پکڑ دھکڑ کا خوف، غیر قانونی رہائش پذیر افغانوں نے حلیے بدل لئے، بینکوں سے رقوم بھی نکلوالیں

پکڑ دھکڑ کا خوف، غیر قانونی رہائش پذیر افغانوں نے حلیے بدل لئے، بینکوں سے ...
پکڑ دھکڑ کا خوف، غیر قانونی رہائش پذیر افغانوں نے حلیے بدل لئے، بینکوں سے رقوم بھی نکلوالیں

  

لاہور (ویب ڈیسک)پاکستان سپر لیگ پر پناہ گزین او ر غیر قانونی طریقہ سے رہائشی افغانیوں کی پکڑ دھکڑ کے باعث گوالمنڈی ،کریم پارک ،بند روڈ ،شیرا کوٹ ،بادامی باغ کے باریش حلیوں میں پھرنے والے نوجوانوں نے حلیئے بدل لیے ،لمبے بال کٹوا کر ٹی شرٹ اور جینز پہن لی،کروڑ پتی کاروباری افغانیوں نے بینکوں سے رقوم نکلوالیں ،ایف بی آر ،ایف آئی اور ایکسائز چند سالوں میں کروڑوں کے کاروبار کرنے والے افغانیوں کے کاروبار اور پراپرٹیوں کا تخمینہ لگانے میں ناکام ،پنجابی خواتین سے شادیاں کرکے چند سال قبل آنے والے افغان کریم پارک ،باغبانپورہ ،ایبٹ روڈ اور شاہدرہ سے شناخت کارڈ اور پاسپورٹ بنوا کر پاکستانی شناخت سے عرب اور یورپین ممالک کے ویزے بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

روزنامہ خبریں کے مطابق افغانی شہریوں کی جانب سے ملک میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث اور سہولت کاری کے شواہد ملنے کے بعد ان کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہوا تو افغان بستیوں میں مقیم پنا ہ گزین افغانیوں نے اپنے حلیئے بدلنے شروع کر دیئے ہیں ،بادامی باغ ،گوالمنڈی ،شفیق آباد ،لوئر مال ،داتا دربار ،گلشن راوی ،ساندہ ،شیرا کوٹ ،گجر پورہ جیسے علاقوں میں عرصہ دراز سے مقیم پنا ہ گزین افغانیوں کے باریش شکل نوجوانوں نے اپنے لمبے بال تراش لیے جبکہ کلین شیو کے ساتھ ماڈرن کپڑے زیب تن کرلیے ہیں اور لاہوی منچلوں کا روپ دھار ے ہوئے ہیں ،پنجابی زبان پر مکمل عبور رکھنے والے پناہ گزین افغانیوں کے نوجوانوں نے پنجابی لڑکیوں سے شادیاں رچا کر پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی بنوا لیے ہیں جو کہ نادارہ سے تصدیق کرائی جائے تو ان کے خاندان کا سال 1990 ءسے قبل کسی بھی قسم کا ڈیٹا معلوم نہ ہوگا ،بیشتر نوجوانوں گذشتہ 20 سال سے 15 سالوں کے دوران افغانستان سے آئے جہاں بیشتر کا تعلق جلال آباد ،کندھار،اناردرہ ،ہرات ،فراہ ،کندوز اور کابل کے نواحی علاقوں میں ان کی جائے پیدائش ہے جبکہ چند سالوں میں ان کو افغانی خواتین کے ہمراہ پاکستان میں لایا گیا ،نیشنل ایکشن پلان کے تحت بادامی باغ ،شفیق آباد ،گوالمنڈی سمیت اندرون شہر لوہاری ،بھاٹی گیٹ ،یکی گیٹ مستی گیٹ ،لنڈا بازار ،موچی گیٹ ،شاہ عالمی رنگ محل ،صدر بازار ، ،لوئر مال ،داتا دربار ،گلشن راوی ،ساندہ ،شیرا کوٹ ،گجر پورہ میں مقیم افغانیوں کی خواتین کو چیک کیا جائے تو انہیں تاحال بھی پنجابی یا اردو زبانوں سے آشنائی نہ ہوگی .

”جب میں پہلی بار آسٹریلیا آیا تو بھارتی شہریوں کو بالکل اسی طرح دیکھ رہا تھا جیسے مجھے سکول میں بتایا گیا تھا “، پاکستانی نوجوان کا گرمہر کور کے نام پیغام سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا

دوسری جانب ایف بی آر ،ایف آئی اے اور ایکسائز ریکاڈوں میں سینکڑوں افغانی پناہ گزینوں کی جانب سے معمولی محنت مشقت سے چند ہی سالوں میں کروڑ پتی بننے اور کروڑوں کی جائیدادیں بنانے کا بھی ریکارڈ موجود نہیں ہے چند سال قبل بادامی باغ بند روڈ سے کریم پارک اور شیراکوٹ بند پار پر کچرا جمع کرنے اور پرانے کپڑے فروخت کرنے والے سینکڑوں افغانی جوتے بنانے والے کارخانے ،کاغذ کی خریدو فروخت اورکباڑ خانے قائم کرکے کروڑ پتی بن گئے ہیں جبکہ موجود صورت حاصل کے باعث کئی افغانی خاندانوں نے بینکوں اور ادھار دی ہوئی رقوم نکلوالی ہیںجبکہ سود کا کاروبار کرنے والے پناہ گزین افغانیوں کی جانب سے اپنے کاروبار بھی سمیٹنے شروع کردیئے ہیں ذرائع کا کہنا ہے کہ چند سالوں میں کروڑوں کا کاروبار او ر کروڑوں کی پراپرٹیاں قائم ہیں جس پر کسی بھی قومی سلامتی کے اداروں نے نہ تو آپریشن کیا ہے اور نہ ہی ایف بی آ ر کی جانب سے ان کے کاروباروں کے حوالے سے تفصیلات حاصل کی گئیں ہیں ،مشکوک سرگرمیوں میں ملوث ان افغانیوں کے کاروبار کا بڑا لین دین پشاور اور پشاور سے افغانستان ہے جہاں پیسوں کی ریکوری کیلئے لاہور میں مقیم افغانی ہر ماہ دو سے تین چکر افغانستان براستہ سڑک پشاور اور وزیرستان سے قندوز سفر کر رہے ہیں ،پنجاب پولیس کی جانب سے شاہ عالمی مارکیٹ ،اعظم کلاتھ مارکیٹ ،بادامی باغ لوہا مارکیٹ ،مصری شاہ مارکیٹ ،راوی روڈ سبزی منڈی ،ٹرک اڈہ اور پوش علاقوں میں موجود مارکیٹوں میں کپڑے سمیت جوتوں کا کاروبار کرنے والے چند سال قبل پناہ گزینوں کے طور پر آنے والے روپوش اور بہروپیے بنے بیٹھے ہیں۔

مزید : لاہور