سینیٹ انتخابات کے بعد

سینیٹ انتخابات کے بعد
سینیٹ انتخابات کے بعد

  

پاکستانی سیاست میں بہت کچھ ایسا ہو رہا ہے جو ہر دیکھنے والی آنکھ کو نظرآ رہا ہے، لیکن بہت کچھ ایسا بھی ہو رہا ہے کہ جو نہ دکھائی دے رہا ہے، نہ سجھائی دے رہا ہے لیکن ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، سینیٹ کے انتخابات کے لئے ووٹنگ جاری ہے۔ ان انتخابات کے نتیجے میں اس ایوان کے اندر پیپلزپارٹی کی عددی برتری ختم ہو جائے گی۔ ہرشخص کو پتہ تھا کہ 2018ء میں مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادی یہاں اکثریت میں ہوں گے اور یوں ان کے لئے قانون سازی آسان ہو جائے گی۔

مسلم لیگ(ن) کو قوانین بنانے یا موجودہ قوانین میں ترمیم کرنے کے لئے ’فری ہینڈ‘ مل جائے گا۔ یہ صورت حال مخالفین کو گوارا نہیں تھی، وہ اندازوں اور پیش گوئیوں کا طوفان اٹھاتے رہے۔ کوئی حکومت کے خاتمے کی خبریں اڑاتا رہا تو کوئی ایک یا دو صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا۔ آرزو یہی تھی کہ سینٹ انتخابات کو موخر کر دیا جائے۔ یہ سب قیافے اور اندازے بے بنیاد ثابت ہوئے۔ جب جھٹلایا جاتا تھا تو پُرشور عناصر منہ نوچنے کو دوڑتے تھے۔ وہ کسی کو اپنے رنگ میں (حقیقت کی) بھنگ ڈالنے کی اجازت دینے پر تیار نہ تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ ہر کوئی ان کے رنگ میں رنگ جائے، ان کی عینک لگا کر وہی دیکھے جووہ دکھانا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم نوازشریف کی نااہلی کے بعد بساطِ سیاست لپیٹی جا سکی نہ مسلم لیگ (ن) میں بغاوت برپا کی جا سکی۔ نوازشریف اپنی بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کرتے چلے گئے۔ ان کے حامیوں میں سے کوئی انہیں چھوڑنے پر تیار نہیں تھا۔ بھاری تعداد تو غصے سے بھر گئی تھی اور بقول مریم نوازشریف اس نے نوازشریف کو اپنی ضد بنا لیا تھا۔ نااہلی کے عدالتی فیصلے کے بعد جتنے بھی ضمنی انتخابات (پنجاب میں) منعقد ہوئے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار انہیں جیت کر دکھاتے چلے گئے۔

طرح طرح کے گروپ میدان میں اتارے گئے، آزاد امیدواروں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا، لیکن مسلم لیگ (ن) کی راہ روکی نہ جا سکی۔ نقشے بنانے والوں کا خیال ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) سے مذہبی حلقے کے زیر اثر ووٹ واپس لے لئے جائیں گے تو اس کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ پاکستانی سیاست کی تاریخ سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق کی رخصتی کے بعد پیپلزپارٹی سے مقابلے کے لئے اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) تشکیل دیا گیا تھا تو اس میں مسلم لیگ کے ساتھ موثر مذہبی جماعتیں بھی موجود تھیں ۔ان سب کے ووٹ مل کر ہی پیپلزپارٹی کے مقابلے میں دیوار کھڑی کر سکے تھے۔پھر یہ ہوا کہ پیپلزپارٹی کے ووٹ کم ہوتے چلے گئے،اس کا مقابلہ کرنے کے لئے کسی بڑے انتخابی اتحاد کی ضرورت نہ رہی۔

مسلم لیگ (ن) اکیلے ہی آئی جے آئی کی وراثت سنبھالنے میں کامیاب ہو گئی۔ پیپلزپارٹی کی جگہ تحریک انصاف ابھری تو مسلم لیگ (ن) کے حلقہ انتخاب میں کوئی بڑی نقب نہ لگا سکی۔ منصوبہ سازوں نے مسلم لیگ (ن) کے سامنے نئی مذہبی جماعتوں کو لاکھڑا کیا، خیال ہوگا کہ اس کے ووٹ کم کرکے مخالفوں کو تقویت دے دی جائے گی۔ ہزاروں ووٹ نوزائیدہ جماعتوں نے حاصل کر بھی لئے، لیکن مطلوبہ نتائج نہ مل سکے کہ مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان فاصلہ زیادہ تھا۔ آزاد امیدوار بھی کام نہ آئے، اور مسلم لیگ (ن) نشستیں حاصل کرتی چلی گئی یہاں تک کہ لودھراں میں جہانگیر ترین کی نااہلی کے بعد ان کی خالی نشست پر ان کا بیٹا علی بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ نوازشریف کی ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ گردان موثر ثابت ہوئی اور ان کا حلقہ انتخاب متحد ہی نہیں(ایک حد تک) مشتعل بھی نظر آیا۔

عوامی طاقت کے اس مظاہرے نے مسلم لیگ (ن) کے ارکان اسمبلی کے پاؤں بھی جما دیئے۔جس بھاری تعداد میں بغاوت کی خبر دی جا رہی تھی، وہ تادمِ تحریر دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ اگرچہ کھسرپھسر اب بھی جاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو ایم کیو ایم بنانے کی ترکیبیں اب بھی لڑائی جا رہی ہیں۔ ہر روز کانوں میں یہ انڈیلا جاتا ہے کہ نوازشریف کی ’’زبان بندی‘‘ ہونے والی ہے۔ ان کی تقریروں پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ مسلم لیگ (ن) سے ایک اور مسلم لیگ اور کئی عدد مسلم لیگی نکال کر دکھائے جا سکتے ہیں۔ جو لوگ میدانوں پر نظر رکھتے اور وہیں سے طاقت حاصل کرتے ہیں، وہ اس طرح کی کھٹ کھٹ سے بے حوصلہ نہیں ہوتے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوچستان میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت کا تختہ اس کے ارکان ہی نے الٹ دیا اور اب وہ آزاد ارکان کو سینیٹ میں بھجوانے میں مصروف ہیں۔وہاں یہ حرکت تو اہلِ سیاست نے اپنے ذمے لے لی، لیکن پنجاب میں عدالتی فیصلے نے مسلم لیگ(ن) کے ارکان کو پارٹی ڈسپلن سے آزاد کر دیا ۔ سپریم کورٹ نے نوازشریف کو پارٹی صدارت سے نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے جاری کردہ ٹکٹ بھی ’’غیرقانونی‘‘ قرار دے دیئے۔ یوں مسلم لیگ (ن) کے ارکان آزاد ہو گئے۔ توقع تو یہی ہے کہ یہ منتخب ہو کر ’’مادر پدر آزاد‘‘ نہیں ہوں گے۔ جب یہ سطور پڑھی جا رہی ہوں گی، صورت حال واضح ہو چکی ہوگی۔سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ جو کچھ ہوا یا اس نے اپنے ساتھ جو کچھ کیا، اس کا کیا نتیجہ نکلے گا وہ بھی سامنے آ جائے گا۔

مسلم لیگ (ن) اب میاں شہبازشریف کی صدارت میں سرگرم عمل ہے، نوازشریف سے وزارت عظمیٰ چھیننے والوں نے مسلم لیگ کی صدارت بھی چھین لی ہے۔ وہ اب سپریم قائد بنا دیئے گئے ہیں۔ جب تک ان کی جماعت کے ارکان چاہیں گے وہ ان کا مرجع رہیں گے۔ گاندھی جی کانگرس کے دو آنے کے ممبر نہیں تھے تو بھی اس کے ارکان رہنمائی کے لئے ان کی طرف دیکھتے تھے۔ نوازشریف اور مسلم لیگ (ن) کا امتحان ابھی ختم نہیں ہوا، انہیں اتحاد اور احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنا اور انتخاب کی منزل تک پہنچنا ہے ؂

اوکھی گھاٹی، مشکل پینڈا

عشق دیاں سواراں دا

تحریک انصاف کی طرف سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سینٹ کے انتخابات براہ راست ہونا چاہئیں۔ عمران خان صاحب نے کہا ہے کہ وہ برسرِ اقتدار آکر اس طریقے کو بدل دیں گے۔ ان کی طرف سے ووٹوں کی خرید و فروخت کی دہائی بھی دی جاتی رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سینیٹ کے انتخابات کے موجودہ طریق کار سے جمہوری نظام کے مخالفین کو الزام لگانے کا موقع ملتا ہے اور مختلف ارکان اسمبلی پر شکوک و شبہات کے سائے پڑتے ہیں۔ خان صاحب ان انتخابات کے امریکہ کی طرح براہ راست انعقاد کی تجویز پیش کررہے ہیں۔ اگر یہ تجویز اپنائی جائے تو پھر پورا صوبہ حلقہ ء انتخاب ہوگا، جس میں سے گنتی کے چند افراد منتخب کرنا ہوں گے ۔

اس پر اخراجات بہت زیادہ ہوں گے۔ اس کے بجائے خواتین کی نشستوں کی طرح (مختلف جماعتوں کی نمائندگی کے مطابق) انتخاب کیا جا سکتا ہے یا صوبائی اسمبلیوں میں سیاسی جماعتوں کو حاصل ہونے والے ووٹوں کی بنیاد پر ان کے لئے نشستیں مختص کی جا سکتی ہیں۔ طریقہ جو بھی اختیار کیا جائے وہ ایسا ہونا چاہیے کہ خرید و فروخت کا تاثر نہ قائم ہونے پائے۔ عمران خان صاحب کو اس کے لئے دوسری سیاسی جماعتوں سے رابطہ کرکے انہیں ہم خیال بنانا ہوگا کہ آئین میں ترمیم کے لئے دونوں ایوانوں کی (الگ الگ) دوتہائی اکثریت درکار ہے۔ مستقبل قریب میں کوئی ایک ایسی جماعت اس چوٹی کو سر نہیں کر پائے گی۔ مسلم لیگ (ن) کے جو زعما نظامِ عدل کو تبدیل کرنے کے اعلانات کررہے ہیں، انہیں بھی یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے۔ ہر سیاسی جماعت کو دستور کے دائرے میں خواہشات کو محدود کرنے کی عادت اپنانا ہوگی۔ دستور کی دیواروں سے ہر وقت سر ٹکراتے رہنے سے اپنا سر ہی پھوڑا جا سکتا ہے۔

[یہ کالم روزنامہ ’’دنیا‘‘ اور روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے۔]

مزید : رائے /کالم