بچہ پیداکرنے کے لئے’’ کرائے کی عورت‘‘ اور اسلام

بچہ پیداکرنے کے لئے’’ کرائے کی عورت‘‘ اور اسلام
بچہ پیداکرنے کے لئے’’ کرائے کی عورت‘‘ اور اسلام

  

کسی عورت کے رحم میں کسی اور میاں بیوی کا حمل ٹھرا کر بچے کو پیدا کرنا کیا فطرت کے کاموں میں دخل نہیں ہے؟

کیا ہمارا دین معاشرتی ماحول اِس بات کی اجازت دیتے ہیں۔؟

اِس حوالے سے اگر بنظر غور جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ جو بچہ پیدا ہوگا وہ ایک ایسی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوگا جو اُس کی ماں کی بجائے کسی اور عورت کے اور اور مرد کے باہم اختلاط سے اِس دُنیا میں ظہور پذیر ہوا ہوگا۔ کیا ایسی عورت اُس کی ماں کہلاوا سکے گی جس نے اُس کو جنا ہی نہیں اور وہ عورت جو پیسے لے کر بچے کو پیدا کرے گے اُس کے جذبات اُس بچے کے لیے کیسے ہوں گے؟۔ انسان کو نہ جانے کیا ہوگیا ہے کہ وہ اپنے تخلیق کو باطل قرار دئیے جانے کے پیچھے پڑ گیا ہے۔ جب پید ا کرنے کا سبب بننے والے عمل میں دو عورتیں شراکت دار ہوں گے تو یوں یہ شراکت داری کیا اللہ پاک کی جانب سے جو حضرت انسان کی تخلیق کے لیے کیے جانے والے عمل کی فکری اساس کے خلاف نہیں ہوگی۔

اس وقت پوری دنیا میں ’’سروگیٹ مدر‘‘ ( Mother Surrogate ) کے حوالے سے بھارتی خواتین سر فہرست ہیں۔ سروگیٹ مدر یعنی متبادل ماں وہ ہوتی ہے،جو کسی دوسری عورت کی خاطر مصنوعی تخم ریزی کے ذریعے نطفہ قبول کر کے دوسرے کا بچہ پیدا کرتی ہے۔ وہ عورتیں جن کے ماں بننے کی راہ میں طبّی پیچیدگیاں حائل ہوتی ہیں، وہ بچہ پیدا کرنے کے لیے مخصوص فیس کے عوض کسی دوسری عورت کی کوکھ کرائے پر لیتی ہیں۔بعض امریکی اور یورپی خواتین ماں بننے کی صلاحیت رکھنے کے باوجود اپنے لیے سروگیٹ مائیں تلاش کرتی ہیں۔ اس طرح اُنھیں9 ماہ کی مشقت اور زچگی کی تکلیف سے نجات مل جاتی ہے اور اُن کی نوکریاں بھی متاثر نہیں ہوتیں۔ امیر عورتوں کے اس رجحان نے غریب عورتوں کے لیے آمدنی کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ تاہم مشرقی معاشروں میں اس کے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بھارت میں غیر شادی شدہ غریب لڑکیاں بھی پیسوں کے لیے سروگیٹ مائیں بن رہی ہیں اور یہ کام جسم فروشی کا نعم البدل بنتا جا رہا ہے۔

عربی خبر رساں ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں غربت کی ماری عورتوں میں کوکھ کرائے پر دینے کا رجحان بڑھ رہا ہے، دوسری طرف بعض مَردوں نے بھی مالی فوائد کے لیے اپنی بیویوں کو آمدنی کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ بھارت کے طول و عرض میں سروگیٹ مائیں بنانے کے لیے نطفے کی مصنوعی افزودگی کی غرض سے ایک ہزار کلینکس قائم ہوچکے ہیں۔ بھارتی سروگیٹ ماؤں کا سب سے بڑا خریدار برطانیہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی سروگیٹ ماوؤں کی کوکھ میں پلنے والے نصف سے زائد بچے برطانوی جوڑوں کے ہوتے ہیں، اسی لیے بھارت میں قائم ان کلینکس میں برطانوی ڈاکٹر بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ تاہم بھارت میں یہ کام بغیر رجسٹریشن کے بھی ہو رہا ہے۔ بھارتی خواتین مصنوعی افزودگی کے لیے کوکھ کرائے پر دینے کے عوض 9ہزار ڈالر وصول کرتی ہیں۔ یہ رقم ان کی ایک سال کی مزدوری سے کئی گنا زیادہ ہے جب کہ امریکا میں سروگیٹ مدر کی فیس 70ہزار ڈالر اور برطانیہ میں 40 ہزار پاونڈ ہے۔ مہنگی فیس سے بچنے کے لیے برطانوی جوڑے، بھارتی عورتوں کو ترجیح دیتے ہیں۔

ادھربرطانوی جریدے سنڈے ٹیلی گراف کے مطابق بھارت میں غربت اور بے روزگاری کے سبب سروگیٹ مائیں بننے کا رجحان زور پکڑ رہا ہے ۔ بھارت کی 10 ریاستوں میں خواتین کھیتوں میں دن بھر کام کرنے کے باوجود بڑی مشکل سے نصف ڈالر یومیہ اجرت کما پاتی ہیں۔ چناں چہ غربت سے تنگ بھارتی خواتین 9ہزار کے بہ جائے 4ہزار اور 3ہزار ڈالر پر بھی دوسروں کے بچے پیدا کرنے کے لیے راضی ہوجاتی ہیں۔ یہ رویہ امیر ممالک کی جانب سے غریب ممالک کے استحصال کا کھلا ثبوت ہے۔ اب تک جن برطانوی مَردوں نے کرائے کی کوکھ سے بچے حاصل کئے ہیں، وہ تمام بینکر، ڈاکٹر اور اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز تھے۔ اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ یہ کام طبّی مجبوریوں سے زیادہ آسانی اور سہولت کے لیے کروایا جا تاہے۔ بھارتی حکومت نے سروگیٹ ماں بننے کے بڑھتے رجحان کے باعث قوانین میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ ان قوانین کے مطابق بچے کی ولادت کے فوری بعد اس کی حوالگی پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بچہ جننے والی عورت پر لازم ہے کہ وہ بچے کو سات ہفتوں تک اپنے پاس رکھے گی۔ یہ قانون برطانوی شہریوں کے لیے کافی پریشان کن ہے۔ تاہم یہ کاروبار اب بھارت میں اتنے بڑے پیمانے پر پھیل چکا ہے کہ اس کی روک تھام یا اسے قانونی دائرے میں لانا آسان نہیں رہا۔ بھارت میں اس کام کے لیے مخصوص کلینکس کی انتظامیہ کے پاس ہزاروں ایسی خواتین کا اندراج ہے، جو سروگیٹ مائیں بننے کی خواہش مند ہیں۔ انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ بھی اس صورت حال سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ بھارت، جو انسانی تجارت کے حوالے سے دنیا میں پہلے نمبر پر تھا، اب سروگیٹ مائیں رکھنے والا بڑا ملک بننے والا ہے۔ غربت، بے روز گاری اور صنفی امتیازمل کر بھارتی ناری کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔

مختلف مکاتب فکر کے علما کی رائے کے مطابق طبی وجوہ کی بنا پر بچے کی پیدائش کا عمل مکمل کرانے کے لئے رضا کار کے طور پر کسی دوسری خاتون کی (صرف بچہ جنم دینے کے لئے)خدمات لینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ اس عمل کے سماجی اور اخلاقی پہلو بھی بھیانک ہو سکتے ہیں اور جن ممالک میں اسے قابل عمل اور جائز قرار دے کر یہ عمل مکمل کرایا جا رہا ہے، وہاں سماجی مسائل پیدا ہونا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ دین اسلام میں جو عمل حرام ہو اس کے نتائج کبھی اچھے ہو ہی نہیں سکتے۔ دوسری جانب ممتاز گائنا کولوجسٹ ڈاکٹر شیر شاہ سید کا کہنا ہے کہ علما کے فتوے کے مطابق یقیناً یہ عمل شرعاً ناجائز ہے، تاہم طبی لحاظ سے یہ محفوظ عمل ہے اور اس سے حسب و نسب پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میڈیا رپو رٹ کے مطابق’’سروگیٹ مدر‘‘کے معاملے پر حالیہ دنوں میں شروع ہونے والی بحث پر رائے لینے کے لیے ملک کے معروف علمائے کرام سے پوچھا گیا کہ اسلام میں‘‘رضا کار ماں’’کی کیا گنجائش ہے؟ نیز اس کے سماجی اور اخلاقی نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے چیئرمین، ممتاز عالم دین اور چیئرمین رویت ہلال کمیٹی پاکستان مفتی منیب الرحمن نے کہا کہ گو کہ طبی لحاظ سے ایسا ممکن ہے اور جدید طبی اصطلاح میں اسے’’رحم کرائے پر لینا ‘‘کہتے ہیں، ایسی صورت جس میں نطفہ کسی اجنبی شخص کا ہو اور اسے کسی اجنبی خاتون کے رحم میں منتقل کر کے استقرار حمل اور بچہ پیدا کرنے کی کوشش کی جائے، حقیقتاً زنا نہ ہونے کے باوجود شرعاً حرام ہے۔ مفتی منیب الرحمن نے ایک حدیث مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا ہے کہ’’کسی شخص کا پانی (نطفہ) کسی دوسرے کی کھیتی (اجنبی عورت کے رحم) کو سیراب نہ کرے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ البتہ ناپسندیدہ عمل ہونے کے باوجود ٹیسٹ ٹیوب کے ذریعے کسی شوہر کا نطفہ اس کی حقیقی منکوحہ کے رحم میں کسی ماہر امراض نسواں خاتون ڈاکٹر کی مدد سے انجیکٹ کیا جاسکتا ہے۔ اجنبی مرد ڈاکٹر سے یہ خدمت لینا شرعاً ناجائز ہے۔ ممتاز عالم دین مفتی زبیر نے ان سوالات کے جواب میں کہا کہ شریعت کے احکامات کے مطابق شوہر کا نطفہ بیوی کے رحم میں ہی ہونا چاہیے، رضا کار ماں کی خدمات لینا شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ اس سے نسب کے اختلاف کا بھی اندیشہ ہے اور اب اس کے سماجی اور اخلاقی مسائل بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں کیونکہ 9 ماہ تک بچے کو اپنے پیٹ میں پالنے والی رضا کار ماں کو اس بچے سے پیار ہو جاتا ہے۔ مفتی زبیر نے قرآن مجید کے حوالے سے ایک آیت کریمہ کا مفہوم بتاتے ہوئے کہا کہ سورہ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اسے حمل میں رکھا‘‘۔ مفتی زبیر کے مطابق مستقبل میں اس کے اخلاقی مسائل بھی سامنے آئیں گے جن میں میراث، نسب وغیرہ نمایاں ہوں گے۔ جدہ میں او آئی سی کے اجلاس میں اسلامی ممالک کے سکالرز اسے متفقہ طور پر ناجائز قرار دے چکے ہیں۔ ممتاز شیعہ عالم علامہ حسن ظفر نے اس موضوع پر اپنی رائے دیتے ہوئے اسے قطعاً حرام اور ناجائز عمل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حرام کام کے نتائج بھی معاشرے میں فساد برپا کرتے ہیں۔ وراثت کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے شیعہ علما اسے پہلے ہی شرعی لحاظ سے حرام اور ناجائز عمل قرار دے چکے ہیں کیونکہ جو عورت نکاح میں ہی نہیں ہے وہ کس طرح ایک غیر مرد اور غیر عورت کے بچے کو اپنے رحم میں پال سکتی ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ