سینیٹ الیکشن میں بھی ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا مزاحمتی جادو سر چڑھ کر بول اٹھا

سینیٹ الیکشن میں بھی ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا مزاحمتی جادو سر چڑھ کر بول اٹھا
سینیٹ الیکشن میں بھی ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ کا مزاحمتی جادو سر چڑھ کر بول اٹھا

  

تجزیہ: سہیل چودھری:

وفاقی دارالحکومت میں موسلادھاربارش سے آلودہ درخت ،پودے اورپتے دھل کر سرسبز اورتروتازہ ہوگئے ہین تو اس کے ساتھ ساتھ گردوغبارسے اٹی عمارتیں بالخصوص پارلیمنٹ کی عمارت بھی دھل کرصاف ہوگئی ہے بلکہ تمام افواہوں کے برعکس نہ صرف سینٹ انتخابات کا انعقاد بلکہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کی مختلف دعوؤں کے برخلاف اس الیکشن میں کامیابی سے پارلیمانی ،جمہوری نظام کے مستقبل پر پڑنے والی گردبھی صاف ہوگئی ہے۔سینٹ انتخابات کے حوالے سے بے یقینی کاایک عہد بالاآخر تمام ہوا ،گزشتہ ایک ڈیڑہ سال کے عرصہ سے سینٹ الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے دانستہ طورپر بے یقینی کی فضا پیدا کرنے کیلئے افواہوں ایک سیلاب تھا جو تھمنے کو نہیں آرہا تھا سابق وزیراعظم محمدنوازشریف کی نااہلی کے بعد ان کے مخالفین کے دوبڑے اہداف تھے اولاً پاکستان مسلم لیگ ن میں کوئی بڑی دراڑ ڈال کراسے تتربتر کردیا جائے دوم سینٹ الیکشن کے انعقاد کو مختلف طریقوں سے روکا جائے یا پھرکم ازکم سینٹ الیکشن کو ہائی جیک کرلیا جائے لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوپایا ،سابق وزیراعظم محمدنوازشریف کو جمہوری سیاسی عمل میں سے جتنا زیادہ مائنس کرنے کی کوشش کی گئی اتنی ہی زیادہ قوت سے سیاسی میدان میں موجود ہیں’’مجھے کیوں نکالا‘‘کا مذاحمتی جادو پاکستانی سیاست میں سرچڑھ کر بول رہا ہے ۔وفاقی دارالحکومت میں اس حوالے سے ایک دلچسپ تبصرہ سننے میں آرہا ہے کہ ملک کی سترسالہ سیاسی تاریخ میں پہلی بار ’’پنجاب ‘‘کا’’پنجاب‘‘ سے پالا پڑا ہے۔پنجاب ہی میدان جنگ ہے اس لیے ماضی کے برعکس بہت سے دعوے غلط ثابت ہورہے ہیں ۔سینٹ الیکشن سے کچھ عرصہ قبل پراسراراندازمیں بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی روبہ عمل ہوئی پھرسینٹ میں پاکستان مسلم لیگ ن سے پارٹی نشان چھین کر انہیں ’’آزادکردیاگیا‘‘ لیکن تاحال کوئی حربہ کارگر ہوتا نظرنہیں آرہا،سینٹ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن اپنے حمایت یافتہ نومنتخب سینیٹرز کو ملاکر سب سے بڑی واحدجماعت کے طور پر ابھری ہے،تاہم پیپلز پارٹی کی بارگینگ پوزیشن بھی کافی بہتر ہے اوراس بات کاقوی امکان ہے کہ چیئرمین سینٹ کے انتخاب کیلئے پیپلز پارٹی کاکردار فیصلہ کن ہوسکتا ہے، تاہم چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں کئی جاں گسل مراحل متوقع ہیں ابھی عشق کے امتحاں اوربھی باقی ہیں کے مصداق صورتحال ہے سینٹ الیکشن کے حوالے سے گزشتہ روز پارلیمنٹ میں غیرمعمولی جوش و خروش اورسرگرمیاں دیکھنے کو ملیں ،اسلام آباد سے جنرل سیٹ اورٹیکنو کریٹ نشستوں پرپولنگ کاعمل قومی اسمبلی کے ہال میں ہوا جبکہ فاٹا سے سینیٹرز کے انتخابات کاعمل پارلیمنٹ میں کمیٹی روم نمبر2میں پایہ تکمیل کو پہنچا۔اگر چہ فاٹاسے اراکین اسمبلی ایک دوسرے پر ہارس ٹریڈنگ کاالزام لگاتے رہے ہیں تاہم دونوں جگہوں پر ووٹنگ کاعمل ہمواراندازمیں جاری رہا،پارلیمنٹ کے کیفے ٹیریا پرغیرمعمولی ہلچل تھی کیفے ٹیریا کے ٹیرس سے بارش اورمارگلہ کی پہاڑیوں پربادلوں کی اٹھکیلیاں خوبصورت مناظر پیش کرہی تھیں ۔کیفے ٹیریا میں پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے صحافی بڑی تعداد میں موجود تھے جبکہ فاٹاکے اراکین اسمبلی اپنے حامیوں سمیت ٹولیوں میں سرگرم تھے25سے35کروڑ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں ۔اسلام آباد سے جنرل اور ٹیکنو کریٹ کی نشستوں پر قومی اسمبلی کے ھال میں صبح9بجے سپیکر سردارایازصادق نے ووٹ ڈال کر ووٹنگ کے عمل کاآغاز کیا اسمبلی ہال میں وزیراعظم کی نشست والی ساری قطار پر پاکستان مسلم لیگ ن کی خاتون اراکین اسمبلی نے قبضہ جمارکھا تھا جبکہ ھال کے اندرتمام وقت ن لیگ کے دونوں مشاہد ،مشاہد اللہ اور سید مشاہد حسین سرگرم تھے ۔بالخصوص سید مشاہد حسین ہررکن اسمبلی کااس کے ایوان میں داخل ہوتے ہی والہانہ استقبال کرتے اوراسے پولنگ بوتھ تک لیکر جاتے ،اس دوران ان کے ہمراہ رکن اسمبلی کی شخصیت کے مطابق کوئی بھرپورفقرہ بھی کہتے اوربہت دفعہ انکا بھرپور قہقہہ بھی کانوں میں پڑتا۔اعجاز الحق جب ایوان میں آئے تو مشاہد حسین نے بلند آوازمیں کہا کہ مردمجاہد مردحق ،مولانا فضل الرحمن آئے تو سید صاحب نے کشمیر کاز کانعرہ لگایا،یوں سید مشاہد حسین تمام دن ووٹراراکین اسمبلی کے اپنے مخصوص اندازمیں کڑاکے نکالتے رہے۔مسلم لیگ ن کے اراکین اسمبلی زیادہ ترٹولیوں کی شکل میں ووٹ ڈالنے آتے رہے ۔ ووٹراراکین اسمبلی اورامیدواران کاموڈ گزشتہ روز کے موسم کی طرح خوشگوار رہا لوگوں میں سب سے زیادہ تجسس چوہدری نثارعلی خان کے بارے میں تھا کہ ووٹ ڈالنے آتے ہیں کہ نہیں ۔تاہم وہ دوپہر ایک بجے ایوان میں آئے اس سے قبل لوگ اپنے اپنے اندازمیں انکی آمد کے حوالے سے قیاس آرائیاں کررہے تھے تاہم پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان کے حوالے سے صبح سے ہی اطلاعات زیرگردش تھیں کہ وہ ووٹ ڈالنے نہیں آئیں گے یہی ہوا اگرچہ پی ٹی آئی امیدوار کنول شوذب تمام وقت انکا راہ تکتی رہیں،عمران خان اسلام آباد میں ہوتے ہوئے بھی اپنی امیدوار کی حوصلہ افزائی کیلئے ووٹ ڈالنے نہیں آئے،اسی طرح عارف علوی بھی نہیں آئے جبکہ فاروق ستار سندھ میں پیداکردہ سیاسی صورتحال بنا پر ایوان میں ایوان میں نہیں آئے ایم کیو ایم کے ریحان ہاشمی ،سفیان یوسف اورسید آصف حسنین نے بھی ووٹ نہیں ڈالے۔پی ٹی آئی کے ناراض سراج محمد خان اور ناصرخٹک نے بھی ووٹ نہیں ڈالا،پارلیمنٹ پرلعنت بھیجنے والے شیخ رشیدبھی ووٹ ڈالنے نہیں آئے۔چوہدری پرویز الہٰی بھی ووٹ ڈالنے نہیں آئے۔ان شخصیات کے ووٹ ڈالنے کیلئے نہ آنے سے یہ تاثرملتا ہے کہ شاید یہ لوگ بددل تھے ن لیگ سے سینٹ انتخابات چرانے،ہائی جیک کرنے کی ان کی کوششیں کارگر ثابت نہ ہوئیں۔آخری ووٹ محترمہ عائشہ گلالئی نے ڈالا ۔وزیرمملکت آئی ٹی انوشہ رحمن وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ہمراہ ووٹ ڈالنے آئیں جبکہ پی پی پی کی روبینہ قائم خانی ایک روزقبل اپنے اکلوتے بیٹے کی وفات کے باجود ووٹ ڈالنے آئیں انکی جمہوریت سے وابستگی کے جذبے کو سب نے سراھا۔ووتوں کی گنتی کاعمل تقریبا آدھے گھنٹے میں مکمل ہوگیا سید مشاہد حسین 223ووٹ لیکر سینٹ انتخابات کے اس کھیل میں مین آف دی میچ قرار پائے، تاہم 3ووٹ خالی نکلے جن پر تجزیہ نگارچاند ماری کررہے تھے کہ یہ کون تین اراکین اسمبلی ہوسکتے ہیں جنہوں ووٹ توڈالا لیکن بوجوہ اسے خالی رکھا!۔اگرچہ نامصائب حالات میں سینٹ الیکشن کاانعقاد توہوگیا اورنتائج بھی جموہری وسیاسی نظام کے تسلسل کے حق میں نظرآرہے ہیں لیکن بعض جنگہوں پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات اور سیاسی رہنماؤں کی جانب سے سینٹ الیکشن میں غیرحاضری ایسے سوالات ہیں جو انکا پیچھا کرتے رہیں گے ۔

مزید :

تجزیہ -