علی پور میں نوبیاہتادلہن غیرت کے نام پر قتل، خود کشی کا ڈرامہ، بغیر غسل تدفین

علی پور میں نوبیاہتادلہن غیرت کے نام پر قتل، خود کشی کا ڈرامہ، بغیر غسل تدفین
علی پور میں نوبیاہتادلہن غیرت کے نام پر قتل، خود کشی کا ڈرامہ، بغیر غسل تدفین

  

مظفر گڑھ (ویب ڈیسک)17 سالہ نوبیاہتا دلہن کوبدکاری کا الزام لگا کر لڑکی کے چچاﺅں نے بھوکا پیاسا رکھ کر تشدد کرکے مار ڈالا، لڑکی کی تدفین غسل کئے بغیر کردی۔

روزنامہ خبریں کے مطابق موضوع باقر شاہ بستی خان سروالہ کی رہائشی 17 سالہ ام حبیبہ کا نکاح بستی کوٹھے والا کے اسحاق ولد محمد علی سے ہوا۔ تقریباً تین ماہ قبل رخصتی ہوئی جبکہ نکاح آٹھ ماہ قبل ہوا تھا۔  لڑکی کے نکاح کے دوران حبیبہ کا خاوند اسحاق لڑکی کے گھر آتا جاتا تھا اور تعلقات بھی قائم کرلئے تھے تاہم رخصتی تین ماہ قبل ہوئی جب لڑکی حاملہ ہوچکی تھی تاہم لڑکی نے حمل بارے کسی کو کچھ نہ بتایا۔

خاوند محمد اسحاق کو شک ہوا تو اس نے ٹیسٹ کرایا تو پتہ چلا لڑکی 7 ماہ کی حاملہ تھی جس پر خاوند نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور گھر سے نکال دیا جس پر لڑکی اپنے والد کے گھر آگئی۔ خاوند اسحاق نے لڑکی کے والد پتوں اور چچا محمد یوسف جو کہ کراچی میں تھا کو اطلاع کردی اور لڑکی پر بدچلنی کا الزام لگایا اور لڑکی کے حمل بارے بھی بتایا۔

کراچی میں موجود لڑکی کے چچا نے لڑکی کو فوری قتل کرنے کا حکم جاری کیا لیکن لڑکی کے والد پنوں نے لڑکی کو قتل کئے جانے کے خوف سے اپنے بہنوئی عاشق مرحوم کے گھر لڑکی کو چھپادیا، اس دوران لڑکی ام حبیبہ کا چچا محمد یوسف بھی واپس علی پور آگیا۔ محمد یوسف نے اپنے بھائی محمد حنیف اور کچھ دیگر رشتہ داروں کے ساتھ میٹنگ کی اور لڑکی کو سفاکانہ موت دینے کا فیصلہ ہوا۔ فیصلہ کے تحت لڑکی کو ایک کمرے میں بند کرکے ایک ہفتہ تک بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر گزشتہ روز تشدد کے نتیجہ میں لڑکی کی موت ہوئی تو بستی میں لڑکی کی خود کشی کا ڈرامہ رچایا گیا اور پھر لڑکی کو غسل دئیے بغیر چند لوگوں نے خود ہی فرضی جنازہ پڑھا کر خاموشی سے دفنا دیا۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

مقامی اخبار کو علاقہ کے چند لوگوں کی طرف سے اس وقوعہ بارے اطلاع دی گئی، معاملہ کی چھان بین کی گئی تو لڑکی کو قتل کرنے کا معاملہ سامنے آیا۔ پولیس تھانہ صدر علی پور نے لڑکی کے چچا محمد یوسف اور دیگر دو افراد کو گرفتارکرلیا۔ ایس ایچ او صدر علی پور نے بتایا کہ معاملہ مشکوک ہے، مقدمہ درج کررہے ہیں، اعلیٰ افسروں کو اطلاع کردی ۔ لڑکی کے والد سمیت ورثاءمیں سے کوئی مدعی بننے کیلئے تیار نہ ہے اور لڑکی کی موت کو خود کشی کا رنگ دے رہے ہیں جبکہ کیس خود کشی کا نہ ہے، ابتدائی تفتیش میں کئی چیزیں سامنے آئی ہیں۔

مزید : علاقائی /پنجاب /مظفرگڑھ