ویسٹ انڈیز نے پاکستان کی اڑان بھرنے کی حامی بھرلی

ویسٹ انڈیز نے پاکستان کی اڑان بھرنے کی حامی بھرلی

پاکستان سپر لیگ اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکا م ثابت جس کی سب سے بڑی مثال شائقین کرکٹ کی اتنے بڑے ایونٹ میں عدم دلچسپی ہے پاکستانی او ر غیر ملکی کھلاڑی بھی خالی سٹیڈیم میں کھیلتے مایوس نظر آتے ہیں جس سے کرکٹ بورڈ کی نااہلی پر کئی سوالات اٹھ رہے ہیں پی سی بی اور پی ایس ایل کے چیئرمین نجم سیٹھی جو کافی عرصہ سے بلند و بانگ دعوے کررہے تھے کہ لیگ میں شائقین کی بڑی تعداد دلچسپی کا اظہار کررہی ہے اور دبئی اور شارجہ میں کھیلے جانے والے میچز کے تمام ٹکٹس بھی فروخت ہوچکے ہیں ان کی نااہلی جو چھپانے کاذریعہ ثابت ہوئی ہے لیگ میں پاکستانی بورڈ کو فائدہ کے بجائے شدید مالی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے اس میں بورڈ چیئرمین کے ساتھ ساتھ ان کے قریبی ساتھی اور بورڈ کے اعلی افسران بھی برابر کے شریک ہیں جو ان کو سب اچھا کی رپورٹ دیکر مطءئن کردیتے ہیں۔ جبکہپاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے دوران اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں اوپننگ بیٹسمین شاہ زیب حسن پر ایک سال کی پابندی سمیت 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا۔ جسٹس ریٹائر اصغر حیدر کی سربراہی میں سابق چیئرمین پی سی بی لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیا اور سابق وکٹ کیپر وسیم باری پر مشتمل اینٹی کرپشن ٹریبونل نے شاہ زیب حسن کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ سنایا۔ پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن میں کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے والے شاہ زیب حسن نے پی سی بی کے ضابطہ اخلاق کی تین شقوں کی خلاف ورزی کی تھی۔ اینٹی کرپشن ٹریبیونل نے شاہ زیب حسن کو تین میں سے دو شقوں کی خلاف ورزی پر سزا سنائی گئی۔ پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی نے کہا کہ پی سی بی نے شاہ زیب حسن پر چار الزامات لگائے تھے، تین ثابت ہوگئے۔ ابھی مختصر فیصلہ آیا ہے لہٰذا تفصیلی فیصلہ کے بعد اس پر اپیل کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ میرے علم میں ہے کہ شاہ زیب حسن کی پابندی کی سزا مارچ 16یا 17کو ختم ہوجائے گی لیکن جب تک وہ اپنی غلطی نہیں مانتے اور اس پر افسوس کا اظہار کرنے کے علاوہ بحالی کے عمل سے نہیں گزرتے اس وقت تک وہ کرکٹ کی دنیا میں واپس نہیں آسکتے۔دوسری طرف غیر ملکی کھلاڑیوں کی پاکستان آمد بھی سوالیہ نشان بن گیا ہے اس حوالے سے بھی کئے گئے بورڈ افسران کے دعوے صرف دعوے ہی نظر آتے ہیں کئی غیر ملکی کھلاڑیوں کو منانے کی کوششیں تاحال جاری ہیں جن کی طرف سے ابھی تک بورڈ کو گرین سگنل نہیں مل سکتا ہے ان تمام حقائق کے بعد یہ بات تو کھل کر سامنے آگئی ہے کہ اتنے بڑے ایونٹ کے لئے بورڈ نے بہترین حکمت عملی تیار نہیں کی اور اس سے کھیلے گئے پی ایس ایل کے ایڈیشنوں کی نسبت اس مرتبہ شائقین کی بہت کم تعداد ان میچز میں دلچسپی ظاہر کررہی ہے پاکستان سپر لیگ کو اگر پاکستان کے گراؤنڈز میں ہی منعقد کروالیا جاتا تو یہاں پر بورڈ کو اتنے بھاری مالی نقصان کو برداشت کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی مگر بورڈ نے صرف اور صرف اپنا مفاد دیکھ کر اس کو دبئی اور شارجہ میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جو سراسر غلط ثابت ہوا بھاری معاوضوں پر غیر ملکی کھلاڑی بورڈ کے پابند ہیں مگر اس کے باوجود بورڈ ان کے نخرے برداشت کرنے میں مصروف ہے اور ان کو ہر طرح سے جس طرح قائل کیا جارہا ہے اس سے بھی پوری دنیا میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی جگ ہنسائی ہوئی ہے دیکھنا یہ ہے کہ پی ایس ایل کے اگلے میچز میں شائقین کی طرف سے دلچسپی لی جاتی ہے کہ ایسے ہی خالی گراؤنڈ ز میں میچوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ دوسری طر ف بھارتی کرکٹ بورڈ نے ایک مرتبہ دوبارہ پاکستان کو دھوکہ دیدیا اپریل میں لاہور میں کھیلی جانے والی ایمرجنگ ایشیاء کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے سے انکار کردیا ہے جس وجہ سے اب ٹورنامنٹ کا انعقاد ہی خطرہ میں پڑ گیا ہے آخری وقت میں جب ٹورنامنٹ کی تیاریاں مکمل کی جارہی تھی بھارت کی جانب سے یہ اقدام نہایت افسوناک او ر کھیل دشمنی کا ثبوت ہے جس سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سال ستمبر میں بھارت میں ہونے والی ایشیاء کپ میں شرکت کا فیصلہ کرنا ہے اور اب بھارت کے انکار کے بعد امکان ہے کہ پاکستانی ٹیم بھی بھارت میں کھیلنے کیلئے نہ جائے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی جو ایشین کرکٹ کونسل کے سربراہ بھی ہیں کا کہنا ہے کہ بہت جلد کولمبو میں ایشین کرکٹ کونسل کی میٹنگ بھی طلب کی جارہی ہے جس میں بہت سارے کرکٹ کے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور بھارت کے اس اقدام کو بھی ایجنڈے میں شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ اپریل میں بھارت کے شہر کولکتہ میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی میٹنگ منعقد ہورہی ہے مگر بھارتی میڈیا کے مطابق چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی اس میٹنگ میں بھارتی حکومت کیجانب سے ویزا نہ ملنے کی وجہ سے شرکت نہیں کرسکیں گے اور ان کو اس میٹنگ میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے اپنا موقف پیش کرنے سے بھی محروم رہنا پڑے گاجس کے بارے میں نجم سیٹھی کہہ چکے ہیں کہ مجھے بھارت جانے کا شوق نہیں ہے اگر ویزا ملا تو جاؤنگا ورنہ مجھے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا شوق نہیں ہے اور ویزاملا تو میں ضرور جاؤنگا دوسری جانب شائقین کرکٹ کے لئے خوشخبری یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی ویسٹ انڈین کرکٹ بورڈ سے انکی ٹیم پاکستان بھیجنے کی منتیں کام آگئیں اور نہ نہ کرکے اب ڈیڈ لاک ختم ہوا۔ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ملنے والی نئی تجویز کے بعد اب اس بات کا دعویٰ کیا جارہا ہے کہ ویسٹ انڈین ٹیم لاہور میں یکم، دو اور چار اپریل کو میچز کھیلے گی۔ کھلاڑی لاہور میں چار دن قیام کریں گے۔ پاکستان سپر لیگ فائنل کے بعد پاکستانی کرکٹرز 27 مارچ کو مختصر کیمپ کیلئے لاہور میں جمع ہوں گے۔نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لئے ہماری کوششیں درست سمت میں جارہی ہیں۔ ویسٹ انڈین بورڈ کو پاکستان کی جانب سے جواب ملنے کے بعد دورے کی تصدیق کرنا ہے۔ نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ پی ایس یل کے بعد ہماری ٹیم فارغ ہے اس لئے ہمیں تاریخوں پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یہ سیریز ایسے وقت ہوگی جب ویسٹ انڈین بورڈ کو اس سے چند دن پہلے زمبابوے میں ورلڈ کپ کوالی فائر میں بھی شرکت کرنا ہے۔ اگست میں امریکا میں ہونے والا تین ملکی ٹورنامنٹ بھی ہونا ہے جس کا میزبان ویسٹ انڈین بورڈ ہوگا۔ پاکستان، ویسٹ انڈیز اور بنگلہ دیش کے درمیان ہونے والے اس تین ملکی ٹورنامنٹ کے میچ ہیوسٹن اور فلوریڈا میں کرانے کی تجویز ہے۔

مزید : ایڈیشن 1