سب کچھ اللہ کی قدرت سے

سب کچھ اللہ کی قدرت سے
سب کچھ اللہ کی قدرت سے

  

’’بابا ، پاکستان قائد اعظم نے بنایا تھا یا اللہ میاں نے؟‘‘ یہ حیران کُن سوال عبدالرحمان نے کیا جو افسانوی کردار نہیں ، ایم اے او کالج لاہور کے اسسٹنٹ پروفیسر عاطف بٹ کا ساڑھے چار سالہ بیٹا ہے ۔ جبر و قدر کے مسائل میں الجھنے کے لئے میرے وطن میں عمر کی کوئی قید نہیں ۔ پیدائشی پاکستانی زندگی کے کسی بھی مرحلہ پر اِس گومگو کا شکار ہو سکتا ہے ۔

شرط یہ ہے کہ آپ کے اندر کا عبدالرحمان نہ صرف زندہ بلکہ ترو تازہ ہو ۔ ایک عمدہ مثال میرے یارِ عزیز ثقلین امام کی ہے جو پچھلے چودہ برس سے بی بی سی لندن میں ہیں ، مگر ہر سال دو سال بعد جب بھی پاکستان آنا ہو ، دوستوں میں گھلتے ملتے ہی پھر سے عبدالرحمان بن جاتے ہیں ۔

اِس مرتبہ تو کمال ہی کر دیا اور ویک اینڈ پہ انگلستان واپسی سے قبل اپنے فکر انگیز سوالات سے کئی اور دوستوں کے اندر سویا ہوا عبدالرحمان بھی بیدار کر گئے ۔

اگر اِس اجتماعی بیداری کی خبر کو جرنلزم کے نصابی تقاضوں کے مطابق ڈھالنا چاہیں تو سب سے پہلے فائیو ڈبلیوز کے اصول کی رو سے کون ، کہاں ، کیا ، کب اور کیوں جیسے اہم نکتوں کی تشریح کرنا ہو گی ۔

پھر یہ بھی کہ جو کچھ ہوا ، کیسے ہوا ؟ بعض اشارے تو پہلے ہی واضح ہیں ۔ اب اتنا بتا دون کہ کھانے کی یہ محفل جمعرات کی شب فورٹریس اسٹیڈیم کے ایک ریستوران میں جمی ۔ مہمانِ خصوصی ثقلین امام کا اٹھایا ہوا پہلا سوال یہی تھا کہ موجودہ حالات میں ہمیں آئین پہ عملدرآمد کو فوقیت دینی چاہئیے یا جمہوریت کے تحفظ کو ؟ پھر ، کیا یہ دونوں امور امکانی طور پہ لازم و ملزوم ہیں اور اگر ہیں تو نفی یا اثبات میں اِس کا حتمی جواب کون دے گا ؟ ساتھ ہی ثقلین نے خود ہی خیال ظاہر کیا کہ یہ نشاندہی کرنا عدلیہ کا کام ہے ۔ اِس پہ بحث چھڑ گئی مگر ہر کسی نے شائستگی کا دامن تھامے رکھا ۔

شائستگی اِس لئے کہ بات کرنے والوں میں چار تھے ہی تربیت یافتہ براڈ کاسٹر ، دو شعبہء صحافت کے سرکردہ ارکان ، ایک کم گو مگر زود فہم ماہرِ قانون اور ایک دھیمے مزاج کا ریٹائرڈ فوجی افسر ۔

عدلیہ والے نکتہ پہ مزید سوالوں سے پہلے مہمانِ خصوصی نے ایک وضاحت کے ذریعے فضا کو سازگار کیا ، بالکل ویسے ہی جس طرح معروف قوال غلام فرید صابری کہا کرتے تھے ’’مَیں نے ’تاجدارِ حرم‘ کا ماحول بنایا اور قوالی شروع کی‘‘ ۔

ثقلین امام نے بھی کومل سُروں میں کہا کہ پاکستان بننے کے بعد اعلی عدالتوں کا جو عمومی کردار رہا ہم سب اُس سے واقف ہیں ، جہاں جہاں انہوں نے لغزش کھائی اُس کا اعتراف بھی کرنا چاہئیے ۔ پھر بھی ’’عدلیہ کو اِس لئے کام کرنے دیں کہ وہ لوگوں کو ٹیبل ٹینس کی میز پر فٹ بال ، اور ٹینس کورٹ میں کبڈی کھیلنے سے روک سکتی ہے‘‘ ۔

یہی وہ مقام ہے جہاں دیگر شرکائے محفل کے باطن کا عبدالرحمان بھی چونکا ۔ مَیں چونکنے والوں میں شامل نہیں تھا ۔ اِس کا سبب بتانے کے لئے مرکزی کہانی میں ایک ’سب پلاٹ ‘ کا اضافہ کرنے کی خاطر مجھے ذرا فلیش بیک میں جانا پڑے گا ۔

اِن معنوں میں کہ ریستوران میں ثقلین امام اور اُن کے ہم نواؤں کے درمیان علمی مذاکرہ کا آغاز تو شام سات بجے ہوا ، مگر محفل میں سب سے زیادہ شور مچانے والے اِس کالم نویس کی عبدالرحمانیاں دو گھنٹے پہلے ہی زور پکڑ چکی تھیں ۔

مگر کہاں، کیوں او ر کیسے ؟ تو خدا کو حاضر و ناظر جان کر بتاتا ہوں کہ یہ نازک ذاتی واقعہ فورٹریس اسٹیڈیم سے چھ کلو میٹر مغرب میں پیش آیا اور اِس کا پیش خیمہ موبائل پہ موصول ہونے والا میرے نیٹ ورک کا یہ پیغام تھا کہ اے گولڈ کارڈ کسٹمر اپنے ’تھری جی‘ کنکشن کو بلا تاخیر اور بلا معاوضہ ’فور جی‘ کروا لیجئے ۔

شام گئے دوستوں کی جو محفل میری میزبانی میں برپا ہونے کو تھی ، اُس کی بے تکلفی کے پیشِ نظر ہمارے پوٹھواری دوست اُسے ’گوتم گاہ‘ اور سیالکوٹ والے رشتہ دار ’نامعقولاں دی پریہہ‘ کہیں گے ۔

گوتم گاہ کے انعقاد میں ابھی اتنا وقت تھا کہ مَیں موبائل فون کو اپ گریڈ کرانے کے لئے جیل روڈ پر واقع اُن کے دفتر پہنچ گیا ۔ یہیں سے میرا بھٹہ بیٹھنا شروع ہوتا ہے ۔

مقررہ کسٹمر سروس ہے تو ایڈن سنٹر میں ، جہاں سے روزنامہ پاکستان کا فاصلہ کوئی تین سو گز ہوگا ۔ مگر نہیں جناب ۔ ہمارے دور کے شیرشاہ سوری نے سڑکوں اور پُلوں کی تعمیر و توسیع میں اتنی بصیرت سے کام لیا ہے کہ سگنل فری کوریڈور کی راہ ہموار کرنے کے لئے اب یہ تین سو گز مزنگ چونگی کے یو ٹرن کے راستے تین کلو میٹر میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ خیر جی ، کار پارک کی اور سکیورٹی گارڈ کو تلاشی دے کر دفتر کے اندر داخل ہو گیا ۔

شیشے کا دروازہ کھولتے ہی ایک خوش لباس خاتون نے سرپرستانہ انداز میں پوچھا ’’واٹ کین آئی ڈو فار یو؟‘‘ چند لفظوں میں بتایا کہ مجھے اپنا سِم تھری جی کے بجائے فور جی کروا لینے کا پیغام ملا ہے ۔ خاتون نے مشین میں سے کاغذی ٹوکن نکال کر میرے حوالے کیا ’’ہیو اے سیِٹ اینڈ ویٹ فار یور ٹرن۔

‘‘ اگر آپ بینک اکاؤنٹ کے موضوع پر اسٹیفن لیکاک کی تحریر کا مطالعہ کر چکے ہیں تو آپ کسی چھوٹے بڑے کام کی غرض سے تجارتی دفاتر کے اندر میری کیفیت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں ۔

باری کا انتظار کرتے ہوئے پتا چلا کہ آفس پانچ بجے شام بند ہو جاتا ہے ، جس میں صرف بیس منٹ باقی ہیں ۔ اِس بیچ بذریعہ انگوٹھا نئے سرے سے بایو میٹرک شناخت کا رولا بھی تھا ۔ خیر کوئی ایسا اعتراض نہ اٹھا کہ مجھے نیب کے سپرد کر دیا جاتا ۔ یوں چند لمحوں کے اندر مَیں کاؤنٹر فائیو سے فارغ ہو گیا ۔

کھانے کی دعوت کے لئے دو الگ الگ دوستوں کو اُن کے گھروں سے لینا میری ذمہ داری تھی ۔ اِس لئے اوقات نامہ کی ممکنہ پیچیدگی سے بچنے کی خاطر دفتر سے نکلتے ہوئے کاؤنٹر پر تجارتی اخلاق والے نوجوان سے ایک بار پھر پوچھا کہ اب سِم بدل جانے پر مجھے بطور صارف کوئی مزید فنی اقدام کرنے کی ضرورت تو نہیں ۔

کہنے لگے کہ سب کچھ ایکٹیویٹ کر دیا ہے ، پرواہ نہ کریں ۔ سو ، گھر کی راہ لی اور سوچنے لگا کہ ثقلین امام سے ملاقات کوئی معمولی واقعہ تو نہیں ۔

خود اعتمادی میں اضافہ کے لئے نئی شرٹ کے ساتھ دو رنگوں والی ٹائی زیب تن کی اور عادتاً آخری یاد دہانی کے طور پر ایک ایس ایم ایس کا ’اومنی بس‘ متن سب شرکائے محفل کے نام بھیجنے کے لئے فون کا بٹن دبایا ۔ میرے مولا ، یہ کیا ؟

’’آپ کو پیغام بھیجنے اور کال کرنے کی سہولت حاصل نہیں‘‘ ۔ پاس بیٹھی بیوی نے مجھے فون کیا تو بھی گھنٹی نہ بجی ۔ پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی ۔

تو اب کیا کروں؟ موبائل کا دفتر بند ہو چکا تھا ۔ کوئی ہیلپ لائن بھی ہوتی ہوگی ، مگر وطنِ عزیز میں کوئی بھی مسئلہ ہیلپ لائن سے حل ہونے کا اتفاق کم ہی ہوا ہے ۔ جو دو آدمی گھروں میں بیٹھے میری راہ دیکھ رہے ہیں ، وہ ایک طرف ۔

جنہوں نے راستہ سمجھنے کے لئے فون کرنا ہے ، جب مجھ سے رابطہ نہ ہوا تو وہ یہی سمجھیں گے نا کہ میزبان ہمیں چکر دے کر کہیں بھاگ گیا ہے ۔ ریڈیو ، ٹی وی پریزنٹیشن کے طویل تجربہ کی بدولت مجھے اچانک پریشان ہو جانے اور پھر ظاہری طور پہ یکدم اوسان بحال کر لینے کی مشق تو ہے ہی ۔ چنانچہ اللہ کا نام لیا اور چل پڑے ۔ راستے میں کسی دقت کے بغیر سواریاں اٹھائیں ۔

ہوٹل پہنچے تو دو احباب کو پہلے سے موجود پایا ۔ تین کچھ ہی دیر میں خود ہی آ پہنچے ۔ ہاں ، مجھے یہ شکوہ بار بار سننا پڑا کہ مَیں بڑیاں کالاں کیتیاں ، تُسیں فون بند کیتا ہوئیا سی ۔

پاکستان میں اقتدارِ اعلی کا سرچشمہ کون ہے؟ پارلیمنٹ کی بالا دستی ، عدلیہ کی آزادی ، قانون کی حکمرانی ، سول اور فوجی بیوریوکریسی کا رول ، یہ سب آخر ہے کیا ؟ آیا مملکت اور معاشرہ ایک ہی چیز ہے اور کیا ایک کے بغیر دوسری کو ٹھیک کیا جا سکتا ہے ؟

یہ بحث دائروں میں چلتی رہی ۔ واپسی پر میرے یہاں کافی پیتے ہوئے ثقلین امام نے کہا کہ کھانے کے وقت ہم اتنا اونچا بول رہے تھے جیسے سب کے سب ’ڈرَنک‘ ہوں ۔

درحقیقت اِس مہذب آدمی کا اشارہ محض میری بلند گوئی کی طرف تھا ۔ اگلی صبح موبائل نیٹ ورک والوں نے میرا فون پھر سے چالو کر دیا۔ جب پوچھا کہ خرابی کیا تھی تو فرمایا ’’یہ امپورٹڈ فون ہیں ، کبھی سگنل کیچ کرتے ہیں کبھی نہیں ۔‘‘ مجھے لگا کہ ہم آٹھ دانشور زور لگا کر بھی مسائل کی گتھیاں نہیں سلجھا سکے ، لیکن ننھے عبدالرحمان کو اُس کے سوال کا جواب مل گیا ہے۔

مزید : رائے /کالم