عمران پہ ہنسنا جائز ہے

عمران پہ ہنسنا جائز ہے
 عمران پہ ہنسنا جائز ہے

  

عمران خان اپنے تئیں پاکستانیوں کو باور کرانا چاہ رہے ہیں کہ وہ ہوش کریں اور پاکستان سپر لیگ کا فائنل دیکھنے نہ جائیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ بے موت مارے جائیں کیونکہ ان کے خیال میں حکومت انہیں ایک ایسی لڑائی میں اتار رہی ہے جو ان کی لڑائی نہیں ہے !۔۔۔عمران خان کا یہی المیہ ہے کہ انہوں نے ابھی تک طالبان کے خلاف لڑائی کو پاکستان کی لڑائی نہیں سمجھا اور وہ حیلوں بہانوں سے پاکستان پر طالبان کی رٹ قائم کرنے کی سعی کرتے نظر آتے ہیں، کبھی ان کے دفاتر کھولنے کی بات کرتے ہیں تو کبھی ان سے مذاکرات پر زور دیتے ہیں اور اب تو حد کردی کہ عوام کو ان سے ڈرنے کی ترغیب دے رہے ہیں ، گویا ان کے نزدیک ضربِ عضب سے ردّالفساد تک کا سفر ایک خونی ندی کے سوا کچھ نہیں جس کے دوسرے کنارے کا کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے!

جو لوگ لاہور میں پاکستان سپر لیگ کے انعقاد پر عمران خان کے بیان کو پاگل پن قرار دے رہے ہیں انہیں سمجھ لینا چاہئے کہ جناب عمران خان کا یہی چلن ہے ، وہ اور ان کے حامی وزیراعظم نواز شریف کو ہر حال میں مجرم ڈکلیئر دیکھنا چاہتے ہیں،جبکہ آئی آر آئی کے حالیہ سروے کے مطابق 60فیصد سے زائد پاکستانی وزیراعظم کو پانامہ کے مقدمے میں کلیئر دیکھنا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے انصاف کی عدالت کو بھی تحریک انصاف سمجھ لیا ہے ، کہیں وہ سپریم کورٹ سے انصاف مانگتے مانگتے تحریک انصاف کا صفایا نہ کروا بیٹھیں!

عمران خان اس دھوکے میں نہ رہیں کہ سپریم کورٹ نے فیصلہ ان کے حق میں روکا ہوا ہے،کیونکہ وہ معزز عدالت میں کچھ بھی ثابت نہیں کر سکے ہیں ،یہ الگ بات کہ وہ اس کے باوجود وزیراعظم نواز شریف کے حق میں سزا کی دُعا کرکرکے ہلکا ن ہو رہے ہیں، انہیں سپریم کورٹ کی نہیں دو گولی ڈسپرین کی ضرورت ہے ، ان کے حامی ٹی وی اینکرز حسین نواز کے انٹرویوز کے ٹوٹے چلا چلا کر ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ ان کی باتوں میں تضاد ہے ، گویا کہ نعیم بخاری کی جانب سے سپریم کورٹ میں مقدمہ سنانے کے بعد بھی ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے ، تحریک انصاف مبنی بر انصاف نہیں،بلکہ ایک افواہ ساز جماعت ہے اور اس کی ساری شہرت اس میں ہے کہ اس کی قیادت ہر روز کتنی بڑی افواہ گھڑتی ہے!۔۔۔لگتا ہے کہ انہیں سپریم کورٹ کا مشروط فیصلہ منظور ہوگا نہ مضبوط فیصلہ ، اور یوں وہ کسی بھی قسم کا فیصلہ منظور کرکے اعلیٰ عدلیہ کے معزز جج صاحبان کو مشکور ہونے کا موقع فراہم کرتے نظر نہیں آتے !

عمران خان کی حکومت کے خلاف تنقید سیاسی تنقید سے زیادہ ان کی ذاتی تکلیف محسوس ہوتی ہے ، پاکستان سپر لیگ کے لاہور میں فائنل میچ کے انعقاد کے حوالے سے ان کا خدشہ جائز ہو نہ ہو ، ان پر ہنسنا جائز ہے کہ جب پوری قوم ایک جذبے سے معمور ہے تووہ اس چشمے میں زہر ملا کر امید کو ماردینا چاہتے ہیں!

عمران خان نے انتہائی ٹھیک موقع پر انتہائی غلط بات کرکے عوام کو اپنے نیازی پن کی جھلک دکھائی ہے ، اگر ان کی سیاست ایسی ہے تو ان کی حجامت بھی ایسی ہی ہونی چاہئے ، کاش وہ اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھتے تو بات بے بات پر یوں نہ چیختے ، وہ حکومت کی جانب سے کئے گئے بڑے فیصلے کو ایک کڑا فیصلہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں !

جو لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر متنازع بیان سے عمران خان کا مطلب کیا ہے تو ان کی خدمت میں صرف اتنا عرض کئے دیتے ہیں کہ عمران خان کو مطلب سے کبھی کوئی مطلب نہیں رہا ہے۔ انہوں نے سوچا ہی کب ہے کہ جو کچھ انہوں نے کہا اگر وہ کچھ خدانخواستہ ہو گیا توبھی ان کی نیک نامی نہیں ہو گی اور اگر ان کا مقصد محض حکومت پر تنقید ہے تو ایسی تنقید قابل تردید ہے !

پی ٹی آئی کی سنیں تو یہ بات بنتی نظر آتی ہے کہ سیکیورٹی خدشات کے بہانے عمران خان کو پانامہ مقدمے کے فالو اپ میں جلسے نہیں کرنے دیئے گئے، انہیں غالباً اسی بات کا غصہ ہے کہ حکومت نے مال روڈ لاہور کی طرزپر خدانخواستہ مزید لاشیں کیوں نہیں گرنے دیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ عوامی جلسے کر کے عدالت عظمیٰ کو باور نہیں کرائیں گے کہ عوام وزیراعظم نواز شریف کی خلاف ہیں تو ان کا من پسند فیصلہ نہیں آئے گااور ایسی کوئی بھی صورت حال ان کی سیاسی موت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان دندناتے پھریں، ہنہناتے پھریں،ماحول گرمائیں، اعلیٰ عدلیہ کو سنائیں،لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہو سکا ہے ، انہیں اسی بات کا غم ہے اور اگر یہی غم ہے تو یہ غم کتنا کم ہے!

مزید : کالم