آپ سیال سے ہی سبق سیکھ لیں

آپ سیال سے ہی سبق سیکھ لیں
آپ سیال سے ہی سبق سیکھ لیں

  



منصوبہ نا قابل یقین تھا۔ اس کی لاگت ساڑھے تین ارب روپے تھی۔بزنس مین کمیونٹی کی خواہش تھی کہ اپنے شہر کو دنیا کیساتھ براہ راست منسلک کیا جائے ۔حکومت کو لاتعداد تجاویز دی گئیں لیکن حکومت نے ہر اچھے کام کیلئے انکار کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے خود کو محب وطن اور عوام کا ترجمان ثابت کرنے کا یہ موقع بھی ضائع کر دیا ۔ سن 2001 میں جنرل پرویز مشرف کو پری زنٹیشن دی گئی۔ جنرل صاحب متاثر ہوئے اور پر ا ئیویٹ سیکٹر کو منصوبہ اپنی مدد آپ کے تحت مکمل کرنے کی منظوری دے دی ۔ اس وقت کے سیالکوٹ چمبر آف کامرس کے صدر میاں نعیم جاوید صاحب اور ڈ ی جی سول ایوی ایشن ائیر مارشل (ر) علی الدین نے اس منصوبے کا ایم اویو سائن کیا ۔ میاں نعیم جاوید صاحب کو منصوبے کا پیٹرن اِن چیف مقرر کیا گیا اور منصوبے پر کام شروع ہو گیا۔ منصوبے میں بنیادی رکاوٹ فنانس کی فراہمی تھی ۔ بانی ممبرز نے اس مسئلے کا دلچسپ فارمولہ تجویز کیا ۔ انھوں نے پالیسی بنائی کہ جو شخص 50لاکھ یا اس سے زیادہ رقم انویسٹ کرے گا اسے پرو جیکٹ کا ڈائریکٹر بنا دیا جائے گا اور جو 50لاکھ سے کم انویسٹ کرے گا اسے شیئر ہولڈر نامزد کیا جائے گا ۔

آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ملک میں 365لوگوں نے فی کس 50لاکھ روپے انویسٹ کیے جو کہ دنیا میں اپنی طرز کی واحد مثال ہے۔ سیالکوٹ کے 16کلومیٹر جنوب میں 1036ایکڑ زمین حا صل کی گئی اور جنوری 2003میں منصوبے پر کام شروع ہو گیا ۔منصوبے پر دن رات کام ہوا او ر 30 نومبر2007کو جنوبی ایشیا کا پہلا بین الاقوامی انٹر نیشنل ائیر پورٹ مکمل ہو گیا ۔اس ایئر پورٹ کانام سیال ( سیالکوٹ انٹر نیشنل ائیرپورٹ لمیٹڈ )رکھا گیااور آج اس ائیرپورٹ سے روزانہ 8انٹر نیشنل پروازیں اُڑان بھرتی ہیں ۔دنیا بھر سے تاجر خریدو فروخت کیلئے براہ راست فلائٹس سے سیالکوٹ آتے ہیں ۔ایکسپورٹس مال کا ٹرانزٹ ٹائم 10دن سے کم ہو کر صرف 4دن رہ گیا ہے ۔اس ائیر پورٹ نے پاکستان کی پہلی گولڈن ٹرائی اینگل کی بنیاد رکھی ہے جن میں سیالکوٹ ،گجرات اورگوجرانوالہ ڈسٹرکٹ شامل ہیں اور انہی کاوششوں کی بدولت صرف سیالکوٹ 2ارب امریکی ڈالر کا فارن ایکسچینج پاکستان کو کما کر دے رہا ہے اور بلا شبہ سیالکوٹ ائیر پورٹ پاکستان کی ایک کامیاب کہانی بن چکا ہے ۔ آپ ان حقائق کو سامنے رکھیں اور دل پر ہاتھ رکھ کر فیصلہ کریں کہ جس ملک کے ماتھے پر دہشت گردی کا ٹھپہ لگا ہو، جس کے چاروں صوبوں میں دہشتگرد خون کی ہولی کھیل رہے ہوں ،جس کا ہمسایہ ملک روز معصوم اور نہتے لوگوں کو گولیوں سے چھلنی کر کے سیز فائر کی خلاف ورزی کر رہا ہو ،جس کا سابق صدر مسٹر 10%کے نام سے مشہور ہو ،جہاں سکول کے بچوں کو دن دیہاڑے 6ارب دنیا کیلئے آہوں اور سسکیوں کی علامت بنا دیا جائے ،جہاں مساجد میں مسلمان بندوقوں کی حفاظت میں سجدے ادا کرتے ہوں ، جہاں انٹر نیشنل ائیر پورٹ کو دنیا میں دوزخ کی علامت بنا دیا جائے ،جہاں بانی پاکستان کی رہائش گاہ کو بم سے اُ ڑا دیا جائے ،جہاں شاپنگ مال ،بازار ،ٹریننگ سینٹر ،نیوز چینلز ،صوبائی اسمبلی ،پولیس چیف اوریہاں تک کے آرمی کے جرنیل تک محفوظ نہ ہووہاں پاکستان میں اپنی مدد آپ کے تحت جنو بی ایشیا کے پہلے پرائیویٹ انٹر نیشنل ائیر پورٹ کا قیا م کسی معجزے سے کم ہے یانہیں ؟

آ پ یقیناً اس بات سے بھی ا تفاق کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے کہ سیالکوٹ کی محب وطن بزنس کمیونٹی نے یہ منفرد منصوبہ مکمل کر کے پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اورآپ یہ جان کر حیران ہو ں گے کہ کئی سالوں تک یہ ائیر پورٹ منافع نہیں کما سکا لیکن کسی بھی ڈائریکٹر یا شیئر ہولڈر نے اپنی رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا اور نہ ہی اس پروجیکٹ کو ختم کرنے کیلئے کوئی دباؤ ڈالا ۔ان کا صبر رنگ لایا اور سیالکوٹ ائیر پورٹ اب منافع بخش کمپنی میں تبدیل ہو چکاہے ۔سیالکوٹ کے ایکسپورٹرز نے اس کے علاوہ ایشیا کے پرائیویٹ سیکٹرکا پہلا سیالکوٹ ڈرائی پورٹ ٹرسٹ ، سیالکوٹ ٹینری زون، سیالکوٹ ایکسپورٹ پرو سیسنگ زون اور سڑکوں کی تعمیر کے پروجیکٹس بھی شروع کر رکھے ہیں اور ان منصوبوں کو فنانس مہیا کرنے کیلئے انہوں نے رضاکارانہ طور پر اپنی ایکسپورٹ کا 0.2%عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔۔میری حکومت پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ سیا ل کے بانی ممبرز میاں نعیم جاوید،میاں ریاض، میاں خاور، اسد ڈار، خواجہ خاور انور کی خدمات حاصل کرے۔سیالکوٹ انٹر نیشنل ائیر پورٹ کی تکمیل کے پروجیکٹ کو سیال ماڈل کا نام دے اور اسے ملک کی تمام بڑی یونیورسٹیوں کے نصاب کا حصہ بنایا جائے ،اس پر ملکی اور غیر ملکی فورمز پر سیمینار اور تقریبات منعقد کروائی جائیں ۔اس کے علاوہ وہ ہر شہر کے چیمبر آف کامرس میں سیال ماڈل پر پری ز نٹیشن کا انعقاد کرے اور جو پروجیکٹس حکومت چلانے اور مکمل کرنے سے قاصر ہے وہ تمام منصوبے سیال ماڈل کے تحت مقامی بزنس مینوں پر اعتماد کرتے ہوئے ان کے سپرد کر دیے جائیں ۔مجھے یقین ہیں کہ جو پروجیکٹس حکومت سے 165ارب روپے میں بھی مکمل نہیں ہو پا رہے وہ اس سے 10گنا کم خرچ میں مکمل ہو جائیں گے اور نقصان دہ منصوبے اور ادارے منافع بخش منصوبوں اور اداروں میں تبدیل ہو جائیں گے ۔

آپ کو کھلے دل سے اس بات کا بھی اقرار کرنا ہو گا کہ یہ بزنس کمیونٹی آج کے دور کے شہنشا ہ ہیں اور بزنس مین ایسے لاڈلے شہزادے ہیں کہ اگر یہ روٹھ جائیں تو ہمالیہ جیسی امریکی معیشت چند سیکنڈز میں تباہی کے دہانے پر آجاتی ہیں اور چین جیسا معاشی اژدھا بھی ان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔پاکستان میں بزنس مینوں پر انحصار کرنے کیلئے کامیاب لائحہ عمل سیال ماڈل کی شکل میں آپ کے پاس موجودہے اور اگر آپ ملک پا کستان کی بہتری کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتے تو کم ازکم سیال سے ہی سبق سیکھ لیں ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ