ایم کیو ایم کواختلافات لے ڈوبے ،سندھ سے پیپلزپارٹی کے 10سینیٹرز منتخب

ایم کیو ایم کواختلافات لے ڈوبے ،سندھ سے پیپلزپارٹی کے 10سینیٹرز منتخب

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ سے سینیٹ کی بارہ نشستوں پر ہفتے کو ہونے والے انتخاب میں پاکستان پیپلز پارٹی نے 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی، جبکہ مسلم لیگ فنکشنل اور ایم کیو ایم کے حصے میں ایک ایک نشست آئی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کیے جانے والے غیر سرکاری نتائج کے مطابق جنرل نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والوں میں پیپلز پارٹی کے مولا بخش چانڈیو، میاں رضا ربانی، امام الدین شوقین، محمد علی شاہ جاموٹ اور علی نواز کھوکھر کامیاب قرار پائے۔ جبکہ ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر سکندر میندھرو اور رخسانہ زبیری کامیاب ہوئے جبکہ خواتین کی نشست پر قرۃ العین مری اور کیشو بائی کامیاب قرار پائی جبکہ اقلیتی نشست پر انور لعل دین کامیاب ہوئے تھے۔ مسلم لیگ فنکشنل کے سید مظفر حسین شاہ، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم شامل ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے مرتضیٰ وہاب صدیقی اور ایاز مہر ایوان بالا کے الیکشن میں شکست کھا گئے اسی طرح ایم کیو ایم پاکستان کے کامران ٹیسوری بھی ناکام رہے۔ سندھ اسمبلی کا ایوان مجموعی 168 ارکان پر مشتمل ہے تاہم دو ارکان احمد علی پتافی اور میر ہزار خان بجارانی کی وفات کے باعث ارکان اسمبلی کے ووٹ دینے کے اہل ارکان کی جو حتمی فہرست جاری کی گئی تھی وہ 165 ارکان پر مشتمل تھی۔ ان میں سے 161 ووٹ کاسٹ کیے گئے جنرل نشستوں پر 14 ووٹ جبکہ دیگر نشستوں پر مختلف ووٹ مسترد ہوئے۔ ایم کیو ایم کے مجموعی طور پر 14 ارکان نے اپنے پارٹی کے نامزد امیدواروں کو ووٹ نہیں دیے انتخابی عمل صبح 9 بجے شروع ہوا تھا جو بغیر کسی وقفے کے شام چار بجے تک جاری رہا الیکشن کی نگرانی صوبائی الیکشن کمشنر اور ریٹرننگ آفیسر محمد یوسف خان خٹک نے کی ووٹوں کی گنتی کا عمل پولنگ بند ہونے کے فوری بعد شروع کردیا گیا تھا جو ڈھائی گھنٹے سے زائد دیر تک جاری رہا۔ ٹیکنوکریٹ، خواتین اور اقلیت سمیت پانچ نشستوں پر پیپلز پارٹی کے امیدوار پہلی ہی گنتی پر کامیاب ہوگئے تھے تاہم جنرل نشستوں پر 8 مرتبہ گنتی کی گئی پہلی گنتی میں مسلم لیگ فنکشنل کے سید مظفر حسین شاہ 23 ووٹ لے کر سب سے آگے رہے اور پیپلز پارٹی کے مولا بخش چانڈیو نے 21 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی۔ دوسری گنتی میں ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم 19 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ چوتھی سے لے کر آٹھویں گنتی تک مختلف گنتیوں کے نتیجے میں میاں رضا ربانی 19 ووٹ لے کر، محمد علی شاہ جاموٹ 20 ووٹوں کے ساتھ، علی نواز کھوکھر، 21 ووٹوں کے ہمرا اور امام الدین شوقین ساڑھے 17 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔ پیپلز پارٹی کے دو اہم امیدوار مرتضیٰ وہاب صدیقی اور ایاز مہر کے علاوہ ایم کیو اہم پاکستان کے کامران ٹسوری مطلوبہ ووٹ حاصل نہ کرنے کے باعث شکست سے دوچار ہوگئے۔ تحریک انصاف کے نجیب ہارون کو ٹیکنوکریٹ کی نشست پر صرف چار ووٹ مل سکے ایم کیو ایم کے عبدالقادر خانزادہ کو ٹینکوکریٹ کی نشست پر 36 ووٹ ملے جبکہ خواتین کی مخصوص نشست پر ایم کیو ایم نامزد امیدوار نگہت شکیل کو 36 ووٹ ملے۔ گنتی کا عمل مکمل ہونے کے بعد سندھ اسمبلی بلڈنگ میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی الیکشن کمشنر اور ریٹرننگ آفیسر محمد یوسف خان خٹک نے کہا کہ سندھ میں سینیٹ کے انتخابات کے لیے ہفتے کے روز ہونے والا انتخابی عمل انتہائی شفاف اور پر امن ماحول میں مکمل ہوا انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نتائج کا سرکاری طور پر اعلان قوائد کے مطابق بعد میں کیا جائے گا ایک سوال کے جواب میں صوبائی الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن کے دوران میڈیا کو کوریج سے روکنے کے لیے ان کی جانب سے کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی اور کوریج کے حوالے سے جو طریقہ کار آج اختیار کیا گیا وہ سندھ اسمبلی کی جانب سے وضع کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ سندھ سے سینیٹ سے انتخاب کا عمل انتہائی شفاف طریقے سے مکمل ہوا جسے کوئی رد نہیں کرسکتا۔

مزید : کراچی صفحہ اول