ای سی او ممالک وسائل سے مالا مال ہیں:خرم دستگیر خان

ای سی او ممالک وسائل سے مالا مال ہیں:خرم دستگیر خان

لاہور(کامرس ڈیسک)وزیر تجارت خرام دستگیر خان نے کہا ہے کہ ای سی او ممالک ہر قسم کے وسائل سے مالا مال ہیں اور یہ ملک باہمی تعاون کے زریعے اس خطے کو امن اور خوشحالی کا مرکز بناسکتے ہیں۔پاکستان کی میزبانی میں ای سی او سربراہی کانفرنس کی کامیابی سے ہمارا حوصلہ بلند ہوا ہے اور مل کر ترقی کرنے کی خواہش بڑھی ہے۔ وزیر تجارت خرام دستگیر خان نے یہ بات ایف پی سی سی آئی کیپیٹل ہاؤس میں ای سی او چیمبر کی تین روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر زبیر طفیل، یو بی جی کے چئیرمین افتخار علی ملک، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدورمرزا اشتیاق بیگ، عرفان سروانا، منظور الحق ملک، رشید پراچہ، معصومہ سبطین، شوکت مسعود، سجاد سرور اور دیگر تاجر رہنما بڑی تعداد میں موجود تھے۔ خرم دستگیر خان نے کہا کہ ای سی او ممالک کی ترقی کیلئے معاشی تحفظ پر ضرورت سے زیادہ زور دینے کی پالیسی تبدیل کرنا ہو گی۔ تمام ممالک کو محصولاتی و غیرمحصولاتی رکاوٹیں دور کرنا ہونگی جبکہ ویزا کے حصول اور کسٹمز کے معاملات کو آسان بنانا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ ای سی او ممالک ترقی کے کئی مواقع ضائع کر چکے ہیں اور مزید غلطیوں کی گنجائش نہیں ہے۔ ہم دنیا کے تیری سے بدلتے ہوئے حالات سے لا تعلق نہیں رہ سکتے اور مل کر ترقی کرنا موجودہ مسائل کا واحد حل ہے۔ اس موقع پر زبیر طفیل جو ای سی او چیمبر آف کامرس کے صدر بھی ہیں نے کہا کہ اس خطے میں ترقی کا بڑا پوٹینشل موجود ہے۔ تمام ممالک امن و ترقی چاہتے ہیں جس کیلئے باہمی رابطے اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کو جلد از جلد بہتربنانا بہت ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ متعدد قراردادوں کے علاوہ وژن 2025 اور تجارت کو دگنا کرنے کا عزم حوصلہ افزاء ہے۔کانفرنس کے مشترکہ اعلامیہ کے مطابق خطے کی معاشی ترقی،علاقائی روابط،امن واستحکام کے لیے تمام رکن ممالک مل کر کام کریں گے، تنظیم کی سلور جوبلی کے موقع پر خواہش مند ممالک اور تنظیموں کو رکنیت دی جائے گی ۔ تنظیم کے نصب العین کو سامنے رکھتے ہوئے معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کا فیصلہ،اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کے تحت ریاستوں کی خود مختاری کا احترام،تنازعات کے حل پر زور، عالمی سطح پر درپیش چیلنجز سے نمٹنے، علاقائی روابط کے لیے سیاسی،معاشی،ثقافتی،تکنیکی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا جو خوش آئندہ ہے۔توانائی،ریل،روڈ،بندرگاہوں کے ذریعے رابطے بڑھانے،رکن ممالک میں تعلیمی،سائنسی اداروں،عوامی رابطے کے فروغ،رکن ممالک کے درمیان تجارت اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔زبیر طفیل نے کہا کہ تمام ممالک متفقہ طور پر کئے گئے فیصلوں کو عملی جامہ پہنائیں۔

مزید : کامرس