امریکی اٹارنی جنرل کا دباؤ پر تحقیقات سے الگ ہونے کا اعلان

امریکی اٹارنی جنرل کا دباؤ پر تحقیقات سے الگ ہونے کا اعلان

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) ٹرمپ انتظامیہ اپنی ٹیم کے ارکان کے روسی حکام سے رابطے اور صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کے سکینڈل کی بدستور زد میں ہے اور یہ بحران نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جنرل مائیکل فلین کے استعفے سے حل نہیں ہوا اور اب اٹارنی جنرل جیف سیشنز اس کی لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں۔ ان پر دونوں اطراف کے قانون سازوں کی طرف سے شدید دباؤ تھا کہ وہ واشنگٹن میں مقیم روسی سفیر سے ملاقاتوں کی اطلاع چھپانے کی بنا پر مستعفی ہو جائیں یا پھر ان رابطوں کے بارے میں ایف بی آئی اور محکمہ انصاف کی تحقیقات سے الگ تھلگ ہو جائیں۔ انہوں نے گزشتہ شام یہاں ایک پریس کانفرنس میں اس دوسرے آپشن کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔ مخالفین اٹارنی جنرل کے اس اعلان سے مطمئن نہیں ہوئے۔ وہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان تمام معاملات کی تفتیش کے لئے سپیشل پراسیکیوٹر یا خود مختار مشیر مقرر کیا جائے۔ تاہم اٹارنی جنرل کے نائب ڈین بونٹے اب ان تمام تحقیقاتی امور میں شریک ہوں گے جن سے مسٹر سیشنز نے اپنے آپ کو الگ تھلگ کیا ہے۔ اس دوران صدر ٹرمپ نے ورجینیا ریاست کے شہر نیو پورٹ نیوز میں بحریہ کے ایک زیر تعمیر فضائی اڈے کا دورہ کرتے ہوئے اپنے مختصر ریمارکس میں اٹارنی جنرل جیف سیشنز پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔اس دوران کانگریس کے دونوں ایوانوں سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹیوں نے ٹرمپ ٹیم کے روسی حکام سے رابطے یا روس کی صدارتی انتخابات میں مداخلت جیسے تمام معاملات کی مکمل چھان بین کیلئے کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ڈیون ننز اور رینکنگ ممبر آدم شیف نے گزشتہ شام اس امر کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کس طرح اس عمل کو آگے بڑھائیں گے۔ اس تفتیش میں روسی انٹیلی جنس کی کمپیوٹر ہیک کرنے کی کارروائیوں کا کھوج لگایا جائے گا جس کے ذریعے وہ مبینہ طور پر صدر ٹرمپ کو جتوانے کیلئے اثرانداز ہوئی۔ معلوم ہوا ہے کہ سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی نے بھی اپنے طور پر ان معاملات کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

مزید : صفحہ آخر