ساڈی وی کوئی عزت، کوئی ڈیمانڈ اے

ساڈی وی کوئی عزت، کوئی ڈیمانڈ اے
ساڈی وی کوئی عزت، کوئی ڈیمانڈ اے

  

سینیٹ الیکشن میں جس طرح کی تھیں پٹاس ہوئی ہے، وہ دیوار پر لکھی تحریر کی طرح پڑھی تو جاسکتی تھی، لیکن پاکستان کی دیواروں پر اتنی دھبڑ دھوس تحریریں ہوتی ہیں کہ کچھ بھی مکمل نہیں پڑھا جاسکتا۔ شکر کریں سینیٹ الیکشن میں ایمپائر ریویو کی سہولت تھی ورنہ آج ایم کیو ایم کلین بولڈ ہوکر پویلین میں بیٹھی ہوتی۔ جس طرح فاروق ستار اور خالد مقبول کی جوتیوں میں دال بٹی ہے وہ شکر منائیں۔ ایک ناک اور دوسرے کی دم بچ گئی، ورنہ اس طرح کی لڑائیوں میں بلکہ انہے واہ لڑائیوں میں سب کچھ گم ہو جاتا ہے۔

شکر کریں وہ ’’انٹا غضیل‘‘ ہونے سے بچ گئے۔ یہی قانون فطرت ہے اگر آپ اپنی طاقت کا بے جا استعمال کریں گے تو کچھ وقت کے بعد آپ کی ٹانگیں کانپنے لگیں گی۔ غلط مطلب نہ لیجئے انسان اپنی طاقت کے بل بوتے پر کب تک بھاگ بھاگ کر لڑ سکتا ہے۔ لیکن اگر ایم کیو ایم الیکشن سے یا قومی سیاست سے آؤٹ ہو جائے تو پاکستان کے سیاسی گٹر میں ابلتے المیوں میں ایک مزید بلبلے کا اضافہ ہو جائے گا۔ مجھے ذرا سمجھائیں شکوک و شبہات کی مسلسل فضا میں کہا جا رہا تھا کہ شاید سینیٹ الیکشن نہ ہوں، چلیں جی اب الیکشن ہوگئے۔ اب ذرا مجھے بتائیں ان انتخابات سے کیا مثبت تبدیلی آگئی۔ پاکستان کی سیاست کے امام آصف زرداری ایک بار اپنی بکل میں بہت سے چور سمیٹ کر بیٹھ جائیں گے۔ یعنی زیرو جمع زیرو برابر زیرو، اور ہماری معصوم عوام اس عطار سے دوا مانگتی رہے گی اور اس کا علاج کامیابی سے جاری رہے گا۔ کوئی ایک تبدیلی بتا دیں، کوئی ایک اچھی بات ان الیکشن کی بتا دیں۔

وہی پرانی فلم، وہی پرانے چہرے، وہ ڈائیلاگ، وہی سکرپٹ،چلو بندہ فلم کی کہانی وہی رکھے۔ کم از کم سٹوری ہی بدل لے۔ سنتا سنگھ کہنے لگا یار میں آئندہ شرطیں نہیں لگایا کروں گا۔ بنتا تم ایسا نہیں کر پاؤ گئے۔ سنتا بولا چل لا شرط۔ میری بات یاد رکھیں، یہ دم کبھی سیدھی نہیں ہونے والی۔ مہربان، قدر دان حتیٰ کہ بابا رحمتا بھی خاموشی سے پھٹی پرانی لیر و لیر فلم دیکھ رہا ہے۔ کوئی بولے گا، کیسے سینیٹ کی سیٹیں جیتی گئیں۔ کوئی شکر دوپہرے پپلی دے تھلے ونگاں چھنکائے گا۔ کس طرح معزز ارکان کی قیمتیں لگیں، کس طرح ان کی بولیاں بولیں گئیں۔ کیا یہی مستقبل ہے پاکستان کا؟ تین دوست اپنی اپنی دکھوں کی داستان سنا رہے تھے۔ ایک بولا یارو میں دس سال افریقہ کے جنگلوں میں بھٹکتا پھرا۔ دوسرا بولا یار میں پندرہ سال تپتے صحرا میں زندگی کی تلاش میں آبلاپا گم رہا۔

تیسرا بولا یار میری وی سنو میں ستر سال سے پاکستانی جمہوریت کے ساتھ رہ رہا ہوں۔ جی ہاں ہم ستر سال سے ایک نظام کے ساتھ رہ رہیں ہیں۔ جن کے ٹھیکیداروں کے سرے محل ہیں، برٹش فلیٹس ہیں اور پاکستان میں جعلی کاغذات والے بنگلے ہیں۔ جس ملک میں غریب کا بچہ اصل پانی پی سکتا ہے نہ غذا کھا سکتا ہے، نہ تعلیم اس کا مقدر نہ صحت کی ضمانت نہ مستقبل یقینی۔ اس نظام کے ذمہ داروں کہ بچوں کے مستقبل اتنے محفوظ ہیں کہ ان کی پیدائش سے پہلے وہ اربوں کھربوں کے مالک ہوتے ہیں۔ ان کے بھرے پیٹوں سے اٹھنے والی ڈکاروں سے غریبوں سے محبت کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔ بھیا زرداری جیتیں، نواز شریف جیتیں یا عمران خان میں نے تو گٹر والا پانی پینا ہے۔ دودھ کے نام پر کیمیکل اپنی رگوں میں اتارنے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ مر جانا ہے۔ سنتا سنگھ نے پوچھا شیر اور ہاتھی میں کیا فرق ہے۔ بنتا سنگھ بولا کوئی فرق نہیں۔ سنتا سنگھ وہ کیسے؟ بنتا بولا دواں نوں سکوٹر چلانا نئیں آؤندا۔ بھیا ہمارے لئے تو شیر چیتے اور لومڑ میں کوئی فرق نہیں، کسی کو بھی حکومت چلانی نہیں آتی۔ ان سے اچھے تو ہمارے چنگچی ڈرائیور ہیں۔

کیا بابا رحمتے سینیٹ الیکشن میں گھوڑوں اور گدھوں کی خرید و فروخت کا بھی نوٹس لیں گے۔ اگر ایک کرپٹ وزیراعظم نہیں بن سکتا تو ایک بکاؤ مال سینیٹر کیسے بن سکتا ہے؟ بریک تے پیر رکھ کاکا، پکچر ابھی باقی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کی ایک بڑی تعداد ساڈا چڑیاں دا چنبہ وے بابل اساں اڈ جاناں گاتی پھر رہی ہے۔ کیا یہی جمہوریت ہے؟ کیا اس ملک میں صرف ہمارے پیارے بڑے میاں صاحب کرپٹ کنگ ہیں؟ ابھی چیئرمین سینیٹ منتخب ہونا ہے، آزاد امیدواروں نے اپنے اپنے چھجوں پر بیٹھنا ہے اور میرے مہربانو اتنا لمبا ایپی سوڈ کیوں کرتے ہو، سیدھا کہو بس وڈے میاں صاحب کو فارغ کرنا ہے، جس طرح صرف ان میں سے کیڑے نکالے جا رہے ہیں، اس طرح تو مائیں سروں سے جوئیں نہیں نکالتیں، مائنس میاں صاحب ہونگے، ورنہ نظام یہی رہے گا۔ اسی طرح ارکان پیروں میں گھنگرو باندھ کر پیسوں کی تھاپ پر تھاہ تھاہ تھیا کریں گے۔ فاٹا بلوچستان کے آزاد ارکان میں جمہوریت کا ’’سی پیک‘‘ مبارک ہو۔

ہمارے چھوٹے میاں صاحب کو ایڈمنسٹریشن تو آتی ہی ہے، انہیں پریس کانفرنسیں کھڑکانی بھی آتی ہیں۔ جس اعتماد سے وہ اپنی دیانت، شرافت اور صداقت کی کہانیاں سناتے ہیں، میری تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ لیٹ نائٹ بچہ بولا ممی مجھے کوئی کہانی سناؤ، وہ بولی پتر تیرا ابا آرہا ہے وہ کوئی نئی کہانی سنائے گا۔ سینیٹ الیکشن میں اس بار رام بلرام کی جوڑی میں بڑے میاں صاحب کی جگہ چھوٹے بھیا آصف زرداری کے ساتھ بنے چاہے دشمن زمانہ ہمارا۔ سلامت رہے دوستانہ ہمارا گائیں گے۔ حالات کی تکنیکی خرابی کے باعث انہیں ایک بار پھر زرداری صاحب کو سڑکوں پر گھسیٹنے کا منصوبہ پوسٹ پون کرنا پڑے گا۔ ستر سال سے یہی دھوپ چھاؤں چل رہی ہے۔ بیگم بولیں آئیں لکن میٹی کھیلتے ہیں۔ اگر آپ نے مجھے تلاش کرلیا تو آپ کو شاپنگ کرانی پڑے گی۔

عوام جیسے معصوم شوہر نے گھبرا کر کہا اور اگر نہ تلاش کرسکا۔ بیگم بولیں ایسا تو نہ کہیں میں دروازے کے پیچھے چھپی ہونگی۔ اس بار بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مل کر چیئرمین سینیٹ بنائیں گے، کیونکہ جمہوریت میں ہی سب کی بقا ہے۔ اس نظام میں ہی سب کا فائدہ ہے اور یہ نظام ایسے ہی سینیٹ الیکشن جنتا رہے گا۔ یہ نظام ایسے ہی چند سیاسی فرانچائز جماعتوں کا کانا رہے گا۔ آپ خود دیکھ لیں گے، یہ آزاد ارکان کس طرح دوستوں مہربانو کی آشیر باد سے اڑتے پھریں گے۔ ڈاکٹر بولا سوری آپ کی بیوی دو تین دن کی مہمان ہے۔ شوہر بولا جہاں اتنا صبر کیا وہاں دو تین دن اور سہی۔ لیکن یہ قوم صرف صبر کرتی رہے گی۔ اس کی قسمت میں ابھی ایک صاف شفاف جمہوریت نہیں۔ سینیٹ میں بکنے والوں کی قیمت کروڑوں میں ہے تو ہم نے بھی اپنے ریٹ مقرر کر رکھے ہیں۔ اس بار الیکشن میں ہم بریانی کی پلیٹوں کے ساتھ رائتہ بھی طلب کریں گے۔ آخر ساڈی وی کوئی عزت، کوئی ڈیمانڈ اے۔

مزید : رائے /کالم