ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کے اجراء کیلئے علامتی ہڑتال شروع

ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کے اجراء کیلئے علامتی ہڑتال شروع

  

پشاور (کرائمز رپورٹر) آل گورنمنٹ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل خیبرپختونخوا کی ہدایت پر ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کے اجراء کے لئے خیبرپختونخوا کے تمام ہسپتالوں اور محکمہ صحت کے دفاتر میں علامتی ہڑتال شروع ، صوبائی دارالحکومت پشاور کے ہسپتالوں لیڈی ریڈنگ ہسپتال، خیبرٹیچنگ ہسپتال ، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس ، مولوی امیر شاہ میموریل ہسپتال، سفوت غیور چلڈرن ہسپتال اور نصیراللہ بابر میموریل ہسپتال سمیت خیبرپختونخوا کے تمام ہسپتالوں اور محکمہ صحت کے دفاتر میں احتجاجی بینرز اویزاں کردیئے گئے، ساتھ ساتھ ٹیکنیکل سٹاف، آئی ٹی ملازمین، کلریکل سٹاف اور کلاس فور ملازمین نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر علامتی احتجاج کیا، 5مارچ تک ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس جاری نہ کرنے کی صورت میں تمام ہسپتالوں اور محکمہ صحت کے دفاتر میں مکمل کام چھوڑنے کا اعلان کردیا گیا۔ایپکا کے صوبائی صدر حاجی محمد اسلم خان، آئی ٹی کے صدر عدنان عظمت، سیکرٹری اطلاعات آصف خان، کلاس فور ایسوسی ایشن کے صدر نبی امین، ہیلتھ کوآرڈینیشن کے صوبائی چیئرمین فیض علی شاہ اور ہیلتھ کو آرڈینیشن کونسل کے ترجمان سید محمود شاہ نے احتجاجی ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کو ہماری افہام و تفہیم کی پالیسی راس نہیں آرہی حکومت جان بوجھ کر ہسپتال اور صحت کے مراکز بند اور افرا تفری پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے ،حکومت ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے 70 فیصد ملازمین کو ہیلتھ پروفیشنل الاونس سے مستفید کرچکی ہے لیکن کلرکس،آئی۔ٹی،ٹیکنیکل اور کلاس فور ملازمین کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے جو کہ انصاف کی دعویدار صوبائی حکومت کی سراسرناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں ان کیٹگریز سے سوتیلے بچوں جیسا سلوک روا رکھی ہوئی ہے جس پر عرصہ 9 ماہ سے باقی ماندہ کیٹگریز سینہ پیٹ رہے ہیں اور محکمہ صحت کے یہ ملازمین مسلسل ہر فورم پر اپنے ساتھ جاری نا انصافی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں ،اس سلسلے میں اہم حکومتی اراکین سے ملاقاتیں کی گئیں،جن میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خان خٹک، سپیکر صوبائی اسمبلی اسد قیصر، امیرِ جماعت اسلامی سراج الحق،صوبائی وزیرِ صحت شہرام خان ترکئی،صوبائی وزیر خرانہ مظفر سید،صوبائی مشیر اطلاعات مشتاق غنی، سنیئر صوبائی وزیر سکندر خان شیرپاؤ اور سیکرٹری ہیلتھ شامل ہیں،اور ہیلتھ پروفیشنل الاونس کی مد میں جاری نا انصافی کے اضالے کی گزارشات کی گئی جنہوں نے جلد ہی مسئلہ حل کیئے جانے کی یقین دہانیاں کرائی۔ 22 نومبر2016 کے احتجاجی دھرنے میں صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید نے ہزاروں ملازمین اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کی موجودگی میں ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کی منظوری کا اعلان کیا اور وعدہ کیا کہ اس کا نوٹیفیکیشن جلد جاری کر دیا جائیگا۔ جس پر ہیلتھ ایمپلائز کورڈینیشن کونسل نے خیر سگالی کے طور پراپنا احتجاجی دھرنا ختم کرنیکا اعلان کیا۔ لیکن دیگر وعدوں کی طرح یہ بھی سیاسی وعدہ ثابت ہونے لگا اورمحکمہ صحت کے ملازمین آج بھی اس نوٹیفکیشن کی راہ تک رہے ہیں لیکن صد افسوس کے اس اعلان پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا جس پر تمام محروم کیٹگریز سراپا احتجاج ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو پا رہی جس پر ملازمین میں انتہائی تشویش اور غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ چونکہ صاحب اقتدار تک رسائی کر کے تمام تر تحفظات ان تک پہنچانے کے باوجود اب تک کوئی امید نظر نہیں حالانکہ کے کلریکل، آئی ٹی، ٹیکنیکل اور کلاس فورملازمین پر مشتمل مشترکہ ہیلتھ ایمپلائز کوآرڈینیشن کونسل کے قائدین نے ہر ممکن کوشش جاری رکھی کہ بغیر کسی احتجاج اور ہڑتال کے حکومت وقت سے مصالحت اور دلیل کی بنیاد پر اپنا موقف منوایا جائے لیکن باوجود اسکے حکومتی ارکان ہمارے اس جائز موقف پر کسی قسم کی پیش رفت سے عاری ہیں جو انتہائی افسوس ناک علمیہ ہے لہٰذا اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے کیونکہ حکومت ان 25000 ملازمین کو روڈ پر لانا چاہتی جس کی تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -