انسانی حقوق کا علمبردار بننے والے یورپی ملک نے ایسی پابندی لگا دی کہ تارکین وطن کی مشکلات میں شدید اضافہ ہوجائے گا

انسانی حقوق کا علمبردار بننے والے یورپی ملک نے ایسی پابندی لگا دی کہ تارکین ...
انسانی حقوق کا علمبردار بننے والے یورپی ملک نے ایسی پابندی لگا دی کہ تارکین وطن کی مشکلات میں شدید اضافہ ہوجائے گا

  

پیرس (مانیٹرنگ ڈیسک) فرانس میں کبھی مسلمان خواتین کے حجاب اور برقعے پر پابندی لگائی جاتی ہے تو کبھی پورا لباس پہن کر ساحل سمندر پر آنے پر۔ اب فرانس کے ایک شہر کی انتظامیہ نے ایسا اقدام اٹھا ڈالا ہے کہ انسانیت بھی شرم سے منہ چھپاتی پھرے گی۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق فرانسیسی شہر کیلے (Calais)کی انتظامیہ نے وہاں موجود پناہ گزینوں میں کھانا تقسیم کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اس شرمناک حکم نامے پر کیلے کی میئر نتاشا بوشارت نے گزشتہ روز دستخط کیے ہیں جس کے بعد کسی بھی شخص کو پناہ گزینوں کو کھانا دینے سے روک دیا گیا ہے۔

ترکی کے میئر نے ڈوبتی خاتون کو بچاکر لوگوں کے دل جیت لئے

نتاشا بوشارت نے اپنے اس گھٹیا اقدام کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ ’جب لوگ پناہ گزینوں کو کھانا تقسیم کرنے کے لیے آتے ہیں تو وہاں بھیڑ لگ جاتی ہے اور جس جگہ کھانا تقسیم ہوتا ہو پناہ گزین وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اس آرڈر کا مقصد شہر میں نئے پناہ گزین کیمپ وجود میں آنے سے روکنا ہے۔‘رپورٹ کے مطابق 4ماہ قبل نتاشا بوشارت کے حکم پر ’جنگل‘ نامی ایک کیمپ مسمار کر دیا گیا تھا۔ جاری بیان میں بوشارت کا کہنا تھا کہ ”ان دنوں شہر کے صنعتی علاقے میں کھانا بہت تقسیم کیا جا رہا تھا اور وہاں پناہ گزین بہت زیادہ جمع رہنے لگے تھے، چنانچہ خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ وہاں بھی کیمپ بن جائے گا۔“

مزید : بین الاقوامی