لاہور میں فائنل

لاہور میں فائنل
 لاہور میں فائنل

  

پارک کی رونق میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ ہمارے وہ دوست جو سردی کی وجہ سے کمبل کے ہو گئے تھے، اب ٹریک پر چوکڑیاں بھرتے نظر آتے ہیں۔ مالی حضرات بھی بہت محنت کر رہے ہیں، پرانے پودوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے بہت سے نئے پودے بھی لگائے ہیں جو آہستہ آہستہ پروان چڑھتے نظر آتے ہیں، البتہ پارک میں ایک چیز کی بہت کمی ہے اور وہ ہے باتھ روم۔۔۔ پہلے یہاں بہت سے باتھ روم تھے جو کچھ تو خاکروب حضرات کی غفلت اور کچھ حالات کے ہاتھوں ناکارہ ہو گئے، پھر دہشت گردوں کے خوف کی وجہ سے ان باتھ روموں کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا۔ اس وقت ایک باتھ روم موجود ہے جو زیادہ تر پارک کے ملازمین کے زیر استعمال رہتا ہے اور عام لوگوں کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ پارک دراصل ایک ملا جلا پارک ہے، جس میں خواتین و حضرات مل جل کے واک کرتے ہیں۔ پارک کا ماحول بہت اچھا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ایک ہی خاندان کے لوگ واک کررہے ہیں، کبھی کبھار کوئی ’’اچکا‘‘ قسم کا ’’واکیا‘‘ آ جائے تو دوچار دن بعد خود ہی غائب ہو جاتا ہے۔واک کے بعد سجنے والی ’’منڈلی‘‘ ایک بار پھر عروج پر ہے۔ کرکٹ کے حوالے سے بحث مباحثہ عروج پر ہے۔ چند روزپاناما لیکس کے حوالے سے مباحثہ عروج پر تھا اور اس پر بہت زوردار بحث ہوتی تھی ،بلکہ ایک دو بار تو ’’ہاتھ دار‘‘ بحث بھی ہوئی، مگر بیچ بچاؤ ہو گیا۔ پاناما کیس کا فیصلہ چونکہ ’’محفوظ‘‘ قرار دے دیا گیا ہے، سو مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے دوستوں کا خیال ہے کہ نوازشریف اب ’’محفوظ‘‘ ہو چکے ہیں، جبکہ ہمارے لیڈر عمران خان کے دیوانوں کا خیال ہے کہ نوازشریف کے حوالے سے کسی بھی وقت کوئی بہت بُری خبر آسکتی ہے۔ جماعت اسلامی کے ہمدردوں کا خیال ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں آچکا ہے، حالانکہ ان کے وکیل نے کیس کو خندہ استہزا کا موضوع بنا دیا۔ اس وقت پاناما سے زیادہ ’’کرکٹ‘‘ زیر بحث ہے تو آج کل کرکٹ کے حوالے سے ہی زیادہ تر بات ہوتی ہے اور یہ حقیقت بھی ہے کہ اس وقت ملک کا سب سے اہم مسئلہ کرکٹ بنا ہوا ہے۔ منڈلی میں چونکہ شیخ صاحب کرکٹ کے کھلاڑی رہ چکے ہیں اور ان کی گفتگو اور تبصرے سننے والے ہوتے ہیں۔ شیخ صاحب ماشاء اللہ اسی سال کے قریب ہیں۔ عام حالات میں اگر انہیں چھینک آئے تو کمر پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں، مگر آج کل ان کی انگڑائیاں دیکھنے والی ہیں۔ شیخ صاحب کرکٹ کے حوالے سے جو بھی پیش گوئی کریں، نتیجہ اس کے بالکل مختلف آتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ خود دعویٰ کرتے ہیں کہ نتیجہ وہی آیا ہے جو انہوں نے کل بتایا تھا۔ پوری ’’منڈلی‘‘ احتجاج کرتی ہے کہ کل آپ نے جو فرمایا تھا، نتیجہ تو اس کے بالکل برعکس ہے، مگر ان کا اصرار ہوتا ہے کہ نتیجہ وہی آیا ہے جو انہوں نے کل بتایا تھا۔

شیخ صاحب اس بات پر بہت خفا تھے کہ عمران خان نے لاہور میں فائنل میچ کے حوالے سے مخالفانہ بیان دے کر دراصل کوئی اچھی مثال قائم نہیں کی، وہ ایک سابق کرکٹر ہیں اور انہوں نے کرکٹ کے ذریعے ہی اپنا نام اور مقام بنایا اور اس وقت بھی اس ملک کے نوجوان انہیں کرکٹ کے ہیرو کے طور پر پسند کرتے ہیں اور نوجوانوں کا خیال ہے کہ عمران خان ایک نڈر اور دلیر انسان ہیں۔ انہیں اس موقع پر اس طرح کا بیان نہیں دینا چاہیے تھا، انہیں اب بھی اپنا بیان واپس لینا چاہیے اور میچ والے دن ہر قیمت پر قذافی سٹیڈیم میں موجود ہونا چاہیے، اگر وہ غیر ملکی کھلاڑیوں کو بھی لاہور میں کرکٹ کھیلنے کے لئے راغب کریں تو یہ پاکستان کرکٹ کے حوالے سے بہت بڑی خدمت ہے۔ شیخ صاحب کا خیال ہے کہ عمران خان اور آصف علی زرداری دونوں نے جس طرح لاہور میں کرکٹ کے فائنل میچ کے حوالے سے مخالفانہ موقف اختیار کیا ہے، وہ بہت نامناسب ہے، کیونکہ یہ کرکٹ میچ نوازشریف، شہباز شریف کا خاندانی مسئلہ نہیں ہے۔ پاکستان میں کرکٹ کے فروغ کے لئے ہر ایک کو اپنا بھرپورکردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے پاکستان کے نوجوانوں کا ایک طرح سے مستقبل بھی وابستہ ہے۔ بہت سے نوجوان کھلاڑی جو اپنے بہترین مستقبل کے لئے کرکٹ میں آنا چاہتے ہیں، موجودہ صورت حال سے بہت پریشان ہیں اور پاکستان میں کرکٹ کے مستقبل کے حوالے سے ان کی پریشانی درست بھی ہے تو ان حالات میں عمران خان کو خاص طور پر کرکٹ کے حوالے سے بالخصوص لاہور میں فائنل دیکھنے کے لئے اپنے فیصلے میں ترمیم کرنی چاہیے۔ لاہور میں فائنل کے حوالے سے بعض لوگوں نے تنقید بھی کی ہے، مگر میرا خیال ہے کہ فائنل لاہور میں کرانے میں کوئی ہرج نہیں ہے۔ یہ ایک مثبت فیصلہ ہے اور حکومت پنجاب کو چاہیے کہ وہ اپنی بہترین انتظامی حکمت عملی کے تحت اس فائنل کے انعقاد میں کوئی کسر نہ چھوڑے۔ ہم کرکٹ کے حوالے سے پیچھے مڑ کے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لاہور ہی تھا، جہاں ایک میچ کے دوران دہشت گردوں نے غیر ملکی ٹیم پر حملہ کر دیا تھا، پھر پاکستان پرکرکٹ کے دروازے بند ہو گئے۔ بعض لوگوں نے اس حوالے سے شہباز شریف کو ذمہ دار قرار دیا ہے، مگر یہ بات درست نہیں ہے۔

سری لنکن ٹیم کے خلاف جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس وقت مرکز میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی۔ آصف علی زرداری صدر اور یوسف رضا گیلانی وزیراعظم تھے۔ پنجاب میں شہبازشریف کی حکومت کو معطل کرکے گورنر راج لگا دیا گیا تھا اور پنجاب میں سلمان تاثیر بطور گورنر پورے اختیارات استعمال کررہے تھے اور امن و امان کی تمام تر ذمہ داری ان پر تھی، ان کے دور میں ہی سری لنکن ٹیم کے خلاف یہ واقعہ پیش آیا۔ اب وزیر اعظم نوازشریف اور آرمی چیف نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ فائنل لاہور میں ہونا چاہیے تو پنجاب حکومت نے بھی آمادگی ظاہر کر دی، البتہ اس حوالے سے بعض معاملات درست نہیں ہیں۔ انتظامی معاملات کو بنیاد بنا کے ہر جگہ پولیس گردی قابل مذمت ہے۔ پولیس نے پورے شہر کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور شہریوں کو بہت تنگ کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی شہر کے ہوٹل مالکان کو بھی پریشان کیا جا رہا ہے، جو مناسب بات نہیں ہے، کیونکہ لاہور میں فائنل دیکھنے کے لئے پورے پاکستان سے لوگ آ رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ لوگ یہاں ہوٹلوں میں ہی قیام کریں گے۔ اب اگر ہوٹلوں پر یہ پابندی لگا دی جائے کہ وہ کسی بھی مسافر کو ٹھہرا نہیں سکتے تو پھر باہر سے آئے ہوئے لوگ کہاں قیام کریں گے؟۔۔۔میرے خیال میں اس طرح کی پابندیوں کا کوئی جواز نہیں اور باہر سے آئے ہوئے لوگوں کو پریشان کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے شادی ہال والوں پر بھی پابندی لگا دی ہے کہ وہ چند مخصوص دنوں میں اپنے ہال بند کر دیں۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے ایک ایک ماہ پہلے اپنی شادی کی تقریبات کے لئے ہال بک کررہے ہیں وہ کیا کریں؟۔۔۔ حکومت کو عام آدمی کے مسائل میں اضافہ نہیں کرنا چاہیے اور شہر میں معمول کی سرگرمیوں کو روکنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ قذافی سٹیڈیم کے اردگرد کے علاقوں میں اپنی سیکیورٹی کو موثر بنانا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ سٹیڈیم کے قریب کسی بھی طرح کے مشکوک افراد کی رسائی نہ ہو۔ شرپسند عناصر کے خلاف موثر کارروائی کے طور پر جو بھی مناسب اقدامات ہیں وہ پورے کریں ، لیکن شہر کے دیگر حصوں میں پولیس بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے خود حکومت کے لئے عوامی سطح پر غم و غصہ بڑھتا ہے اور اس کی نیک نامی میں کمی آتی ہے۔

مزید : کالم