امریکہ کی شراکت دار ممالک سے تجارتی جنگ تیز ہوگئی

امریکہ کی شراکت دار ممالک سے تجارتی جنگ تیز ہوگئی

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) امریکہ نے ملکی درآمد پر ڈیوٹی عائد کرکے اپنے شراکت دار ممالک سے جس تجارتی جنگ کا آغاز کیا تھا وہ ان ممالک کے شدید ردعمل کے اب تیز ہوچکی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیل کی درآمد پر 25 فیصد اور ایلومینیم کی درآمد پر 10 فیصد ڈیوٹی عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ امریکی الیکٹرانک میڈیا نے اس پر عالمی ردعمل کو نمایاں طور پر نشر کیا ہے۔ سب سے اہم بیان کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا سامنے آیا ہے جو امریکہ کے اتحادی اور ٹرمپ کے قریبی دوست شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس ڈیوٹی کو قطعی ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کی صفت کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کریں گے۔ کینیڈا ان دو دھاتوں کے حصول کیلئے امریکہ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ یورپی یونین کمیشن کے صدر جان کلاڈ جنکر نے خبردار کیا ہے کہ ان کی یونین جوابی کارروائی کے طور پر امریکی مصنوعات کی مصنوعات پر بھی اضافی ڈیوٹی لگا سکتی ہے۔ شدید عالمی ردعمل کے بعد صدر ٹرمپ دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ تاہم وہ ڈیوٹی واپس لینے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اس پر دستخط کر دیں گے اور یہ ڈیوٹی لمبے عرصے تک جاری رہے گی۔

مزید : علاقائی