نیو رو انسٹیٹیوٹ کی خود مختاری ، وزیر اعلٰی کے حکم پر کمیٹی قائم

نیو رو انسٹیٹیوٹ کی خود مختاری ، وزیر اعلٰی کے حکم پر کمیٹی قائم

  

لاہور(جاوید اقبال)وزیر اعلیٰ پنجاب نے ملک کے واحد دماغی امراض کے ادارے لاہور جنرل ہسپتال میں واقع پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز کو خود مختاری دینے کی بجائے اس ادارے کی عمارت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے حوالے سے روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی خبر پر ایکشن لے لیا ہے اس حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب نے سیکرٹری صحت نجم احمد شاہ کو تحریری طور پر احکامات جاری کئے ہیں جس پر فوری عمل درآمد کرتے ہوئے سیکرٹری صحت نے مسائل اور معاملات کا جائزہ لے کر پمز کو خود مختاری دینے کے حوالے سے سابق چیئر مین پی اینڈڈی اور ایل جی ایچ کے بورڈ آف مینجمنٹ کے چیئر مین سلیمان غنی کی سربراہی میں 7رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں ایل جی ایچ کے پرنسپل پروفیسر غیاث النبی طیب ،پمز کے پراجیکٹ ڈائریکٹر پروفیسر شہزاد شمس ،نیورو سرجن پروفیسر انور چوہدری ،پروفیسر خالد محمود ،ڈائریکٹر فنانس محترمہ افشاں کو شامل کیا گیا ہے ۔کمیٹی نے گزشتہ روز معاملات اور مسائل کا جائزہ لینے کے لئے سفارشات مرتب کرنے کے لئے پہلا باضابطہ اجلاس طلب کیا جس کی صدارت کمیٹی کے سربراہ اور بی او ایم کے چیئر مین سلیمان غنی نے کی جس میں کمیٹی کے تمام ممبران سمیت تمام سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی ۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں پمز کے تمام سرجنز نے موقف اختیار کیا کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز کی عمارت جو پی سی ون کے تحت قائم کی گئی اس پی سی ون میں اس عمارت میں نیورو سائنسز کا ادارہ قائم کیا جانا ہے جس کی ابتداء ہو چکی ہے ۔پی سی ون میں جو3500 ملین روپے کے فنڈز جاری ہوئے ہیں یہ تمام کے تمام پمز کے لئے جاری ہوئے ۔3ہزار کے قریب مختلف آسامیاں بھی اس ادارے کے لئے منظور کی گئیں جس کے تحت اس عمارت میں نیورو سرجری سے متعلقہ شعبہ جات قائم کئے جانے ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق ملک کی سب سے پہلی 3.0ٹیسلا ایم آر آئی بھی لگائی جانی ہے مگرعملی طور پر کچھ نہیں کیا جا رہا ۔ کمیٹی کے چیئر میں نے بتایا کہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ،برن یونٹ جناح ہسپتال سمیت کئی ایسے ادارے موجود ہیں جن کے بیڈز 70سے لیکر 250تک ہیں وہ خود مختار ہیں مگر پمزجو 500بیڈز پر مشتمل نیورو سرجری کا ملک میں پہلا ادارہ بننے جا رہا تھا اس کی خود مختاری روکی جا رہی ہے اور نیورو سرجری کو ملک کے اندر تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اس کو روکا جائے ۔ادارے کو خود مختاری دی جائے اور پرنسپل کو منع کیا جائے کہ وہ پمز کی عمارت میں امیر الدین میڈیکل کالج کی کلاسیں شروع کرنے سے گریز کریں ۔پی جی ایم آئی کی پیتھالوجی لیب قائم نہ کی جائے جس پر کمیٹی کے چیئر مین سلیمان غنی نے موقع پر موجود پرنسپل سے وضاحت طلب کی اور کہا کہ ایسا کیوں کیا جا رہا ہے ۔وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا نیورو سرجری کے لئے پنجاب کے اندر ایک بڑا اور معیاری ادارہ بنانے کا خواب کیوں چکنا چور کیا جا رہا ہے جس پر پرنسپل خاطر خواہ جواب نہ دے سکے۔دریں اثناء کمیٹی اور بی او ایم کے چیئر مین سلیمان غنی نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لاہور جنرل ہسپتال سمیت اس حدود میں واقع اداروں کو ابھی مکمل خود مختاری حاصل نہیں ہے ۔پہلے ان اداروں کو مکمل خودمختاری دیں گے اس کے بعد پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز کو انتظامی اور مالی امور میں خود مختاری دینے کا ارادہ رکھتے ہیں تاہم ابھی کمیٹی کی سفارشات نہیں آئیں تحقیقات ہو رہی ہیں ۔رپورٹ آنے پر کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں وہ فیصلہ کریں گے جو مریض اور عوام کے وسیع تر مفاد میں ہو گا۔چیئر مین نے کہا کہ لاہور جنرل ہسپتال اور اس سے متعلقہ اداروں کو مکمل خود مختاری دیں گے اور انہیں ملک کے جدید ترین ادارے بنائیں گے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -