کھادو ں پر سبسڈی پروگرام دوبارہ شروع کا فیصلہ

کھادو ں پر سبسڈی پروگرام دوبارہ شروع کا فیصلہ

اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزیر برائے نیشل فوڈ سکیورٹی سکندر حیات بوسن نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر کھادو ں پر سبسڈی کا پروگرام دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے اس پروگرام کے تحت آدھی رقم صوبوں اور آدھی رقم وفاق نے مہیا کرنی ہے ۔ اس حوالے سے سوائے خیبرپختونخوا کے تمام صوبوں کے ایگریمنٹ آ گئے ہیں ۔ 2016-17 کے بجٹ میں 27.96 بلین روپے روپے رکھے گئے تھے ۔ 17.16 بلین روپے یوریا کے لئے اور 10.80 بلین روپے ڈی اے بی کھاد کے لئے مختص کئے گئے تھے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز سینٹ کے اجلاس میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ کھاد سبسڈی کے فنڈز ختم ہونے پر اسکیم کو مورخہ 09-01-2017 کو وزیر اعظم کی منظوری کے ساتھ ختم کر دیا گیا لیکن اس کو دوبارہ مورخہ 13-01-2017 کو وزیر اعظم کی ہدایت پر جاری کر دیا گیا ٹائم لائن اور وسائل کی دستیابی کے حوالے سے وزیر اعظم کی منظوری کے لئے خزانہ ڈویژن کو تجویز ارسال کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ اس سکیم کے لئے آدھی رقم تمام صوبوں نے اور آدھی رقم وفاق نے دینی ہے اس حوالے سے سب سے پہلے پنجاب نے ایگریمنٹ کیا اس کے بعد بلوچستان اور پھر سندھ کی طرف سے ایگریمنٹ آ گیا ہے لیکن خیبرپختونخوا کی حکومت کہتی ہے کہ ہم اس پیکج کا حصہ نہیں بنیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے درآمدی تیزی اور سازو سامان کی سپلائی پر سیلز ٹیکس کو 13 فیصد سے کم کر کے 7 فیصد کر دیا ہے جبکہ زرعی مشینری آلات پر کسٹم ڈیوٹی کو پانچ فیصد سے کم کر کے 2 فیصد کیا گیا ہے تاکہ ملک میں زرعی مشینری کے استعمال کو فروغ حاصل ہو ۔ پی اے آر سی نے 9 ٹیکنالوجیزکو تجارتی پیمانے فروغ دیا ہے جبکہ 13 ٹیکنالوجیزکو تجارتی پیمانے پر تشہیر زیر عمل ہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر