بھارت کو دفاع کے بعد سفارتی میدان میں بھی بدترین شکست کا سامنا

بھارت کو دفاع کے بعد سفارتی میدان میں بھی بدترین شکست کا سامنا
بھارت کو دفاع کے بعد سفارتی میدان میں بھی بدترین شکست کا سامنا

  

(تجزیہ: ایثار رانا)

دفاعی میدان میں منہ کی کھانے کے بعد سفارتی میدان میں بھی چاروں شانے چت ہو گیا اور پاکستان کو دنیا میں تنہا کرنے کا دعویٰ کرنیوالے بھار تی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ملک کو ہی تنہا کرد یا ۔ متحدہ عرب امارات کی میزبانی میں ابوظہبی میں ہونیوالی اسلامی ممالک کی وزراء خارجہ کانفرنس میں بطور مبصر شرکت کی دعوت پر بھارت نے خوشی کے شادیانے بجائے اور پاکستان طرف سے کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر بھارت نے یہ امید لگا لی کہ اس کانفرنس میں تمام 57اسلامی ممالک اس کے موقف کی حمایت کرینگے اور پاکستان تنہا رہ جائے گا مگر بھارت کی امیدوں پر اس وقت پانی پھر گیا جب اس کانفرنس میں نہ صرف مقبو ضہ کشمیر مین بھارتی مظالم کو ریاستی دہشتگردی قرار دیا گیا بلکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ، بھارت کو سب سے زیادہ پریشانی اس وقت ہوئی جب بھارت کی طرف سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی گئی اور بھارت سے کہا گیا وہ دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سے باز رہے اب بھارتی اپوزیشن جماعتیں اپنے وزیر اعظم سے یہ سوال کر رہی ہیں کہ کیا بھارتی وزیر خارجہ کو اسی لئے کانفرنس میں بھیجا گیا تھا کہ بھارت کے 70سالہ پرا نے موقف کے بخیئے ادھیڑے جائیں،اپنے اداروں پر تنقید کرنا دانشورانہ ضرورت اور فیشن ہوتا ہے مگر اپنے کام کی تعریف کرنا بھی ضروری ہے اﷲ نظرے بد سے بچا ئے پاکستان ایک کے بعد ایک کامیابی سمیٹ رہا ہے کوئی سوچ سکتا تھا کہ ہم کبھی اس قابل ہو جائیں گے، عالمی برادری دنیا کے طاقتور میڈیا کی بکواس اور مودی کے جنو نی ڈرامے کو رد کرتے ہوئے پاکستان کیساتھ کھڑی ہوگی کہتے ہیں اﷲ بہادروں کی مدد کرتا ہے پاکستان نے او آئی سی کانفرنس میں سشما سوراج کی موجودگی والے سیشن کا بائیکاٹ کرکے نہ صرف بھارت کو انٹرنیشنل لیول پر شٹ اپ کال دی بلکہ 56اسلامی ممالک کوبھی اپنے جائز غصے کا پیغام دیا آج اسلامی ممالک سمیت پوری دنیا پاکستا ن کیساتھ کھڑی ہے اور بھارت آج بین الااقوامی سطح پر تنہا ورسوا ہے یہاں تک کے امریکہ میں بھی پلوامہ حملہ کا ڈرامہ مسترد کردیا ہے آج روس برطانیہ ، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک پاکستان سے رابطہ کر رہے ہیں یہ پاکستانی اداروں کی شاندار حکمت عملی کا نتیجہ ہے ورنہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر جتنا مالی و جانی نقصان پاکستان نے اٹھایا اس کے مثال شایدکم ہی ملتی ہے بونے حکمرانوں کی پالیسیوں اور غیر ملکی اشاروں پر ناچنے والے نام نہاد رہنماؤں کی کمزور پالیسیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے شہری اور جوان شہید بھی ہوئے اور دہشتگرد بھی ہم قرار پائے ہمارے پاس وافر ثبوت ہیں کہ سندھ ،بلوچستان ،کے پی کے اور پنجاب میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت ملوث ہے لیکن ہم کبھی اسے دہشتگرد ثا بت نہ کر سکے دوسری طرف بھارت میں اگر چڑیا بھی مری تو اس کا الزام پاکستان پر لگایا گیا اور پاکستان کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے پوری دنیا کے سامنے قسمیں کھانی پڑیں۔ سچائی کا راستہ طویل اور مشکل ہوتا ہے لیکن فتح آخر میں سچ کی ہی ہوتی ہے پاکستان آج دنیاکے سامنے سرخ رسوا اور بھارت ذلیل و رسوا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر ہمارے اپنے اندر کوتاہی ہے تو اسے دور کرنا چاہیے یہ ضروری ہے کہ اب ہم مذہبی جنونیت کی آگ کا ایندھن نہ بنیں ہم مذہبی جنونیت کی بھاری قیمت چکا چکے پاکستانی میڈیا کا اثرو رسوخ بھارت کے مقابلہ میں بہت کم ہے لیکن اس بار ہم نے انہیں چاروں خانے چت کر دیا اگرچہ آج ہمارے پاس نور جہاں تھیں نہ مہندی حسن ، مسعود رانا ، احمد روشتی اور نہ ہی 1965ء جیسے ملی نغموں کے عظیم تخلیق کار پی ٹی وی کارول بھی جیسا ماضی میں ہوتا تھا ویسا نہیں تھا بلکہ میں یہ کہوں گا کہ تھا ہی نہیں لیکن پاکستانی الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا نے دلائل کے میدان میں بھارت کی تو پوں کو خاموش کردیا اب وہاں کھسیانی بلی ہے جو ہر چینل پر بیٹھ کر کھمبا نوچ رہی ہے اللہ پاکستان کو نظر بد سے محفوظ رکھے۔

تجزیہ ایثار رانا

مزید : تجزیہ