تھر میں موروں کی اموات کی وجہ غذائی قلت ہے :محکمہ جنگلی حیات

تھر میں موروں کی اموات کی وجہ غذائی قلت ہے :محکمہ جنگلی حیات

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سیکریٹری جنگلات و جنگلی حیات نے ضلع تھرپارکر میں جنگلی موروں کی شرح اموات کی رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے اجلاس بلایا تاکہ حقائق کا پتا چلایا جاسکے اور جنگلی موروں کی اموات کی وجہ اور اس کے سدباب کے لئے ہنگامی اقدامات کئے جاسکیں۔سندھ جنگلی حیات ڈپارٹمنٹ نے محکمہ لائیو اسٹاک اور پولٹری ماہرین کی معاونت سے تھرپارکر کی ضلعی انتظامیہ پر مشتمل نگراں اور امدادی ٹیمیں تھر پارکر کے مختلف علاقوں میں روانہ کردی ہیں۔ان ٹیموں کی رپورٹس کے مطابق جنگلی مور کی شرح اموات کو بہت زیادہ رپورٹ کیا جارہا ہے جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے اور ان اموات کی حقیقی وجہ رانی کھیت کی بیماری نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ طویل عرصہ سے بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے غذائی قلت ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پچھلے ماہ سے تھر پارکر میں تقریباً 35موروں کی اموات ہوئی ہیں جن کی اکثریت قحط کی وجہ سے ہلاک ہوئی ہے۔13بیمار مور محکمہ جنگلی حیات کے پاس ہیں جن کی ویکسینیشن کی جارہی ہے اور وٹامن دئیے جارہے ہیں۔ ان کو ٹھیک ہونے کے بعد جنگل میں چھوڑ دیا جائے گا۔ انہوں نے درخواست کی کہ بیمار مور کو محکمہ جنگلی حیات کے دفتر تک پہنچایا جائے لانے والے کو کرایہ بھی ادا کیا جائے۔ یا اس سلسلہ میں ڈپٹی کمشنر تھرپارکر کے کنٹرول روم کے نمبر 0232920899پر بھی اطلاع دی جاسکتی ہے۔ محکمہ کے متعلقہ اہلکار بیمار مور کو وہاں سے لے جائیں گے۔محکمہ جنگلی حیات کی ٹیموں کے نمبر مندرجہ ذیل ہیں۔ننگر پارکر اور اسلام کوٹ، عدنان کریم ، نمبر 0336۔319197اور 0347۔3410946۔مٹھی ، اشفاق علی میمن، نمبر 0333۔5259513۔چھاچھرو اور تلہار، سہیل کھوسو، نمبر0334۔2611939۔تھرپارکر کے عوام سے محکمہ جنگلی حیات سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے اور جیسے ہی وہ کسی بیمار مور کر دیکھیں فوری طور پر محکمہ کو اوپر دئے گئے نمبرز پر اطلاع دیں۔ تمام سینٹرز پر ویکسین اور ملٹی وٹامن دستیاب ہیں اور انٹی بائیو ٹک کا بھی انتظام موجود ہے۔فیلڈ ٹیمز نے بتایا کہ 2مارچ 2017 کو تعلقہ مٹھی میں 450پولٹر ی ہیڈز کی ویکسین کی گئی اور ایک مردہ مور کو دفن کر دیا گیا۔ اسی طرح چھاچھرو میں 79موروں کا معائنہ کیا گیا اور ان میں سے صرف ایک مور بیمار پایا گیا جس کو علاج کے لئے متعلقہ جگہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ننگر پارکر سے رپورٹ کی گئی ہے کہ 1492مور وں کا معائنہ کیا گیا اور ان میں سے 3مور بیمار پائے گئے جن کو علاج کے لئے منتقل کر دیا گیاہے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر