کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں!

کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں!
کچھ علاج اس کا بھی اے چارہ گراں!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال کسی طور بھی اطمینان بخش قرار نہیں دی جاسکتی۔ایک شخص یا خاندان کے خلاف ساری سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؟

اگر اسے ایک مذموم سازش کہا جائے تو شائد غلط نہ ہوگا، کیونکہ میاں محمد نواز شریف کو منصب سے الگ کرنے کی پہلی کڑی سے لے کر آج تک جو کچھ کیا گیا ہے یا کیا جارہا ہے وہ کسی بڑی سازش کا حصہ ہی معلوم ہوتا ہے۔

اقاما تو محض ایک بہانہ تھا جسے بنیاد بنا کر پہلے ملک کے منتخب وزیر اعظم کو نااہل کیا گیا پھر اس پر عرصہ حیات تنگ کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ان کو مسلم لیگ (ن) کی صدارت سے علیحدہ کرنے کے لئے کیا نہیں کیا گیا۔

ایک معاملے کو درست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو دوسرے سرے سے خرابی شروع ہو جاتی ہے، اُسے ٹھیک کیا جائے تو نیا سرا پکڑ لیا جاتا ہے، غرضیکہ ہر حیلے بہانے سے میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کو ٹارگٹ کرلیا جاتا ہے۔

اس پر طرہ یہ کہ اگر اپنے دفاع میں کچھ کہا جائے تو اس پر بھی حد لگ جاتی ہے۔انصاف کے نام پر انتقام کی سیاست عام ہے، اس کھیل میں وہ بھی شریک ہیں جن کے مناصب انہیں سیاست کی اجازت نہیں دیتے۔کسی نے توہین کی تلوار تھام رکھی ہے تو کسی نے کرپشن کا خنجر۔ ہر ایک نے اپنے ہتھیار کے مختلف نام رکھ رکھے ہیں اورجسے چاہتاہے جب جی چاہے استعمال کرلیتا ہے۔

جمہوری سسٹم کو ڈی ریل کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے، منتخب اداروں کی تذلیل میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اسی شاخ پر بیٹھے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جمہوری نظام کو تہہ وبالا کرنے کی سازشیں بڑے منظم انداز میں چلائی جارہی ہیں۔

جب سے مسلم لیگ (ن) کی موجودہ حکومت برسراقتدار آئی ہے، اسے ایک سانس بھی سکھ کا نہیں لینے دیا گیا۔ کبھی ایک جماعت کو دھرنے کے لئے استعمال کیا گیا تو کبھی دوسری جماعت کے سربراہ کو سڑکوں پر لایا گیا۔ کبھی اقاما کو بنیاد بنا کر عوامی مینڈیٹ کی توہین کی گئی تو کبھی 63,62 کی ڈھال استعمال میں لائی گئی۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس کا ملک و قوم کو کیا نقصان ہوگا۔

سیاسی اختلافات میں ہم اس حد تک چلے گئے کہ اصل مسائل سے بھی توجہ ہٹ گئی۔ عوامی مشکلات پسِ پشت ڈال دی گئیں، عالمی قرضوں یا فنڈنگ سے شروع کئے گئے ترقیاتی منصوبوں کی طرف سے دھیان ہی ہٹا دیا گیا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بڑھنے اور اس کے نتیجے میں مہنگائی کا طوفان آنے کی طرف توجہ ختم کرکے فروعی سیاسی معاملات کو ترجیح بنایا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنے کی کوئی بھی کوشش نہ ہوسکی۔

سینٹ الیکشن میں میاں نواز شریف اور ان کے مخلص ساتھیوں کا راستہ روکنے کے لئے بھی ہر حربہ اپنایا گیا اور معاملہ اس حد تک پہنچا دیا گیا کہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ ہولڈر آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے پر مجبور ہوئے، پھر بھی جیت گئے۔

ارکان اسمبلی کی ہمدردیاں خریدنے کے لئے بولیاں لگتی رہیں، دو صوبوں میں تو ارکان صوبائی اسمبلی کی خریدوفروخت کی وہ منڈیاں سجائی گئیں، جن کی مثال ماضی میں نہیں ملتی۔

یہ معاملات کس حد تک جا پہنچے ہیں، اس کا ادراک زیادہ مشکل نہیں۔ خدا بھلا کرے شریف خاندان کا جو تمام تر انتقامی کارروائیاں جرأت مندی اور خندہ پیشانی سے برداشت کررہا ہے۔

میاں شہباز شریف کو مسلم لیگ (ن) کا قائم مقام صدر بنا کر مخالفین کی امیدوں پر پانی پھیر دیا گیا، خاندانی اختلافات کو ہوا دینے کی تمام تر کوششیں ناکام بنانے پر شریف خاندان بالخصوص میاں شہباز شریف مبارک باد کے مستحق ہیں۔

لودھراں کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ (ن) نے جو تاریخ ساز فتح حاصل کی اس نے میاں نواز شریف کی سیاست کو ختم کرنے کے منصوبہ سازوں کے منہ پر کالک مل دی ہے اور صاف دکھائی دے رہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کلین سوئپ کرے گی۔

پارلیمنٹ کو قانون سازی سے روکنے اور منتخب ارکان کو عوامی مسائل حل کرنے کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی جو سازش ہورہی ہے اسے کون روکے گا؟ یہ سب سے اہم سوال ہے۔

میاں نواز شریف تو اپنا سب کچھ لٹا کر عوامی خدمت کے لئے میدان میں موجود ہیں، باقی سیاسی جماعتیں کیا کر سکتی ہیں یا عوام کی اُن سے کیا توقعات ہیں؟ یہ سوچنے کی ضرورت ہے۔

2018ء کا الیکشن ان تمام سوالوں کا جواب دے گا جو آج عام شہری کے ذہن میں اُٹھ رہے ہیں۔ نظام انصاف کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات بھی تشنہ جواب ہیں۔ آج نہیں تو کل ہمیں ان کا جواب دینا ہے۔

صرف اہل پاکستان نہیں ،بلکہ دنیا بھر کے باشعور لوگ پاکستان میں کئے جانے والے اہم فیصلوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آج جو فیصلے تاریخ کا حصہ بن رہے ہیں، ان پر آنے والا مورخ تبصرہ تو ضرور کرے گا، اس حوالے سے ہماری آئندہ نسلیں لاجواب ہوگئیں تو تاریخ معاف نہیں کرے گی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سیاست کے نام پر انتقام اور انصاف کے نام پر تذلیل کے آگے بند باندھنے کا ہتھیار ضرور استعمال کریں، وگرنہ ہم فرائض پورے نہ کرنے والی اقوام کی صف میں شامل ہو جائیں گے۔

آج اس بات کا شور مچایا جارہا ہے کہ پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی فہرست میں شامل کرکے ناپسندیدہ قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن کوئی یہ نہیں سوچ رہا کہ مبنی برانصاف فیصلے نہ کرنے کا کیا انجام ہوسکتا ہے؟

ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کس فہرست میں پائیں گی، اس طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ خدا نہ کرے کہ پاکستان کا نام انصاف کی عدم فراہمی یا سیاسی انتقام والی فہرست میں شامل ہو جائے۔

مزید : رائے /کالم