پاکستان کے بعد چین پر ’بھارتی حملہ‘ مودی نے ایک ایسی متنازعہ شخصیت کو بھارت بلا لیا کہ جان کر چینی حکومت آگ بگولا ہوجائے گی

پاکستان کے بعد چین پر ’بھارتی حملہ‘ مودی نے ایک ایسی متنازعہ شخصیت کو بھارت ...
پاکستان کے بعد چین پر ’بھارتی حملہ‘ مودی نے ایک ایسی متنازعہ شخصیت کو بھارت بلا لیا کہ جان کر چینی حکومت آگ بگولا ہوجائے گی

  

نئی دلی (نیوز ڈیسک) ہمسایہ ممالک کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی بھارت کا وطیرہ بن چکا ہے۔ چین کے ساتھ پہلے ہی اس کے سرحدی تنازعات چل رہے ہیں لیکن اب اس نے ایک اور خطرناک قدم اٹھاتے ہوئے، اور چین کی سخت وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے، بدھ مت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ کو دھوم دھام سے خوش آمدید کہنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق دلائی لامہ اپریل میں بھارتی ریاست اروناچل پردیش کے دورے پر آئیں گے، اور اس موقع پر یونین حکومت کے نمائندگان ان سے ملیں گے، باوجود اس کے کہ چین کی جانب سے خبردار کیا جاچکا ہے کہ اس کا نتیجہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی خرابی کی صورت میں سامنے آئے گا۔

’ہم چین میں خون کے دریا بہادیں گے۔۔۔‘ چین کو اب تک کی سب سے خوفناک دھمکی دے دی گئی، یہ دھمکی کس نے دی؟ جان کر پاکستانی بھی شدید پریشان ہوجائیں گے، جس کام کا ڈر تھا وہ شروع ہوگیا

چین دلائی لامہ کو سیاسی باغی اور خطرناک علیحدگی پسند قرار دیتا ہے کیونکہ وہ تبت کی چین سے علیحدگی کے حامی قرار دئیے جاتے ہیں او رانہیں تبت میں علیحدگی پسندی کی تحریک کو ہوا دینے کا ذمہ دار بھی قرار دیا جاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت یہ متنازعہ قدم ایک ایسے وقت پر اٹھارہا ہے جب پہلے ہی چین کے ساتھ اس کے تعلقات کشیدہ ہیں، اور چینی حکومت ایک جانب بھارت سے دور ہورہی ہے تو دوسری جانب پاکستان کے مزید قریب ہورہی ہے۔

اس سے پہلے بھارتی رہنما ہمیشہ دلائی لامہ کے ساتھ سرکاری سطح پر میل جول سے ہچکچاتے رہے ہیں، جس کی وجہ چین کی ناراضی کا خوف تھا، لیکن وزیراعظم نریندر مودی کے دور میں پہلی بار بھارت نے چین کی وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے دلائی لامہ کے سرکاری سطح پر استقبال کا فیصلہ کیا ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے گزشتہ روز جاری کئے گئے ایک بیان میں واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ دلائی لامہ کا بھارتی دورہ چین اور بھارت کے تعلقات کو سخت نقصان پہنچائے گا، اور ساتھ ہی بھارتی حکومت کو خبردار کیا کہ دلائی لامہ کو چین مخالف سرگرمیوں کے لئے پلیٹ فارم فراہم کرنے سے باز رہے۔

مزید : بین الاقوامی