سٹیل ملز، ملازمین کی تنخواہ!

سٹیل ملز، ملازمین کی تنخواہ!

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سٹیل ملز ملازمین کی تنخواہوں کے حوالے سے فیصلہ کیا اور ایک ماہ کی تنخواہ کے لئے38کروڑ روپے کی منظوری دے دی ہے۔یوں ملازمین کو چار ماہ میں سے ایک ماہ کی تنخواہ ادا کر دی جائے گی، جہاں تک ملازمین کے عوضانہ کا تعلق ہے تو یہ فیصلہ درست ہونے کے باوجود ناکافی ہے کہ اب بھی بقایا جات ہیں،لیکن سوال تو یہ ہے کہ سٹیل ملز کو بند ہوئے کئی سال ہو گئے، آمدنی ختم اور اخراجات جاری ہیں اور یہ سب حکومت کی طرف سے سبسڈی کے طور پر دیئے جاتے ہیں،لیکن یہ سلسلہ کب تک؟سٹیل ملز کا مسئلہ بہت پرانا اور خسارے کا ہے، بہترین پیداوار اورمنافع کی حامل یہ صنعت بتدریج منافع سے خسارے میں گئی، جس کی وجوہات بھی ظاہر ہیں اور یہ سب کِیا دھرا بھی اقتدار میں آنے والی حکومتوں کا ہے۔ موجودہ حکومت بھی اس کے حوالے سے کوئی ٹھوس فیصلہ نہیں کر پا رہی،رجحان نجکاری کی طرف ہے، جس کی مخالفت بھی پُرزور ہو رہی ہے، تعجب تو یہ ہے کہ اسے خسارے سے منفعت بخش بنانے کی طرف نہ توجہ دی گئی اور نہ کوئی منصوبہ بنایا گیا۔ سرکاری خزانے سے رقوم دی جاتی رہی ہیں کہ ملازم ہیں تو تنخواہ بھی دینا ہو گی۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ بار بار کروڑوں روپے دیئے جانے کی بجائے باقاعدہ تجارتی نقطہ نظر سے منصوبہ بندی کی جائے، ضرورت کے مطابق ملازمین رکھ لئے جائیں اور باقی حضرات کو ’’گولڈن ہینڈ شیک‘‘ کے فارمولے کے تحت واجبات ادا کر دیئے جائیں۔ بار بار گنا نہ دے کر ’’گڑ کی روڑی‘‘ دینا بھی تو حل نہیں ہے۔

مزید : اداریہ