(ن)لیگ سمجھ لے،90کی دہائی والی سیاست ختم ہوچکی ہے،میاں مقصود

(ن)لیگ سمجھ لے،90کی دہائی والی سیاست ختم ہوچکی ہے،میاں مقصود

ملتان (سٹی رپورٹر) امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے نااہل شخص کے پارٹی صدر بننے سے متعلق مقدمے کے تفصیلی فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ آئین کے آرٹیکل 62ایف ون کے تحت عوامی عہدے سے نااہلیت کے بعد کوئی بھی شخص پارٹی کا صدر نہیں ہوسکتا،یہ آئین سے متصادم ہے۔مسلم لیگ(ن)کویہ سمجھ لینا چاہئے کہ اب ملک میں90کی دہائی والی سیاست کادور ختم(بقیہ نمبر12صفحہ12پر )

ہوچکا ہے۔اس حوالے سے عوام میں مکمل سیاسی شعور پایاجاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اگر حقیقی معنوں میں آگے لے کر جانا ہے تو آئین وقانون کی پاسداری کویقینی بناناہوگا۔ماورائے آئین وقانون اقدام ملک وقوم کے مفاد میں کسی صورت نہیں ہوسکتے۔اداروں کا احترام ہونا چاہئے اور تمام اداروں کو متعین حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔پاکستان میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کاقانون درحقیقت بااثرافراد کو ہرقسم کااختیار دیتاہے کہ وہ جوجی میں آئے کریں،انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔اشرافیہ نے قانون کو موم کی ناک بنارکھا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان22کروڑ عوام کا ملک ہے مگر بدقسمتی سے صرف پانچ سوخاندانوں نے اس کے اقتدار پرقبضہ جمارکھا ہے۔جب تک حقیقی عوامی نمائندے برسراقتدار نہیں آجاتے ملک میں مثبت تبدیلی رونما نہیں ہوسکتی۔صرف ایک شخص کی خاطر قانون سازی جمہوری اداروں کی کارکردگی پر بڑاسوالیہ نشان ہے۔

میاں مقصود

مزید : ملتان صفحہ آخر