بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں!

بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں!

اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اس عالمی مجلس کے رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ اپنے ملک میں بسنے والی اقلیتوں کو مساوی شہری حقوق دیں، لیکن اس پر کتنا عمل ہوتا ہے اس بارے میں اقوام متحدہ ہی کی رپورٹوں میں ذکر مل جاتا ہے، ہم تو اپنے ہمسائے اور حریف بھارت کا ذکر کرتے ہیں، جہاں مسلمان اور عیسائی اقلیتوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ نچلی ذات کے ہندوؤں اور اچھوتوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک ہوتا ہے، حالانکہ بھارت کا آئین سیکولر ہے اور آئین کے علاوہ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 14/15اگست 1947ء میں اس وقت کے راہنما اور بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی تقریر میں واضح اعلان کیا کہ بھارت میں مکمل طور پر غیر فرقہ واریت ہوگی اور تمام شہریوں کو برابر کے حقوق ملیں گے، بھارتی سینٹر صحافی کلدیپ ناٹر نے تازہ کالم میں تحریر کیا ہے کہ پٹیل جیسے لیڈر نے مسلمانوں کو پیش کش کی تھی کہ وہ اپنے لئے خصوصی مراعات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بتائیں تاہم مسلمانوں نے اس عنائت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پنڈت نہرو کی تقریر پر اعتماد کیا تھا اور اب وہ پچھتاتے ہوں گے۔بھارت میں انسانی حقوق کی جو خلاف ورزیاں ہورہی ہیں ان کی زد میں ساری اقلیتیں ہیں، اس پر موجودہ بھارتی حکومت اور حکمران جماعت بی، جے، پی ڈھیٹ ہے اور کسی اعتراض کا جواب نہیں دیتی اور نہ ہی دنیا کے کسی انسانی حقوق مشن کو اپنے ملک میں آنے دیتی ہے، حال ہی میں مذہبی آزادیوں کے امریکی مشن کو تیسری بار ویزا دینے سے انکار کیا گیا، کمشن کے رکن تھا مس کا کہنا ہے کہ کوئی وجہ بتائے بغیر ویزے سے انکار کردیا جاتا ہے۔

بھارتی حکومت کا ایسا رویہ پاکستان کے ساتھ تسلسل سے ہے اور ویزا پالیسی بہت سخت ہے، اجمیر شریف میں حضرت معین الدین چشتیؒ کے عرس کی تقریبات میں شرکت کے لئے پاکستانی زائرین کو پھر ویزا دینے سے انکار کردیا گیا ہے، دانشوروں اور ادیبوں کی جو مادری زبان کے حوالے سے عالمی کانفرنسیں بھارتی پنجاب میں ہوتی ہیں ان کے لئے بھی شرکاء کو ویزا نہیں دیا جاتا خصوصاً پاکستانیوں کو انکار کیا جاتا ہے اور یہ بھی تین بار موخر کرکے اب 9سے 10مارچ کے لئے مقرر ہے اور تاحال پاکستانی وفد کی ویزا درخواستوں پر جواب نہیں دیا گیا۔بھارت کی نسبت پاکستان کی حکومت کا رویہ ہمدردانہ اور دوستانہ ہے سکھ اور ہندو یاتریوں کو فراخدلی سے ویزے جاری کئے جاتے ہیں اور بھارتی حکومت جاری ویزا والی تعداد کے زائر بھی پاکستان نہیں آنے دیتی، پاکستان میں ابھی گزشتہ روز ہندو برادری نے ’’ہولی‘‘ کا تہوار پورے جوش و خروش سے منایا، حکومت نے نہ صرف اجازت دی، بلکہ مبارک کے پیغام بھی دیئے، سندھ حکومت نے ایک روزہ چھٹی دی اور خود بلاول بھٹو نے تقریب میں شرکت کی۔اب امریکی مشن برائے مذہبی آزادی نے احتجاج کیا تو فرق کا اندازہ بھی ہونا چاہئے، اس حوالے سے اقوام متحدہ کو نوٹس لینا چاہئے کہ نہ صرف مذہبی بلکہ انسانی حقوق کے چارٹر کی بھی خلاف ورزی ہورہی ہے، مہذب دنیا(خصوصاً مغرب) کو کیا ہوگیا کہ وہ بھارت کے ایسے غیر انسانی، غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کا نوٹس نہیں لیتی، یہ احساس ہونا چاہئے کہ بھارت میں مظالم، اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہورہی ہے، اس لئے اقوام متحدہ اور ان تمام ممالک کو غور کرکے ایسا لائحہ عمل مرتب کرنا چاہئے کہ بھارت کو مجبور کیا جائے کہ وہ ان خلاف ورزیوں سے باز آئے۔

مزید : رائے /اداریہ