سرائیکی صوبہ یا بہاولپور؟ پیپلز پارٹی فیصلہ کرے! سرائیکی نیشنل کانفرنس

سرائیکی صوبہ یا بہاولپور؟ پیپلز پارٹی فیصلہ کرے! سرائیکی نیشنل کانفرنس

  

جھوک اترا (نمائندہ پاکستان)سرائیکستان عوامی اتحاد کے زیر اہتمام جھوک اترا میں چھٹی سالانہ سرائیکی نیشنل کانفرنس سے سرائیکستان عوامی اتحاد کے مرکزی رہنماؤں خواجہ غلام فرید کوریجہ ،ظہور احمد دھریجہ ،سید مہدی الحسن شاہ،محمد اکبر خان ملکانی،حاجی نذیر احمد کٹپال ،ملک محمد رمضان جڑھ،سردار امجد خان لنڈ،سیدہ عابدہ بخاری،جام ایم ڈی گانگا،سید فرحت عباس نقوی،میزبان عبدالحئی خان چانڈیہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی فیصلہ کرے کہ وہ سرائیکی صوبے کی حامی ہے یا پہاولپور صوبے کی،ہم مخدوم احمد محمود کی طرف سے بہاولپور صوبے کا راگ الاپنے کی مذمت کرتے ہیں ۔بہاولپور و ملتان صوبے کے نعرے کا تخت لاہور کا ایجنڈہ قرار دیتے ہیں ہم وسیب کی یک جہتی پر یقین رکھتے ہیں اور وسیب کی شناخت کے مطابق سرائیکستان لے کر رہیں گے۔ہم پنجاب میں آپریشن کی حمایت کرتے ہیں ۔اگر صرف سرائیکی وسیب کو نشانہ بنایا گیا تو احتجاج کریں گے۔سرائیکی رہنماؤں نے کہا لاہور میں کرکٹ میچ ہو سکتا ہے اور رنجیت سنگھ کی برسی منائی جا سکتی ہے مگر سرائیکی کے عظیم شاعر خواجہ غلام فرید کے عرس پر کیوں پابندیاں ہیں ۔سرائیکی قوم آبادی کے مطابق اپنا حق مانگتی ہے۔ سی ایس ایس کا کوٹہ دیا جائے فوج میں سرائیکی رجمنٹ بنائی جائے ،عدلیہ میں آبادی کے مطابق آسامیاں دی جائیں فان سروسسز میں ملازمتوں کا حصہ دیا جائے ،این ایف سی ایوارڈ ڈسٹرکٹ کی سطح پر تقسیم کیا جائے سرائیکی قوم کو شناخت کا حق دے کر صوبہ سرائیکستان دیا جائے ،ایک قرار داد کے ذریعے سی پیک میں سرائیکی وسیب کو پورا حصہ دیا جائے۔ملتان ڈیرہ غازیخان روڈ کو دو رویہ کیا جائے ۔ڈیرہ غازیخان میں سی پیک صنعتی بستی قائم کی جائے ،انڈس ہائی وے کو نقشے کے مطابق آٹھ رویہ بنایا جائے اس پشاور سے کراچی تک 450کلو میٹر کی صافت کم ہو جاتی ہے ۔سرائیکی وسیب کو تقسیم کرنے کی ہر سازش نا کام بنا دینگے۔فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں شامل کرنے سے پہلے صوبہ سرائیکستان قائم کر کے ٹانک و ڈی آئی خان کو اس میں شامل کیا جائے صوبہ سرائیکستان زبان کا نہیں جغرافیائی تنازع ہے ،پنجابی زبان کے خلاف نہیں نظام کے خلاف ہیں ،پنجاب بڑا صوبہ سرائیکی اور پنجابی کو پرائمری سطح پر پڑھایا جائے پنجاب میں پنجابیوں کو مادری زبان کا حق نہیں دیا گیا۔سرائیکستان صوبہ بنا تو کوئی پنجابی پڑھے گا تو اسے پڑھائنیگے آئندہ الیکشن میں بھر پور کردار اد اکرینگے پارلیمانی سرائیکی جدوجہد سے حقیقی کامیابی ممکن ہے ۔رنجیت سنگھ کے مقبوضہ علاقوں کی وا گزاری چاہتے ہیں اقلیتوں کو مکمل تحفظ دیا جائے چولستان میں قدیمی ہندؤں کو زمینوں کی آبادی کی بنیاد پر حصہ دیا جائے۔سندھی ،بلوچ،پشتون اور سرائیکیوں کو متفق دیکھنا چاہتے ہیں ۔اس موقع پرسید مطلوب حسین شاہ بخاری،سردار شریف خا ن لغاری، ڈاکٹر احسان احمد خان چنگوانی ،مہر خان چنگوانی ،عبدالغفور خان لغاری ،منظور حسین جتوئی ،محمد بخش براٹھا،خلیل خان چنگوانی،غلام شبیر فریدی ،تنویر احمد بھٹی،خادم حسین ڈھولن ،امین خان میرانی ،مقصود خان لغاری ،ملک محمد ہاشم بھٹہ،سید عامر فرید مشہدی ،سید طاہر فرید مشہدی نے بھی خطاب کیا ۔تلاوت کلام کی سعادت حافظ اللہ بچایا پنڑ نے حاصل کی ،سٹیج سیکریٹری کے فرائض حاجی اللہ وسایا لنگاہ نے ادا کئے ۔سرائیکی انقلابی شاعر عاشق حسین صدقانی،فضل عباس ظفر،حافظ غلام محمد نے اپنی انقلابی شاعری سے پوری کانفرنس کو گرما دیا۔جاوید شانی نے جب سرائیکی ترانہ پڑھا تو کانفرنس میں موجود لوگ جھومتے رہے ۔اس موقع پر سردار بشیر خان علیانی چیئر مین،سردار غلام مرتضیٰ خان وائس چیئر مین،رانا محمد رمضان دانی،ڈاکٹر اسجد ترین،اسرار خان رمدانی،عبدالرزاق ڈاہا،ملک غلام عباس ملانہ،ماسٹر فیاض احمد جتوئی،سیف اللہ خان ملکانی،سردار اللہ بخش خان جتوئی سردار ذیشان خان ملکانی وائس چیئر مین ،عامر مسعود خان جتوئی،عاشق جتوئی کونسلر،جام حاجی خان کچھیلا،سابق ناظم ،ڈاکٹر حاکم، علی مہیسر صغیر خان احمدانی،اکبر خان جتوئی،میر محمد آصف تالپور،ماسٹر عبدالمجید جتوئی،عبدالرحیم خان چانڈیہ،عبدالکریم خان چانڈیہ،عبدالرشید جتوئی،عابد خا ن میرانی،غلام مصطفیٰ خان میرانی،خادم حسین خان جتوئی صدر،رانا جاوید احمد صاحب،استاد سجاد احمد بھٹہ،ملک اظہر محمود ارائیں ،رانا حاجی محمد موسیٰ اترا کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔سرائیکی نیشنل کانفرنس میں پاکستان عوامی سرائیکی پارٹی کے چیئر مین محمد اکبر خان ملکانی سیاسی وسماجی رہنما ملک محمد رمضان جڑھ نے بہت بڑے جلوس کے ساتھ پنڈال میں داخل ہوئے ۔آخر میں خواجہ تاج رسول شاہجمالی نے سرائیکی صوبے کے قیام کیلئے دعا مانگی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -