق عوام میںآگہی کے لیے واک کا اہتمام کیا جائے گا اور اس مہم میں محکمہ زراعت کے تمام ملازمین عملی طور پر شرکت کریں گے۔ اس مہم کے ذریعے جڑی بوٹیوں میں پناہ لینے والے کیڑے مکوڑوں کی تلفی بھی یقینی ہو جائے گی اور آئندہ آنے والی کپاس کی فصل کیڑے مکوڑوں کے حملے سے محفوظ رہے گی۔

مزید : کامرس