A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

آخری قسط، چین کی عظمت رفتہ کا سفر،ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب

آخری قسط، چین کی عظمت رفتہ کا سفر،ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب

Mar 04, 2017 | 14:21:PM

ترجمہ ۔ایم وقاص مہر

تین سلطنتوں کی داستان

’’تین بادشاہوں کا قصہ‘‘ وہ تاریخی ناول ہے ،جس کیلئے چینی لوگ بہت زیادہ محبت اور احترام رکھتے ہیں۔یہ کام14ویں صدی میں تاریخی کاموں کی بنیادوں پر لکھا گیا تھا جسے ’’تین سلطنتوں کے ریکارڈ‘‘ کہتے ہیں۔یہ آخرالذکر ،وی(wei)، شو(shu)،اور وو (wu)نامی ان سلاطین کی’’غیر مصدقہ تاریخ ‘ ‘ہے ۔جو سلطنتِ ہان کے دور میں اپنے عروج پر تھیں۔یہ تاریخی کا ادب کا بہترین شہ پارہ ہے:وی کی کتا ب کی 30،شو کی 15جبکہ وو کی کتاب 20جلدیں ہیں۔یہ 65 جلدیں 220 ADمیں وی وینڈی(wei wendi)کے دورِحکومت کے پہلے سال سے ،280 AD میں جن ووڈی(jin wudi) کی حکومت کے پہلے سال تک کی تاریخی روداد بیان کرتی ہیں ۔اس تاریخی کام کا مصنف چن شو(chen shou)(233-297)،ابتدائی مغربی جن(265-317) کاایک باشندہ ہے۔اگرچہ چن شو(chen shou) نے ابتدأ میں صرف وی کی تاریخ ہی لکھی تھی،لیکن بعد مین جب شو(shu) اور وو (wu) بھی اس کے ہمنوا بن گئے، تو پھرچن(chen) نے ان تاریخ بھی لکھی تھی۔

’’تین سلطنتوں کا قصہ‘‘اگرچہ بہت بعد میں 14ویں صدی میں لو گوانزونگ(luo guanzhong) نامی ایک آدمی نے لکھی تھی،لیکن یہ زیادہ طرح ابتدائی کاموں اور زبانی روایات پر منحصر تھی۔بعد ازاں مشرقی ہان (25- 220) کے دور میں ،جب سیاسی ڈھانچہ تیزی سے بد اطوار ہوگیا تھا،ریاستی پالیسیاںں ابتری کا شکار تھیں،بدامنی معاشرے میں سرایت کر گئی تھی اورتارکینِ وطن سارے خطے سے فرار ہو گئے تھے،تب بغاوت کے مواقع بہت عام ہو گئے تھے۔

چینی مؤرخ ڈانگ یانگ کی شہرہ آفاق کتاب ۔۔۔چودہویں یعنی پچھلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کاؤ کاؤ( cao cao) اور یوآن شاؤ(yuan shao) نے اپنی آخری فیصلہ کن جنگ 200میں لڑی تھی۔اس جنگ میں کاؤ کاؤ(cao cao) ، یوآن شاؤ کو شکست دے کر خود سب سے مضبوط فوج کا سربراہ بن گیا تھا۔’’سب آسمان تلے‘‘کے اپنے بلند نظر مقصد کو جاری رکھتے ہوئے اس نے 208 میں جنوب کی طرف پر فوج کشی کی اور جینگ چاؤ(jingzhou) پر قبضہ کر لیا،سن چھوآن کی فورسز کا پیچھا کرتے ہوئے وہ دریائے یانگ تک پہنچ جاتا ہے۔بالکل اسی وقت ہا ن نے اپنی فوج لیے کاؤ کاؤ دھاوا بول دیتا ہے ۔اس موقع پر لیوبی(liu bie) اور سن ،کاؤ کاؤ کو ختم کر نے کے لئے آپس میں اتحاد بنالیتے ہیں لیوبی اپنے کمانڈر’’ زوجھو لانگ (zhuge liang) ‘‘کوسن چھوآن (sun Quan) کو قائل کر نے کے لئے بھیجتا ہے اور وہ سرخ چٹانوں کی جنگ میں اتحادی بن جاتے ہیں۔ کاؤ کاؤ کواس جنگ میں شکست ہوتی ہے اور وہ جنوب کی طرف واپس بھاگ جاتا ہے ۔جبکہ لیو بی اور جینگ زؤ(jingzhou)پر قبضہ کر لیتا ہے اور بعدازاں چنگدو(chengdu) میں داخل ہو جا تا ہے ۔220میں کاؤکاؤ مر جاتا ہے اور اس کا بیٹا ہان شی آنڈی (Han Xiandi) کو فتح کر کے ،وی(wei) کے نام سے ایک ملک قائم کر لیتا ہے جسے ’’کاؤ وی‘‘ کا نام بھی دیا جاتاہے اگلے ہی سال لیوبائی ،چنگ دو میں ایک شو ہان نامی ملک کے ساتھ اپنے شہنشاہ ہونے کی منادی کرواتا ہے۔229میں وو(wu) بادشاہ ،سن چھوآن، وو(wu) کے نام سے ایک ملک بنا لیتا ہے۔تین سلطنتوں کا دور سرکاری طور پر ،تین قوتوں ،کاؤ،سن اور لیو کی باہمی چپقلشوں سے ہو تا ہے۔تینوں ممالک باہمی رضا مندی سے (229-263) 34 سال کے عرصہ تک اشتراک میں رہے ۔جبکہ ان کے درمیان دھڑے بندی کی صورتِ حال کا دور (190-280) 90 سال کے ایک طویل عرصہ تک جارہا۔فوجی قوت کے لحاظ سے وی (wei) ان سب میں سے زیادہ مضبوط تھا ،دوسرے نمبر پر وو(wu) جبکہ سب سے کمزور شو(shu) تھا.آخرکار ریاست’’ جن ریاست‘‘ ان تینوں کو متحد کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔وو (wu)ریاست کے طور پر سب سے لمبے عرصے 52سالوں کیلئے قائم رہی ،پھروی(wei) 45 سالوں کیلئے اور شو(shu) 43سالوں تک ریاست کی حیثیت سے قائم ہی تھی۔280 جن (jin) نے وو کو بری طرح شکست دے دی ،جس کے ساتھ ہی تین سلطنتوں کے زوال کا دور شروع ہو گیا تھا۔

اگرچہ مسلسل جنگ تین سلطنتوں کے دور کی ایک خاصیت ہے ،البتہ اپنے ابتدائی زمانہ میں ان میں سے ہر کوئی ،اپنے معاشرے میں امن وامان کی صورتِ حال بحال کرنے،اپنی معیشت کوترقی دینے اور سیاسی نظام کی نئے سرے سے ترویج کرنے کا آرزومند تھا۔کاؤ وی () کی ہنرمندی اس حوالے سے سب سے زیادہ تفہیم تھی۔جنوب کو متحد کرنے کے بعد ، اس نے ’’‘‘ایک پروگرام شروع کیا۔جس کے تحت اس نے کسانوں اور فوج کو بے آباد اور بنجر زمینوں پر کاشت کاری کرنے پر لگا دیا ۔اس طرح آہستہ آہستہ وہ پیداوار کو ذخیرہ کرنے لگاتھا۔اس کی علاوہ اس نے اپنی حکومت کے بہت سے کرپٹ عوامل کو بدلنے کے ساتھ ساتھ ،اپنے علاقے کے جاگیرداروں کو بھی کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔اس نے پر اثر خواجہ سراؤں کی عدالت کو سبکدوش کر دیا اورعزیزو اقارب کی استبدادی قوت کو بھی ختم کرنے بعد متوسط طبقے کے افراد کو حکومتی منصبوں پر معمور کر دیا تھا۔شو(shu) کا وزیر اعظم زوجھو لانگ (zhuge liang) قانون کے سخت استعمال،اپنے اصولوں ،پرسوز سزاؤں اور نوازشات کی وجہ سے مشہور تھا۔ان چیزوں نے شو کی زراعت اور لائٹ انڈسٹری بحالی اور ترقی کے علاوہ علاقائی طاقت کو بھی مستحکم کر دیا تھا۔ خاص طور پر جنوب میں جاری مہموں سے ،اقلیتی وعلاقوں میں قومی یکجہتی پروان چڑھنے لگی تھی۔سال 211 سے ۔جب شو(shu) نے وو (wu) کا دارالحکومت منتقل کرنے کے بعد اپنا انتظام وانصرام چلانا شروع کیا،تو جنوب مشرقی علاقہ تیزی سے ترقی کرنے لگا تھا۔ تمام خطہ اراضی پر کاشت کاری ہونے سے زراعت ترقی کے عمل میں تھی،حکومت مستحکم طریقے سے کرنے لگی تھی جبکہ جہاز رانی اور تجارت بھی بڑھنے لگی تھی۔

’’تین شہنشاہوں کا قصہ ‘‘ چین کا وہ پہلا قدیم طویل ناول ہے ،جو روایتی انداز میں تحریرکیا گیا ہے۔یہ’’ لو گوآنزونگ( luo guanzhong)‘‘ (1300- 1400 )نے لکھا تھا ۔اس ناول میں تین ریاستوں ،وی(wei)، شو(shu)،اور وو(wu)،اور ان کے تین حکمرانوں کاؤکاؤ(cao cao)،لیو بی (liu bei)اور سن چھوآن(sun quan) کے درمیان جاری رہنے والے ،سیاسی اور فوجی تنازعات کو بیان کیا گیا ہے۔ان تینوں ریاستوں کی حکومتیں نہ صرف حقیقی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل جنگ میں مشغول تھیں بلکہ بیان بازیوں ،سازشوں اور مکاریوں کے زریعے ڈپلومیسی بھی کرتی رہتی تھیں۔ان تین بنیادی کرداروں کے علاوہ ،ایک اور مشہور شخصیت زوجھو لانگ (zhuge liang)کی بہادری ، عقلمندی اور وفاداری کی تصویر کشی کی گئی ہے۔جو تب سے تمام ادوار کے لئے ایک مثال بن گیا ہے۔چینی لوگ ان کہانیوں اور ان کے کرداروں بہت زیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور ان کے بہت سے مقولے اورکہاوتیں اب ان کی روز مرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔ زوجھو لانگ (zhuge liang)،گوآن یو اور زانگ ادب کے نمونے ہیں جبکہ کاؤکاؤ اور زوجھو لانگ (zhuge liang)نے سرکاری تاریخ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ان کی اپنی شاعری بہت زیادہ خوبصورت ہے اور اب تو چین کے ثقافتی ورثے کی ایک متروکہ بن گئی ہے۔

چین میں بہت سی جگہیں تین سلطنتوں کے ہیروز کے کارہائے نمایاں کی وجہ سے مشہور مقامات کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ان مقامات صوبہ ہوبی(hubei) میں موجود سرخ چٹانیں،نانجنگ(nanjing) میں موجود وہ جگہ جہاں پر سن چھوآن(sn quan) نے وو(wu) کو قید کیا تھا شامل ہیں لیکن میں سب سے زیادہ مشہور اورپر اثر زوجھو لانگ (zhuge liang)اور گوآن یو(guan yu) کے یادگار مندر ہیں ۔

ختم شد

دنیا میں کہنے کو ہر ملک اپنے ماضی کی شاندار عظمتوں پر ناز کرتا ہے لیکن چین جیسی مثال پر کوئی کم ہی اترتا ہے جس نے اپنے ماضی کو موجودہ دور میں شاندار نظام سے جوڑ رکھااور ترقی کی منازل طے کررہا ہے۔چین نے آگے بڑھتے ہوئے اپنے ماضی کو کیوں زندہ رکھا ،اس بات کی اہمیت کا اندازہ مشہور چینی موؤخ ڈنگ یانگ کی ہسٹری آف چائنہ پڑھنے سے ہوجاتا ہے۔

مزیدخبریں