پاکستانی معیشت پر اعتماد کرنیوالوں کو مایوس نہیں کرینگے،مرتضیٰ جتوئی

پاکستانی معیشت پر اعتماد کرنیوالوں کو مایوس نہیں کرینگے،مرتضیٰ جتوئی

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار غلام مرتضئی جتوئی نے کہا ہے کہ جنہوں نے پاکستانی معیشت پر اعتماد کیا ان کو ہرگز مایوس نہیں کریں گے۔ گاڑیوں کی پیداوار میں اضافہ معاشی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ گاڑی سازی کی صنعت پاکستانی معاشی ترقی کا انجن بن کر ثابت ہوئی ہے ۔ موجودہ حکومت کی جانب سے پیش کردہ آٹو پالیسی کے نتیجے میں آٹو سیکٹر میں بے پناہ ترقی کی توقع ہے اس وقت دنیاکے صف اول کے کارساز ادارے پاکستان میں اپنی پیداوار شروع کرنے کیلئے بے تاب ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان آٹو شو 2017کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاوفاقی وزیر نے کہا جہاں نئی کمپینیاں پاکستان میں آ رہی ہیں وہیں پرانی کمپنیاں بھی نئی ٹیکنالوجی اور ماڈل شروع کرنے کیلئے کام کر رہی ہیں۔ اس سے نا صرف پاکستانی صارفین کو اچھی اور معیاری گاڑیاں ارزاں نرخوں پر دستیاب ہونگی بلکہ روزگار کے بھی نئے مواقع پیدا ہونگے ۔ انہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس وقت حکومت کی بھرپور توجہ اقتصادی راہداری کی تکمیل اور کامیابی پر مرکوز ہے۔ اقتصادی راہداری محض ایک سڑک یا بجلی کے منصوبوں کا نام نہیں بلکہ اس کے نتیجے میں ملک میں متعدد صنعتی پارک قائم کیے جا ئیں گے جس کی بدولت پاکستان میں ایک صنعتی انقلاب آ جائے گا۔ انہوں نے بین الاقوامی کمپنیوں کا اس نمائش میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا اور پاپام کے نمائندوں کو مبارک باد پیش کی۔ پاپام کے چیئرمین مشہود علی خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان معاشی اعتبار سے دنیا کے ابھرتے ہوئے ممالک کی صف میں شامل ہو گیا ہے ۔ پاکستانی آٹو سیکٹر میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اگر حکومت تعاون کرے تو ہم چند سالو ں میں ٹیکسٹائل سیکٹر کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے بعض ایس۔ آر ۔ اوز (SROs)اور ترکی اور تھائی لینڈ کے ساتھ ممکنہ آزادانہ تجارت کے معاہدے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے بعدازاں مختلف سٹالوں کا دورہ کیا جن میں پاکستانی 249 چینی249 ترکی اور جرمن سٹال شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے آٹو پرزہ سازوں اور گاڑی سازوں کو اپنے بھرپور تعاو ن کا یقین دلایا۔ پاکستان آٹو شو میں 67 غیر ملکی کمپنیوں سمیت 190سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -