آئندہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں شہباز شریف کا کردار اہم ،رضاربانی کو نوازشریف کی حمایت حاصل تھی: کنوردلشاد

آئندہ چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں شہباز شریف کا کردار اہم ،رضاربانی کو ...

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہاہے کہ سابق چیئرمین سینٹ  میاں رضا ربانی بھی نواز شریف کی خواہش رضا مندی اور آشیر باد سے چیئرمین سینیٹ بنے تھے،اب صورتحال بدل چکی ہے ، شہباز شریف کبھی نہیں چاہیں گے کہ ایسا شخص چیئرمین سینیٹ بنے جوکہ آرمی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نوک جھوک کرتا رہے۔ رضا ربانی نے سینیٹ کا حلیہ ہی بگاڑ دیا تھا، شہدائے جمہوریت، شہدا گیلری وغیرہ کا اچھا اثر نہیں گیا تھا، اعتدال پسند شہباز شریف ایسی شخصیت کو چیئرمین سینیٹ لگانا پسند نہیں کرینگے جوکہ اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی کرتا رہے۔ چیئرمین سینیٹ کا حق سینئر سیاستدان راجہ ظفر الحق کا بنتا ہے جن کا تمام سیاسی جماعتیں احترام کرتی ہیں۔

روزنامہ دنیا کے مطابق کنور دلشاد نے کہاکہ پیپلزپارٹی کے دعوے کے برعکس بلوچستان میں جو آزاد امیدوار سینیٹر منتخب ہوئے ہیں، وہ آصف زرداری کی کوششوں سے نہیں بلکہ اپنے قبائلی اثرورسوخ کی وجہ سے بنے ہیں، امکان ہے کہ یہ سینیٹر راجہ ظفر الحق کو ہی سپورٹ کریں گے۔ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی خاطر خواہ سینیٹرز منتخب نہیں کرا سکی، جس کا مطلب ہے کہ پارٹی کی سیاسی حکمت عملی ناکام ہوئی ہے۔

راجہ ظفر الحق کو چیئرمین سینیٹ منتخب کرانے میں اگر شہباز شریف ناکام بھی رہے تب بھی شہباز شریف مقتدر حلقوں تک مثبت پیغام پہنچانے میں کامیاب رہیں گے۔ منافقت کی پالیسی شہبازشریف اختیار نہیں کریں گے ، وہ کھل کر آصف زرداری کی مخالفت کرتے ہیں۔ بتدریج ن لیگ پر شہباز شریف کی چھاپ گہری ہو گی، ن لیگ کے منتخب رہنما اور کارکن جاتی امرا کے بجائے ماڈل ٹاؤن کا رخ کرنا شروع کردینگے۔ موجودہ اسمبلی کا بہت کم وقت رہ گیا ہے ، عام انتخابات میں حصہ لینے کیلئے شہباز شریف اپنی حکمت عملی سامنے لائینگے۔

نواز شریف کو 10مارچ تک سزا ہو نیکا امکان ہے ، جب وہ جیل چلے جائینگے تو لوگ سمجھیں گے کہ ان کا مستقبل ختم ہو گیا ہے۔ نواز شریف خود بھی یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مڑ کر دیکھنے پر انہیں کوئی پیچھے کھڑا نظر نہیں آئے گا۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور /سیاست