شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ...قسط نمبر 49

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ...قسط ...
شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ...قسط نمبر 49

  

میں سوچ میں پڑگیا۔

’’شیر ۔۔۔۔!آدم خور۔۔۔۔؟‘‘

’’ کیا یہ جھومری کا آدم خور تھا۔۔۔؟‘‘

وہ سایہ تھا بھی کیسا ہیبت ناک ۔۔۔کسی حرکت کے بغیر فضا میں تیرتا ہوا۔۔۔۔اور پھر اس قدر عجیب ۔۔۔!شیر کا سایہ تو ایسا نہیں ہوتا۔۔۔۔!

اور اب حالت یہ تھی کہ جیسے دل کی دھڑکن بھی رُک گئی ہو۔۔۔رائفل کو حرکت دینے اور فائر کرنے کی قوت سلب ہو گئی تھی۔۔۔سارا جسم ٹھنڈے پسینے سے شرابور تھا۔۔۔اور وہ سایہ ایک دفعہ پھر اندھیروں کے دوش پر گزرتا اندھیروں ہی میں تحلیل ہوگیا۔۔۔

ہوا کا ایک تیزجھونکا آیا۔۔۔بادلوں میں ایک کوندا ہوا۔۔۔۔اور گرج کی آواز نے سکوت کا طلسم توڑدیا۔۔۔شاید بادلوں کی گرج کا کسی نے اس جوش ومسرت کے ساتھ استقبال نہ کیا ہوگا،جس طرح ہم لوگوں نے کیا۔۔۔اس کے بعد بجلی چمکنے لگی اور گرج بھی ہونے لگی۔

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ...قسط نمبر 48 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’دلاور ۔۔۔۔!‘‘ میں اب بھی بہت آہستہ بات کر رہا تھا۔۔۔۔

’’تم نے بھی وہ سایہ دیکھا تھا۔۔۔۔؟‘‘

‘‘ جی صاحب !۔۔۔۔دیکھا تھا جناب ۔۔۔۔!‘‘ اس کی آواز لرز رہی تھی۔۔۔۔

ذرا سی دیر گزری تو بارش بھی ہونے لگی ۔۔۔۔لیکن مالوے کی بارش کا کوئی اعتبار نہیں ۔جس طرح اچانک آغاز ہوا تھا،اسی طرح دو ایک گھنٹے بعد بادل چھٹ گئے اور ازسرِ نو چاندنی بکھر گئی۔۔۔۔روشنی میں بھینسے کو دیکھا تو غائب ۔۔۔۔نہ ہم نے شیر کی آواز سنی نہ بھینسے کے گھسیٹے جانے کی کوئی آہٹ ہوئی۔پھر بھی بھینسے کی لاش ندارد تھی۔

صبح کو بھینسے کا سر،بڑی ہڈیاں اور ہاتھ پیر وہاں سے کوئی سو گز دور نالے کے باہر ایک جھاڑی میں پڑے ملے ۔۔۔۔میں نے بھینسا دلاور سے بندھوایا تھا اور تاکید کردی تھی کہ مضبوطی سے پیر باندھا جائے۔لیکن وہ شاید میری ہدایت پر عمل نہیں کرسکا۔بہرحال اس عدمِ تعمیل نے ہی ہماری جان بچالی تھی۔

سب سے زیادہ تعجب خیز بات یہ ہے کہ جس جگہ رات کو میں نے سایہ دیکھا تھا ،وہاں نہ تو شیر کے ماگھ ہی ملے نہ کسی اور جانور کے پیروں کے نشانات ۔۔۔۔سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ سایہ جو ہم تینوں نے دیکھا ،کس کا تھا۔۔۔ممکن ہے محض ہمارا وہم ہی ہو۔

دو روز تک کوئی مزید کوشش نہ کی جاسکی۔ میں زیادہ تر گاؤں ہی میں رہا۔دو روز بعد اطلاع ملی کہ گاؤں سے دو میل کے فاصلے پر جوچھوٹی پہاڑی ہے،اس کے ایک کنارے والی چٹان پر چند مسافروں نے شیر کو دیکھا ہے۔یہ اطلاع خوش آئندہ تھی۔میں فوراًروانہ ہوااور پہاڑی کے اطراف کا اچھی طرح جائزہ لینے اور ماگھ دیکھنے کے بعد یہی فیصلہ کیا کہ شیر پہاڑی کے اوپر موجود ہے۔اسی وقت ہانکے کا انتظار کیا گیا۔پہاڑی پر رہنے والے سارے چیتل،چکارے ،سانبھر اور بندر اسٹاپس توڑے بغیر میرے سامنے سے گزرے ،لیکن نہ گزرا تو وہ موذی ،جس کا انتظار تھا۔

ہانکے کے ختم ہوجانے کے بعد ہم لوگ گاؤں کی طرف واپس ہوئے تو اسی پہاڑی کی ایک چٹان پر شیر کھڑا ہماری طرف دیکھتا نظر آیا۔غالباًوہ ناکامی پر ہمارا تمسخر اڑارہا تھا۔ہانکے میں شامل ہونے والے ہر شخص نے اس ظالم کو دیکھا ۔۔۔اور جب میں نے اس طرف نظر اٹھائی تو وہ فوراً دبک کر آڑ میں ہوگیا۔مجھے تعجب ہوا کہ اتنے عمدہ ہانکے سے یہ کیسے بچ نکلا۔ 

بہرحال ہم فی الفور واپس ہوئے اور ہانکے کی لائن دوبارہ مرتب کی گئی ۔اسٹاپس قائم کیے گئے اور میرا اشارہ ملتے ہی شوروغل کرتے لوگ ہلال کی صورت میں بڑھنے لگے ۔پہاڑی پر اب شاذہی کوئی جانور رہ گیا تھا،اس دفعہ وہ بھی نکل آیا ،لیکن شیر نہیں آیا۔

ہانکے کی قطار مجھ سے کوئی سو گز دور تھی ۔میں درخت پر بیٹھا لائن کی طرف دیکھ رہا تھا ۔اب وہ لوگ پہاڑی کی بلندی سے نشیب کی طرف اتر رہے تھے ۔یکبارگی ان کی پیش قدمی رک گئی ۔میں جس درخت پر بیٹھا تھا،وہ پہاڑی کے دامن پر نشیب میں تھااور ہانکے کی قطار کو مخالف سمت سے پہاڑی پر چڑھ کر میری طرف اترنا تھا۔وہ لوگ چونکہ بلندی پر تھے، اس لیے نشیب کی ساری چیزیں صاف دیکھ سکتے تھے ۔ان کی پیش قدمی رکی تومجھے تعجب ہوا۔میں نے اپنے سامنے دوسرے درخت پر بیٹھے ہوئے آدمی سے اشارہ کرکے وجہ پوچھی تو اس نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔اسی وقت ہانکے والوں نے بے تحاشا شور کرنا شروع کردیا۔لیکن ہر شخص کچھ ایسی بد حواسی سے چیخ پکارکر رہا تھا کہ کوئی بات صاف سمجھ میں نہیں آتی تھی ۔بہت غور کیا تو الفاظ کچھ واضح ہوئے۔وہ لوگ حلق پھاڑ پھاڑ کر مجھے یہ اطلاع دینا چاہتے تھے کہ میرے درخت کے نیچے شیر ہے۔۔۔۔

بات سمجھ میں آتے ہی مجھ پر ایک جوش کی سی کیفیت طاری ہوگئی۔قلب کی حرکت بڑھ گئی۔۔۔اب میں لاکھ نیچے دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں،مگر شیر نظر نہیں آتا۔درخت کے نیچے تیندو اور فالسے کی گھنی جھاڑیا ں بھی تھیں۔خدا جانے ،کس جھاڑی میں اور کس پہلو سے وہ موذی چھپا تھا کہ اوپر سے اس کی ایک جھلک بھی نظر نہیں آتی تھی۔ادھر میری بے چینی کا یہ عالم کہ دل چاہتا،رائفل لے کر درخت سے نیچے اتر جاؤں۔

درخت پر کوئی مچان یا جھولا نہیں تھا ۔ایک موٹی شاخ کے گرد پیر لٹکا کر میں نے نیچے کی نسبتاًدو کمزور شاخوں پر پیر جما لیے تھے۔اس انداز سے بیٹھنے سے مجھے یہ سہولت تو تھی کہ دونوں ہاتھ رائفل کے استعمال کے لیے خالی تھے،لیکن کسی طرف جھکنا،جھانکنایا گھوم کر فائر کرنا ممکن نہیں تھا۔

ہانکے والوں کو شیر نظر آرہا تھا اور وہ پر جوش و دہشت آمیز آوازوں سے برابر شور کیے جارہے تھے۔لیکن مجھے نظر نہیں آتا تھا۔رہ رہ کر اس بات پر تعجب ہوتا تھا کہ شیر میرے درخت کے نیچے کیسے پہنچ گیا!۔۔۔۔شدید اضطراب اور جوش کی اس کیفیت میں چند منٹ گزرے ہوں گے ۔لیکن مجھے وہ چند منٹ کئی گھنٹوں کے برابر معلوم ہوئے ۔۔۔بہر حال ’’ وہ گیا وہ گیا‘‘ کے شور سے اندازہ ہوا کہ شیر بھاگ گیا۔

کئی راتوں کی بربادی اور دو ہانکوں کی ناکامی نے مجھے کچھ بد دل کر دیا تھا۔لہٰذا میں دو ہفتے قیام کے بعد جھومری سے کلیا کھیڑی اور پھر وہاں سے بھوپال واپس آگیا،لیکن اس کے معنی یہ نہیں تھے کہ میں نے جھومری کے آدم خور کو ہلاک کرنے کا ارادہ ترک کردیا ہے۔

یوٹیوب چینل سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

نومبر کے آخری دن تھے۔سردی میں شدت پیدا نہیں ہوئی تھی۔پھر چاندنی راتیں بھی آنے کو تھیں۔ایک بار پھر مجھے جھومری کے آدم خور کا خیال آیا۔میں نے فیصلہ کیا کہ اگر چاند کی دس تاریخ ہی سے گارا باندھ کر مچان پر بیٹھنا شروع کردیا جائے تو سات آٹھ راتیں خوب روشن ملیں گی۔سردیوں میں ویسے بھی چاندنی جوبن پر ہوتی ہے۔

مہم کی اہمیت کے پیشِ نظر میں نے اس دفعہ جھومری میں قیام کی مدت خاصی طویل رکھی تھی۔اس لیے دلاور کے سوا کسی کو ساتھ نہیں لیا۔(جاری ہے )

شیروں کا شکاری ، امریکہ میں مقیم شکاری اور شاعر قمر نقوی کی شکار بیتیاں ...قسط نمبر 50 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /شیروں کا شکاری