کوہاٹ میں سکول کے ہیڈ ماسٹر کو قتل کردیا گیا

کوہاٹ میں سکول کے ہیڈ ماسٹر کو قتل کردیا گیا

کوہاٹ (بیورورپورٹ)کوہاٹ میں سکول ہیڈ ٹیچر کے قتل کی واردات میں ملوث ملزم کو آلہ قتل سمیت گرفتار کرلیا گیا ہے۔ملزم کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونیوالا موٹر سائیکل بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔سکول ہیڈ ٹیچر قابل حسن کو گزشتہ روز پہلوان بانڈہ روڈ پر سکول سے گھر جاتے ہوئے راستے میں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے اندھے قتل کا چند گھنٹوں میں سراغ لگا کر واردات کے مرتکب ملزم کو حراست میں لے لیا ہے۔زیر حراست ملزم نے سکول ہیڈ ٹیچر کو زاتی تنازعے پر قتل کرنے کا اعتراف جرم کرلیا ہے۔ ضلعی پولیس سربراہ عباس مجید خان مروت نے واقعے کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز شہر کے علاقہ پہلوان بانڈہ روڈ پر سرکاری پرائمری سکول کے ہیڈ ٹیچر قابل حسن کو اسوقت فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتارا گیا جب وہ مقامی سکول سے چھٹی کے وقت اپنی سائیکل پر گھر جارہا تھا۔ضلعی پولیس سربراہ نے کہا کہ قتل کی اس واردات کا سراغ لگانے اور واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کیلئے فوری طور پر ماہر پولیس افسران کی سراغ رساں ٹیم تشکیل دی گئی جس نے وقوعہ کے حوالے سے فی الفور کاروائی شروع کردی ۔ڈی پی او عباس مجید خان مروت کا کہنا تھا کہ اندھے قتل کی اس واردات کا چند گھنٹوں کے اندرسراغ لگا کر ارتکاب جرم کرنے والے ملزم محمد آصف ولد محمد عاشق سکنہ بہزادی چکر کوٹ کو ایک کامیاب چھاپہ مار کاروائی کے دوران حراست میں لیا گیا اور اسکے قبضے سے آلہ قتل تیس بور پستول ،متعدد کارتوس اور واردات میں استعمال ہونیوالی موٹر سائیکل برآمد کرکے قبضے میں لی گئی ہے۔ضلعی پولیس سربراہ نے کہا کہ قتل کی واردات کے فوراً بعدتھانہ سٹی میں مقتول کے بیٹے زیشان حیدر کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج ایف آئی آر میں زیر حراست ملزم محمد آصف کو نامزدکرکے تفتیشی ٹیم کے حوالے کردیا گیا ہے۔ڈی پی او نے کہا کہ کیس کی نوعیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اصل صورتحال منظر عام پر لانے کیلئے نہایت باریک بینی سے تحقیقات کا عمل جاری ہے اور اس مقصد کیلئے ایس پی انوسٹی گیشن جہانزیب خان کی سربراہی میں چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی گئی ہے جسمیں ڈی ایس پی سٹی رضا محمد ،ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر صنوبر خان ،ایس ایچ او تھانہ چھاؤنی انسپکٹر محمد علی،ایس ایچ او تھانہ سٹی فیاض خان اور سب انسپکٹر محمد اکبر شامل ہیں۔ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پانچ سال قبل ملزم کی ہمشیرہ مسماۃ (ش)مقتول کے بیٹے یزدان حیدر کیساتھ بارابطہ آشنائی چلی گئی تھی جسکا ملزم کو رنج تھا اور دونوں فریقین کے مابین تنازعہ چلا آرہا تھا۔ زیر حراست ملزم نے بھی ابتدائی پوچھ گچھ میں قتل کی اس واردات کے حوالے سے انکشاف کرتے ہوئے سکول ٹیچر کو اسی تنازعے پر قتل کرنے کااعتراف کرلیا ہے ۔ضلعی پولیس سربراہ نے مزید کہا کہ کیس کی تمام پہلوؤں پر شفاف تحقیقات یقینی بنانے کیلئے حساس ادارے ڈی ایس بی کی مدد بھی حاصل کی گئی ہے جو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کیساتھ ملکر کام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ سے کیس کی تفتیش میں اہم ثابت ہونیوالے تمام شواہد قبضے میں لیکر فارنزک لیبارٹری روانہ کردئیے گئے ہیں جبکہ ملزم کا عدالت سے جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیاگیا ہے۔ ضلعی پولیس سربراہ عباس مجید خان مروت نے اندھے قتل کی اس واردات کا چند گھنٹوں کے اندر سراغ لگا کر ملزم کی گرفتاری عمل میں لانے کی تیز تر کاروائی کو اہم کامیابی قرار دیکر اس پوری کاروائی میں حصہ لینے والی پولیس ٹیم کیلئے نقد انعامات اور تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر