کارکردگی کی بنیاد پر خیبرپختونخوا سمیت وفاق میں بھی حکومت بنا ئیں گے،ملک کو عمران خان جیسی ایماندار قیادت کی ضرورت ہے:پرویزخٹک

کارکردگی کی بنیاد پر خیبرپختونخوا سمیت وفاق میں بھی حکومت بنا ئیں گے،ملک کو ...
 کارکردگی کی بنیاد پر خیبرپختونخوا سمیت وفاق میں بھی حکومت بنا ئیں گے،ملک کو عمران خان جیسی ایماندار قیادت کی ضرورت ہے:پرویزخٹک

  

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ عوام تحریک انصاف کے منشور ،عمران خان اور صوبائی حکومت سے متاثر ہوکر جوق در جوق تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں، تحریک انصاف 2018 کے انتخابات میں کارکردگی کی بنیاد پر خیبرپختونخوا کی تاریخ بدل کر نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ وفاق میں بھی حکومت بنائے گی ،اگلے عام انتخابات کے نتیجے میں عمران خان ہی اس ملک کے وزیر اعظم ہوں گے، اس ملک کوایماندار قیادت کی ضرورت ہے جو صرف اور صرف عمران خان کی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے،اب پاکستان اور کرپشن مزید ایک ساتھ نہیں چل سکتے،اس کا بین ثبوت جنرل نصیر اللہ خان بابر مرحوماور پوری بابر قوم کی پی ٹی آئی میں شمولیت ہے۔

ضلع نوشہرہ میں ثناء اللہ بابر مرحوم کی رہائش گاہ پرشمولیتی جلسے سے خطاب کر تے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا  پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے عوام دوست وژن اور پالیسیوں سے متاثر ہو کر عوام اپنی سوچ کے تحت تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں، وہ خود بھی تحریک انصاف کی سوچ اور منشور سے متاثر ہو کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے،  قومی ترقی اور بقاء کے لئے ایماندار قیادت کا ہونا بہت ضروری ہے،  دنیا کے کئی ممالک خاطر خواہ وسائل نہ رکھتے ہوئے بھی ترقی میں ہم سے آگے نکل گئے اور دوسری طرف ہم بے شمار قدرتی وسائل کے ہوتے ہوئے بھی پیچھے رہ گئے، ہمارے درمیان فرق صرف ایماندار قیادت کا ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے اپنے منشور کے مطابق سابق حکمرانوں کی کرپشن، رشوت، سفارش کلچر اور اداروں میں سیاسی مداخلت جیسی خرافات کا خاتمہ کیا۔ قابل عمل اصلاحات کے ذریعے ایک دیرپا اور شفاف نظام کی بنیاد رکھدی ہے اب عوام کی ذمہ داری بھی ہے کہ پہلے خود کو ٹھیک کریں اور پھر غلط کاموں کی نشاندہی میں حکومت کی مدد کریں، صوبائی حکومت شفافیت، قانون اور میرٹ کی بالادستی اور عوام کو معیاری خدمات کی فراہمی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔  پرویز خٹک نکا کہنا تھا کہ سابق حکمرانوں نے حکمرانی کا سارا نظام ہی درہم بھرم کر دیا تھا ، جو بھی آیا اس نے لوٹ کھسوٹ کرکے اپنا پیسہ بنانے کی کوشش کی اور اداروں کو تباہ کیا،  اے این پی اور پی پی پی نے اپنے دور حکومت میں کرپشن کے سابقہ تمام ریکارڈ توڑے، اور وزیر اعلیٰ ہاوس بکرا منڈی بنا ہوا تھا،  تقرریوں اور تبادلوں کی قیمتیں وصول کی جاتی اور ’’معصوم شاہ‘‘ مسٹر 20% بنا ہوا تھا اور تمام ٹھیکیوں پر 20% ایڈوانس کمیشن وصول کی جاتی تھی، یہی وجہ ہے آج پورے صوبے کی سڑکیں، گلیاں ٹوٹی پھوٹی ہیں اور ہمیں تباہ حال انفراسٹکچر ورثے میں ملا۔

انھوں نے کہا کہ تحریک انصاف ان تباہ حال اداروں کی بہتری اور شفاف نظام کے لئے کھڑی ہے،وہ جس تبدیلی کی بات کرتے ہیں وہ نظام کی تبدیلی ہے ایک ایسا نظام جس میں حقدار کو حق ملے۔ میرٹ کی بالادستی ہو اور غریب کو تعلیم و صحت کی یکساں سہولیات میسر ہوں۔ جس میں ادارے حکمرانو ں کی غلامی کرنے کی بجائے عوام کے خدمتگار ہوں۔ وزیر اعلیٰ  پرویز خٹک نے کہا کہ تعلیم، صحت، پولیس اور دیگر شعبوں میں عوام کو خدمات کی فراہمی ، شفافیت، انصاف اور سیاست سے پاک با اختیار اداروں کا قیام ان کے میگا پراجیکٹس ہیں، ہم گذشتہ 70سال کے تباہ حال اداروں کو ٹھیک کر رہے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مفاد پرست سیاستدانوں نے سکول ، ہسپتال اور پولیس جیسے سماجی خدمت کے اہم ترین شعبوں کو بھی نہیں بخشا،  سکولوں میں40ہزار آسامیاں خالی تھیں اور جو سٹاف موجود تھا وہ سفا رش پر لگایا گیا تھا،  50فیصد اساتذہ سکولوں میں حاضری نہیں دیتے تھے،  بچوں کے بیٹھنے کے لئے کرسی تک دستیاب نہ تھی جبکہ  انکی حکومت نے 40ہزار اساتذہ بھرتی کئے، سٹاف کو حاضری کاپابند بنایا ، 15ہزار سکولوں میں فرنیچر اور دیگر سہولیات دیں ۔ 

مزید : پشاور