عوامی خدمت کے ایجنڈے کی تکمیل

عوامی خدمت کے ایجنڈے کی تکمیل
عوامی خدمت کے ایجنڈے کی تکمیل

  

وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا جینا مرنا اپنے عوام کے ساتھ ہے۔ ہمیشہ عوام کی خدمت کی اور آئندہ بھی بھرپور جذبے سے کرتے رہیں گے۔ عوامی فلاح و بہبود کے ترقیاتی منصوبے بنائے، عوام کی عدالت میں آج ہم سرخرو ہیں۔

مَیں ہمیشہ کرپشن کے خلاف رہا ہوں اور اس حوالے سے میرے دامن پر کوئی داغ نہیں۔ جھوٹے الزامات لگانے والوں کو سوچنا چاہئے کہ سرمایہ کاری کرنے والے دوسرے ممالک کیا سوچتے ہوں گے۔

مسلم لیگ (ن) نے خدمت کی سیاست کی۔ مخالفین الزامات کی گرد اڑاتے رہے۔ جھوٹ بولنے والوں نے اپنا کام کیا اور ہم نے عوام کی خدمت کا اپنا ایجنڈا پورا کیا۔

مخالفین الزامات کی گرد سے ترقی کے منظرنامے کو دھندلا نہیں سکتے۔ سچ سچ ہوتا ہے ، ہزار جھوٹ بھی مل کر ایک سچ نہیں بناسکتے۔ ساڑھے چار سال جھوٹ کی سیاست کرنے والے پنجاب کے تیزی سے تکمیل کو پہنچتے ہوئے ترقیاتی منصوبوں سے خوفزدہ ہیں۔ پنجاب کے ہر ضلع میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قوم کے نونہالوں اور نوجوانوں کو صحیح اورسچائی کے راستے سے ہٹا کر غلط بیانی اور جھوٹ بولنے کی طرف لگانا قوم کے ساتھ بڑی دشمنی ہے۔ کچھ لوگوں نے دن رات جھوٹ بول کر قوم کا قیمتی وقت برباد کر کے بڑا ظلم اور زیادتی کی ہے، وہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ بولتے ہیں۔

الزامات لگاتے ہیں، دروغ گوئی کرتے ہیں، لیکن اس پر ذرا ندامت محسوس نہیں کرتے، قومی وقار اور عزت پر ہر چیز قربان ہے، لیکن دن رات جھوٹ بول کر اسے خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ پہلا الزام یہ لگایا کہ لاہور میٹروبس منصوبے پر 70 ارب روپے لاگت آئی ہے ۔ ہم نے اس الزام کی تردید کی اور اسے چیلنج کیا۔ میٹرو بس کے منصوبے پر 30 ارب روپے لاگت آئی ہے اور اس بات کی کسی بھی فورم سے تحقیق کروالیں۔ مَیں نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سے رابطہ کیا اور ادارے نے تمام ریکارڈ چیک کر کے فیصلہ دیا کہ اس منصوبے پر 30 ارب روپے لاگت آئی ہے ۔

الزام لگایا کہ مَیں نے پانامہ کے کیس میں ان کی یلغارروکنے کے لئے انہیں 10 ارب روپے رشوت کی پیشکش کی ۔ مَیں نے انہیں پھر نوٹس بھجوایا اور ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا، لیکن کوئی جواب نہ آیا۔

ملتان میٹرو بس کے حوالے سے بھی مجھ پر الزام تراشی کی ۔ان کی اصلیت ظاہر کرنے اور جھوٹا ثابت کرنے کے لئے یہی حقیقت کافی ہے کہ ملتان میٹرو کے حوالے سے الزام تراشی سے لے کر آج تک مذکورہ چینی کمیشن کی کوئی تفتیشی ٹیم سرے سے پاکستان آئی ہی نہیں۔

چینی سیکیورٹی کمیشن اور پاکستان کی سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن نے 30 اگست 2017ء کو اپنی جاری ہونے والی پریس ریلیز میں بھی عمران نیازی کے الزام کو غلط ثابت کیا ہے ۔

اس پریس ریلیز میں چینی سیکیورٹی کمیشن نے واضح طور پر کہا ہے کہ سی ایس آر سی نے اس معاملے میں کسی سرکاری یا غیر سرکاری پاکستانی شہری سے کوئی تفتیش نہیں کی ۔ پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا کہ یابیٹ نامی چینی کمپنی کا ملتان میٹرو سے کوئی تعلق نہیں ۔

نیازی صاحب کہتے ہیں کہ سبحان نامی شخص نے چینی وفد کو انٹرویو دیا، حالانکہ پریس ریلیز کے مطابق چین کا کوئی وفد پاکستان نہیں آیا اور نہ ہی کسی شخص کا انٹرویو کیا گیا۔

پاکستان کی ایس ای سی پی نے مزید کہا کہ کیپٹل انجینئرنگ اینڈ کنسٹرکشن کمپنی نام کا کوئی ادارہ ہمارے پاس رجسٹرڈ نہیں ہے اور جس گمنام شخص کا ذکر کیا جا رہا ہے، اس کی تحقیق نہیں ہو سکتی۔ وہ آدمی موجود ہی نہیں، تحقیق کیسی۔

بقول خادم اعلیٰ ، مَیں نے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس سے درخواست کی تھی کہ معاملے کی تحقیقات کے لئے ایک فل بنچ بنا دیں تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔

آج مَیں ایک بار پھر عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ خود فل بنچ بنائیں یا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی سربراہی میں فل بنچ بنا دیں۔

مَیں آج عدل کی زنجیر کو ایک بار پھر ہلاتا ہوں کہ ایک فل بنچ بنا کر اس ایک جھوٹ کا نہیں، بلکہ میری ذات پر جتنے الزامات لگائے ہیں، سب کی تحقیقات کی جائیں۔

خدا نحواستہ اگر یہ بنچ میرے خلاف فیصلہ دے دے اور مجھ پر لگائے گئے الزامات درست ثابت ہو جائیں تو مَیں قوم سے معافی مانگ کر ہمیشہ کے لئے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لوں گا،لیکن اگر دوسرے فریق کا جھوٹ ثابت ہو جائے تو انہیں چاہیے کہ وہ کسی درگاہ میں بیٹھ کر تربیت حاصل کریں ۔

انہیں جان لینا چاہیے جھوٹ اور یوٹرن کی بنیاد پر قوم کی رہنمائی نہیں کی جا سکتی۔ میڈیا ٹی وی شوز کے ذریعے اپنی دکان تو چمکا سکتا ہے ،لیکن ان الزامات کا فیصلہ نہیں کرسکتا ۔ کیا عوام نے انہیں اس بات کے لئے ووٹ دیا تھا کہ وہ دن رات جھوٹ بولیں؟

آج وہ خیبر پختونخوا میں 74 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا دعویٰ کر رہے ہیں ۔ ان کے صوبے میں 80 میگا واٹ ایک بجلی کا کارخانہ بند پڑا تھا، وہ پانچ سال گزرنے کے باوجود بند ہے ۔ وہ اس کارخانے کی مرمت نہیں کرا سکے، 74 میگاواٹ بجلی بنانے کا دعویٰ جھوٹ کا پلندہ ہے ۔ صوبے کے دور دراز علاقوں میں 74 میگا واٹ بجلی کا کارخانہ لگانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت ہم سے یہ بجلی خرید نہیں رہی، حالانکہ ان علاقوں میں ٹرانسمیشن لائنیں ہی موجود نہیں ہیں، جہاں وہ یہ کارخانہ لگانے کا دعویٰ کر رہے ہیں ۔یہ ان کا قوم سے سنگین مذاق اور اس کی معاشی حالت سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے مل کر اپنے وسائل سے پانچ ہزار میگا واٹ بجلی کے کارخانے لگائے ہیں اور ایک منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے۔۔۔ یہ حقیقت ہے کہ پنجاب حکومت نے عوامی خدمت کے حوالے بہت کام کیا ہے۔ صحت، تعلیم ، مواصلات و دیگر شعبوں میں پنجاب سب سے آگے ہے۔

یہ میٹرو بس سروس، میٹرو ٹرین عوامی خدمت کے ہی منصوبے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے، تاہم احتساب، شفاف اور بے لاگ ہونا چاہیے ۔ یہ ملک اشرافیہ کا نہیں، بلکہ غریب عوام کا ہے ۔

دیانتداری کے ساتھ عوام کی بے لوث خدمت کو اپنا شعار بنائے رکھا ہے۔اگر آپ نے عوامی خدمت کی ہے اور جو وعدے کئے تھے۔ اس پر حتیٰ الامکان پورا اترنے کی کوشش کی ہے تو آج عوام کی عدالت میں سرخرو ہیں۔ عوام کی خدمت کھوکھلے نعروں سے نہیں ہوتی، اس کے لئے خون پسینہ بہانا پڑتا ہے اور مٹی کے ساتھ مٹی ہونا پڑتا ہے۔

مزید : رائے /کالم