حکمران اور بیورکریٹس نے4 6ہزار ارب روپے باہر منتقل کر دیئے

حکمران اور بیورکریٹس نے4 6ہزار ارب روپے باہر منتقل کر دیئے

ملتان(جنرل رپورٹر)64ہزار ارب روپے سے زائد پاکستان سے باہر منتقل‘ واپسی کے لئے کوئی لائحہ عمل نہ بن سکاحکمران طبقہ سمیت بیوروکریسی نے بھی کرنسی باہر بھیجنے میں کوئی کسر (بقیہ نمبر21صفحہ12پر )

نہ چھوڑی ‘ایشیا سمیت دنیا کے بیشتر غریب ممالک نے سوئس بینکوں سے اپنے پیسے واپس لے لئے ہیں پیسوں کی واپسی کا عمل کہیں رضا کارانہ تو کہیں عدالتی کارروائی کے بعد ممکن ہوسکا مگر پاکستان اپنے متعدد وعدوں کے باوجود ایک روپیہ بھی واپس نہ لے سکا ہے حالانکہ سوئس بینکوں سے پیسوں کی واپسی کے لئے قومی خزانے سے اربوں روپے بھی خرچ کئے جاچکے ہیں۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ پاکستان سے 200ارب ڈالر لوٹ کر باہر بھیجے گئے ہیں مگر غیر جانبدار ذرائع کے مطابق 200نہیں600ارب ڈالر لوٹ مار کے ذریعے پاکستان سے باہر بھجوائے گئے ہیں یہ رقم پاکستان روپوں میں64200ارب روپے بنتی ہے۔یہ لوٹی ہوئی رقم پاکستانی بجٹ سے قریباً50فیصد سے بھی زائد بتائی جاتی ہے۔ یہ رقم سوئس بینکوں کے علاوہ دوبئی ‘ملائیشیا اور پانامہ سمیت دیگر ممالک میں چھپائی گئی ہے ۔چین‘ بھارت ‘جاپان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک نے رقم کی ترسیل کے لئے حد مقرر کردی ہے مگر پاکستان میں آج تک ایسا ممکن نہیں ہوسکا ہے رقم واپس لینے والے ان ممالک میں نائیجریا‘ فلپائن‘ پیرو‘میکسیکو‘مالی ‘ارجینٹینا اور دیگر شامل ہیں مگر پاکستان میں آج تک سوئس بینکوں سے ایک روپیہ بھی واپس نہیں لایا جاسکا البتہ ان روپوں کی واپسی کے لئے قومی خزانے سے اربوں روپے مزید لوٹے جاچکے ہیں۔

مزید : ملتان صفحہ آخر