ریٹائمنٹ کے باوجود کارڈیالوجی سنٹر کے چیف کارڈیک سرجن کی غیر قانونی بھرتی کیخلاف درخواست‘ عدالت کا بھرتی کوفیصلہ سے مشروط کرنے‘ ہیلتھ حکام کو 30 مارچ تک جواب پیش کرنیکا حکم

ریٹائمنٹ کے باوجود کارڈیالوجی سنٹر کے چیف کارڈیک سرجن کی غیر قانونی بھرتی ...

  

ملتان (نمائندہ خصوصی ) ہائیکورٹ ملتان بینچ نے کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ ملتان (بقیہ نمبر41صفحہ12پر )

کے چیف کارڈیک سرجن کی ریٹائرمنٹ کے باوجود ڈیوٹی دینے اورغیرقانونی طورپر بھرتی کرنے کے خلاف درخواست پر بھرتی کوفیصلہ سے مشروط کرنے اورمحکمہ صحت حکام کو 30 مارچ تک جواب پیش کرنیکا حکم دیاہے۔فاضل عدالت میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ ملتان ڈاکٹر عبدالغفارنے وکیل ریاض الحسن گیلانی کے ذریعے درخواست دائر کی تھی کہ وہ مذکورہ ہسپتال میں گریڈ 19 میں کام کررہاہے جبکہ تعیناتی سے اب تک اس کو مختلف طریقوں سے تنگ کیا جاتارہا اور جونئیرزکو ترقی دے کر اس کوامتیازی سلوک کا نشانہ بنایاگیا جبکہ آج تک ڈے روم اوردفتر تک نہیں دیاگیاجس کے خلاف درخواستیں بھی دیں تاہم اب چیف کارڈیک سرجن ڈاکٹر حیدرزمان کے 13 دسمبر 2016ء کو ریٹائرمنٹ کے بعداس کی بجائے گریڈ18 کے ڈاکٹر کو چارج دے دیاگیا اورڈاکٹر حیدرزمان کو دوبارہ تعینات کرنے کے لئے اس آسامی کو مشتہرکردیاگیا ہے جس میں غیرقانونی طورپر بالائی عمر کی حد 60 کی بجائے 63 سال کردی گئی ہے اورڈاکٹرحیدرزمان نے آج تک ریٹائرمنٹ کے باوجود چارج نہیں چھوڑاہے اورکام کررہے ہیں۔اس لئے مذکورہ بھرتی غیر قانونی قراردینے کیساتھ درخواست گذارکو ترقی دے کر اس عہدے پر تعینات کرنے اورریٹائرمنٹ کی وجہ سے چارج بھی لینے کی ہدایت کی جائے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -