امریکہ،طالبان امن معاہدہ اورعافیہ صدیقی

امریکہ،طالبان امن معاہدہ اورعافیہ صدیقی
امریکہ،طالبان امن معاہدہ اورعافیہ صدیقی

  

ایک دوسرے کے خلاف 19سال تک برسر پیکار رہنے والے حریفوں نے امن معاہدے پردستخط کر دئیے ہیں۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اس معاہدے پر امریکہ کی طرف سے زلمے خلیل زاد اور طالبان کی طرف سے 16فروری 2010ء میں دہشت گردی کے الزام میں کراچی سے گرفتار ہونے والے افغان طالبان کے نمائندے ملا عبدالغنی برادر نے دس سال بعد 29 فروری 2020ء کو دستخط کئے۔ وقت بھی کیا کمال چیز ہے۔ کل کے دہشت گرد آج امن کے علمبردار قرار پائے۔ معاہدے کی دوحہ میں ہونے والی تقریب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ساتھ پچاس ممالک کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ پوری دنیا میں اس کا تذکرہ ہورہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ معاہدہ پاکستان کی امن کے لئے کی گئی کوششوں سے طے پایا، یہ بات قابل ستائش۔

اس امن معاہدے کے تحت افغان حکومت کل تک دہشت گرد قرار دیئے جانے والے پانچ ہزار افغان طالبان کو رہا کرے گی، جبکہ طالبان ایک ہزار مخالف قیدیوں کو رہا کریں گے، مگر اس سارے معاملے میں پاکستان کی بیٹی عافیہ صدیقی کا کہیں ذکر نہیں، جو ایک المیہ سے کم نہیں۔ ایک طرف اس امن معاہدے کا چرچہ ہے تو دوسری طرف کراچی میں ایک گھر ایسا بھی ہے، جہاں اداسی کی گمبھیر تاریکیوں میں مزید اضافہ چھا گیا ہے اور وہ گھر ہے، ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا، جو عافیہ صدیقی کی بڑی ہمشیرہ ہیں۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے جو غالباً پاکستان میں مرگی کی واحد ڈاکٹر ہیں، راقم الحروف سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج بد ترین دشمن قرار دئیے جانے والے طالبان، جنہیں ساری دنیا نے بھی مجرم قرار دیا، وہ تورہا ہورہے ہیں، مگر معصوم عافیہ صدیقی آج بھی امریکہ میں پابند سلاسل ہے، جس پرصد افسوس ہے۔ انہوں مزید کہا کہ ریاست مدینہ کی دعویدار حکومت، جس کا اس معاہدے میں بڑا کردار ہے، نے مردوں کی رہائی کے لئے تو سب کچھ کیا، مگر اس نے اسلام میں عورت کی حرمت کا پاس نہیں کیا اورعافیہ صدیقی کی رہائی پر خاموشی اختیار کئے رکھی، اگر ارباب اختیار چاہتے تو عافیہ کی رہائی پر بھی بات کر سکتے تھے، اس سے اس معاہدے میں کوئی کمی نہ آتی، جبکہ ان کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوتا، جس سے عوام میں ان کی مقبولیت بڑھ جاتی۔

ہمارے حکمران جو امریکہ کی دوستی کا دم بھرتے ہیں،وہ دوست ……دوست کی بیٹی کو قید رکھے اور دوسرا دوست خاموش رہے تو صاف عیاں ہے کہ یہ دوستی نہیں غلامی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس موقع پر ہمارے ارباب اقتدار ماضی میں کی گئی بیٹی فروشی کو ختم کرتے اور کہتے کہ اب پاکستان کی بیٹی کی واپسی ہوگی تو ان کی مقبولیت کا گراف آسمان کی بلندیوں کو چھوتا، مگر صد افسوس ایسا نہیں ہوا۔ قوم کی بیٹی اب بھی امریکہ کی جیل میں 86 سال کی سزا کاٹ رہی ہے، اگر طالبان، جنہیں دہشت گرد کہا جاتا تھا، آج امن معاہدہ کر چکے ہیں تو بتایا جائے کہ عافیہ صدیقی اب تک دہشت گرد کیوں ہے؟…… یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عمران خان وہ پہلے شخص تھے،جنہوں نے 2003ء میں ایک ٹیلیویژن پروگرام میں اس وقت کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات سے عافیہ صدیقی کے اغوا پر احتجاج کیا،پھر متعدد بار عمران خان نے عافیہ صدیقی کے لئے آواز بلند کی، مگر اس کا سراغ نہ مل سکا،جبکہ اطلاعات کے مطابق عافیہ صدیقی کو 30مارچ 2003ء میں پولیس نے کراچی سے گرفتار کیا، جسے لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اوراس حوالے سے کراچی کے اخبارات میں خبریں بھی شائع ہوئیں، اس کے بعد اس کا کہیں پتہ نہ چلا اور ان سینکڑوں لاپتہ افراد کی طرح اس کی گمشدگی بھی ایک معمہ بنی رہی، جبکہ جولائی 2008ء میں امریکی حکومت نے دعویٰ کیا کہ عافیہ صدیقی کو افغانستان کے شہر غزنی سے زخمی حالت میں گرفتا ر کیا گیا۔

تحیر آمیز بات یہ ہے کہ 2003ء میں عافیہ کے لئے آواز اٹھانے والے عمران خان آج وزارت عظمی کی مسند پر براجمان ہیں اور کہا جارہا ہے کہ امن معاہدے میں پاکستان کا کلیدی کردار ہے تو عمران خان نے آج عافیہ صدیقی کے معاملے میں خاموشی کیوں اختیار کر رکھی ہے؟ کیا امر مانع ہے جو انہیں عافیہ کی بات کرنے نہیں دے رہا؟ یہ ایک شخصیت کا معاملہ نہیں،قوم کی ایک بیٹی کا مسئلہ ہے اور کسی کو کسی بھی طور پر اس بات کی اجازت نہیں دیتاکہ وہ اس معاملے کو درخور اعتناء نہ سمجھے۔ یہاں یہ تذکرہ بھی بے جا نہیں ہوگا کہ ایک بیٹی کے خط پر اس وقت کے عرب حکمران حجاج بن یوسف نے اپنے سترہ سالہ بھتیجے محمد بن قاسم کو دیبل روانہ کیا، جس نے وہاں کے اس وقت کے راجہ داہر کو نہ صرف عبرتناک شکست دے کر عرب خواتین اور مردوں سے بھرے بحری جہاز کو واگزار کرایا، بلکہ دبیل کے ساتھ ساتھ فتوحات حاصل کرتا ہوا ملتان تک پہنچا۔ آج بھی ملتان میں اس کے نام سے موسوم قلعہ ابن قاسم موجود ہے۔

جناب وزیر اعظم صاحب! آپ ایک ایٹمی اور بہترین فوج کے حامل ملک کی حکومت کے سربراہ ہیں اور ماضی میں آپ عافیہ صدیقی کے بارے میں آواز اٹھاتے رہے ہیں، آج جبکہ آپ نے امن معاہدے میں مبینہ طور پر ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور اس معاہدے کے تحت ہزاروں افرار رہا ہوں گے، جو کل تک دہشت گرد قرار دئیے جاتے تھے تو آج وہ کون سی مصلحت ہے جوآڑے آرہی ہے اور آپ قوم کی بیٹی کی رہائی کے لئے ماضی کے حکمرانوں کی طرح خاموش ہیں۔ صرف اقدام قتل کے مبینہ الزام کے تحت 86سال سزا کاٹنے اور امریکہ کے زندان میں صعوبتیں برداشت کرنے والی عافیہ کے معاملے میں ساری مصلحتوں کو تج کر آپ پاکستان کی اس بیٹی کی رہائی کی نتیجہ خیز کوششیں کریں۔ یقین کریں کہ اس حوالے سے آپ کی بارآور کوششیں رنگ لائیں گی اور پاکستانی عوام اس پر آپ کوسر آنکھوں پر بٹھائیں گے،آپ کو اتنی مقبولیت او ر عزت حاصل ہوگی، جس کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔

مزید :

رائے -کالم -