ایک اور میگا سکینڈل،میپکو کے کروڑوں روپے ڈوب گئے

ایک اور میگا سکینڈل،میپکو کے کروڑوں روپے ڈوب گئے

ملتان(نمائندہ خصوصی)میکپو کے کینٹ سرکل کے بعد ایک اور سکینڈل کا انکشاف ہوا ہے سابق چیف ایگزیکٹو چوہدری گفتار احمد انجم،سابق ڈائریکٹر فنانس سید مشتاق بخاری نے ٹرسٹ انوسمنٹ بنک کے افسران کی ملی بھگت سے ڈسٹری بیوشن کمپنئی کو21کروڑ روپے سے زائد مالیت کا نقصان (بقیہ نمبر53صفحہ12پر )

پہنچایا۔بنک کے دیوالیہ ہونے کے بعد میپکو کے کروڑوں روپے ڈوب گئے۔2011ء میں میپکو میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کے چور پر خدمات سرانجام دینے والے چوہدری گفتار احمد انجم اور اس وقت کے ڈائریکٹر فنانس سید مشتاق حسین بخاری نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے میپکو کے215ملین روپے ٹرسٹ انوسمنٹ بنک میں فکس کرائے اس کیس میں جہاں میپکو کے مذکورہ افسران نے بدنیتی کا مظاہرہ کیا وہیں ٹرست انوسمنٹ بینک کے ڈائریکٹر آصف اکمل،میر جاوید حشمت،خالد رفیق،مبارک علی،شاہد اقبال،شاہ زیب مسعود،ممتاز احمد اور محمد ہمایوں نے منسٹری آف فنانس کے طے شدہ قوانین،طریقہ کار کو بائی پاس کرتے ہوئے میپکو کے افسران کا سامنا،میپکو کی رقم جمع ہونے کے ایک سال بعد6اکتوبر2012ء کو ٹرسٹ انوسمنٹ بینک دیوالیہ ہوگیا اور میپکو کو اس کی رقم ادا کرنے سے معذوری کا اظہار کرلیا بعد ازاں میپکو حکام نے سکیورٹی ایکسچینج کمیشن پاکستان(ایس ای سی پی) سے رابطہ کیا لیکن رقم واپس لینے میں ناکام رہے۔آخر کار میپکو حکام نے کیسز نیب کے حوالے کردیا۔اس کیس کو نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے انکوائری میں تبدیل کردیا،نیب ملتان آفس نے مذکورہ افسران کو طلب کرلیا ہے۔دوسری جناب نیب نے سابق آئی جی بلوچستان کے ناجائز اچاثہ جات کے خلاف انکوائری بھی شروع کردی ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر