کوہاٹ ،کشتی الٹنے سے دو نوجوان دریائے سندھ میں ڈوب گئے

کوہاٹ ،کشتی الٹنے سے دو نوجوان دریائے سندھ میں ڈوب گئے

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کوہاٹ کے علاقہ شادی پور میں کشتی الٹنے سے دو نوجوان دریائے سندھ میں ڈوب کر لاپتہ ہوگئے۔مچھلیوں کے شکار کیلئے کشتی میں چھ افراد سوار تھے۔حادثے کے بعد دریا میں بہہ جانے والے چار افراد کو بچالیا گیا ہے۔کشتی کے حادثے میں ڈوب کر لاپتہ اور زندہ بچ جانے والے تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے ۔پولیس کی ریسکیوٹیم اور مقامی افراد دریا میں ڈوب کر لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔واقعات کے مطابق کوہاٹ کے نواحی علاقہ پستہ سنڈہ سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے چھ افراد محمد عاطف،صابر ،محمد صادق اور انکے چچا زاد تین سگے بھائی عزیز اللہ،توصیف اللہ اور رحمان اللہ دریائے سندھ میں شادی پور کے مقام پر مچھلیوں کے شکار میں مصروف تھے کہ اس دوران پانی کی تیز لہروں کے باعث اچانک انکی کشتی الٹ گئی۔کشتی الٹنے کے اس حادثے میں دو نوجوان اکیس سالہ محمد عاطف ولد نواب خان اورانیس سالہ صابرخان ولد شیر ولی خان ساکنان پستہ سنڈہ شادی پور دریا کے پانی میں ڈوب کر لاپتہ ہوگئے جبکہ دیگر چار افراد کو پولیس اور مقامی افراد نے زندہ بچا کر پانی سے نکال لیا۔مقامی پولیس کے ایس ایچ اوسب انسپکٹر حاجی راضی گل نے دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے کے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس حادثے میں دو مقامی نوجوان پانی میں ڈوب کر لاپتہ ہوگئے ہیں جنکی تلاش جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ حادثہ اسوقت پیش آیا جب مقامی نوجوانوں کا ایک گروہ دریائے سندھ میں کشتی کے ذریعے مچھلیوں کا شکار کر رہی تھی کہ اس دوران انکی کشتی پانی کے منجدھار میں پنس کر تیز ہواؤں کے باعث الٹ گئی۔انہوں نے بتایا کہ دریا کے پانی میں ڈوب کر لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کو ڈھونڈنکالنے کیلئے پولیس اور مقامی افرادکی بڑی تعداد جائے حادثہ پر موجود ہیں اور غوطہ خوروں کو بھی طلب کرلیا گیا ہے۔ایس ایچ او نے کشتی حادثے کے مقام شادی پور کی علاقائی محل وقوع کے حوالے سے بتایا کہ یہ علاقہ تھانہ گمبٹ سے ملحقہ دور افتادہ علاقہ ہے جسکی سرحدیں ضلع نوشہرہ اور پنجاب کے شہر اٹک سے ملتی ہیں اور یہاں کے مقامی افراد زیادہ ترکشتی کے ذریعے پنجاب تک آمدورفت کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں جبکہ دریائے سندھ میں ماہی گیری کیلئے بھی ان علاقوں کے عوام کشتی کا استعمال کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مچھلی کے غیر قانونی شکار پرعائد پابندی کی خلاف ورزی کے سلسلے میں ان علاقوں کے متعدد افراد کو چالان بھی کیا گیا ہے جسکے بعددریائے سندھ میں مچھلی کے شکاراور کشتی رانی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے کشتی حادثے میں ڈوبنے والے افراد کے حوالے سے بتایا کہ وہ صبح سویرے چوری سے مچھلی کا شکارکرنے نکلے تھے کہ خود پانی کی بے رحم موجوں کا شکار ہوگئے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر