سینیٹ الیکشن سے ملنے والا سنہری سبق

سینیٹ الیکشن سے ملنے والا سنہری سبق

  

سینیٹ کے انتخابات مکمل ہو گئے اور اتحادیوں کے ووٹ شامل کرکے ایوان بالا میں حکمران جماعت کو اتنی اکثریت حاصل ہو گئی ہے کہ اس کے لئے قانون سازی میں آسانیاں پیدا ہو جائیں گی اب قومی اسمبلی میں جو بھی بل منظور ہو گا اسے ایوانِ بالا سے منظور کرا لینا پہلے کی طرح مسئلہ نہیں ہوگا اس سے پہلے سینیٹ سے جو بل اپوزیشن کی اکثریت کی وجہ سے مسترد ہوئے انہیں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرانا پڑا کہ ایسی صورت میں قانون سازی کے لئے یہی راستہ کھلا رہ جاتا ہے۔ انتخابات سے پہلے الزام تراشیوں اور جوابی الزام تراشیوں کا جو رونق میلہ لگا رہا اب ضرورت ہے کہ اسے خیرباد کہہ دیا جائے اور اگر کہیں ووٹ کی خرید و فروخت واقعتاً ہوئی ہے اور اس کے شواہد بھی موجود ہیں تو پھر نہ صرف ووٹ بیچنے والوں کو قرار واقعی سزا دی جائے بلکہ ان لوگوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے جو ووٹ خرید کر معزز و معتبر ایوان کا حصہ بن گئے لیکن ظاہر ہے اس کام کے لئے محض شور و غوغا اور واویلا کافی نہیں ہے ثبوت جمع کرنے کے لئے کچھ محنت کرنا ہوگی یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ ووٹوں کی منڈیاں لگی رہیں اگر ایسا ہوا ہے تو جہاں منڈی لگی رہی اس مقام کی نشاندہی بھی تو ضروری ہے اور منڈیوں کے آڑھتیوں اور پھڑیوں کی چہرہ شناسی بھی ہونی چاہیے۔ منڈیاں اگر لگیں تو آخر اسی پاک سرزمین پر لگیں کہیں چاند یا مریخ پر تو ایسی انہونیاں نہیں ہوئیں۔ الزام تراشیوں کے ثبوت مہیا کرنے کا واحد قانونی فورم عدالتیں ہیں خرید و فروخت کرنے والوں کو وہاں لے جائیں، اگر ثبوت ہیں تو انہیں سزائیں دلوائیں، عوامی نمائندگی کے لئے نااہل کروائیں اور قانون میں مزید جس جس کارروائی کی گنجائش ہے وہ ضرور کریں اگر محض الزام تراشی کی بنیاد پر میڈیا ٹرائل جاری رکھا گیا تو اس کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوں گے اور یہ سمجھا جائے گا کہ رولا رپّا تو بہت ہے ٹھوس ثبوت کہیں بھی نہیں۔

حکومت نے پوری کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح سینیٹ کا یہ الیکشن اوپن بیلٹنگ کے ذریعے ہو جائے اس کے لئے راہ تو بڑے عرصے سے ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن مقامِ افسوس ہے کہ اس مقصد کے لئے سیدھا سادہ آئینی ترمیم کا مشکل مگر درست راستہ اختیار کرنے کی بجائے شارٹ کٹس سے کام چلانے کی کوشش کی گئی، پہلے ایک صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں دائر کیا گیا جس میں یہ رائے طلب کی گئی تھی کہ کیا سینیٹ کا انتخاب آئین کے تحت ہوتا ہے یا قانون کے تحت۔ حکومت کا مدعا یہ تھا جس کی سرکاری قانونی دماغوں نے بڑی تشریح اور تشہیر کی کہ سینیٹ کا انتخاب تو عوامی نمائندگی کے قانون کے تحت ہوتا ہے اس لئے اوپن بیلٹنگ کے لئے کسی آئینی ترمیم کی ضرورت ہی نہیں محض قانون میں تبدیلی کرکے یہ مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ میں ریفرنس کی سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل کے دلائل کا سارا زور اسی ایک نقطے پر مرکوز تھا ان کا کہنا تھا کہ جو انتخابات آئین کے تحت ہوتے ہیں وہاں تو خفیہ بیلٹنگ ضروری ہے لیکن سینیٹ کا الیکشن تو آئین کے تحت ہوتا ہی نہیں۔ نہ جانے ان کے ذہنِ رسا میں یہ قانونی نکتہ کہاں سے القا ہوا تھا کہ انہوں نے پوری حکومت کو اس کا قائل بھی کر لیا اور اس کے بعد ہی ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ ہوا لیکن جیسا کہ بعد کے حالات نے ثابت کیا اٹارنی جنرل کو اپنے اس استدلال پر حق الیقین نہیں تھا ورنہ وہ اپنی حکومت کو آئین میں ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے روک دیتے یا کم از کم اتنا ہی کہہ دیتے کہ سپریم کورٹ میں جو ریفرنس دائر کیا گیا ہے اس پر رائے کا انتظار تو کر لیا جائے لیکن حکومت نے جلد بازی میں آئینی ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تو ارکان کا موڈ دیکھ کر چند ہی دن میں اسے اندازہ ہو گیا کہ یہ بھاری پتھر اس سے نہ اٹھ سکے گا وجہ صاف ظاہر تھی جو حکومت سینیٹ میں سادہ اکثریت بھی نہیں رکھتی تھی وہ دوتہائی اکثریت سے آئینی ترمیم کیسے منظور کراتی؟ لیکن نہ جانے وہ کون سے سرکاری بزرجمہر تھے جنہوں نے کسی ہوم ورک یا تیاری کے بغیر ہی حکومت کو ایک ایسی آزمائش سے دوچار کر دیا جس میں وہ سرخرو نہ ہو سکی اور نہ ہو سکتی تھی اس کے بعد ایک دوسرا شارٹ کٹ صدارتی آرڈی ننس کے نفاذ کی شکل میں تلاش کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ اگر سپریم کورٹ نے اوپن بیلٹ کے حق میں رائے دی تو یہ آرڈی ننس نافذ العمل ہو جائے گا بصورت دیگر اپنی موت آپ مر جائے گا جب رائے آ گئی تو آرڈی ننس تو ختم ہو گیا البتہ اٹارنی جنرل مطمئن و مسرور دکھائی دیئے اور انہوں نے شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت سے جو حاصل کرنا چاہتے تھے وہ انہیں مل گیا ہے اب بیلٹ پیپر ”قابلِ شناخت“ ہو گا۔

الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی رائے پر تفصیلی غور کے بعد فیصلہ کیا کہ سینیٹ کا الیکشن خفیہ ہوگا، بیلٹ پیپر بھی خفیہ ہوگا، کمیشن نے ٹیکنالوجی، ٹیکنالوجی کا ورد کرنے والے جذباتی وزراء کی اس رائے سے بھی اتفاق نہیں کیا کہ بیلٹ پیپر پر سیریل نمبر یا بار کوڈ چھاپ دیا جائے اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس بار الیکشن اسی طریقے سے ہوگا جس طرح پہلے ہوتا چلا آ رہا ہے، چنانچہ اسی طریقے سے الیکشن ہوا، جیتنے والے جیت گئے، ہارنے والے ہار گئے، دعوے کرنے والوں کے کچھ دعوے پورے ہوئے کچھ ہوا میں اُڑ گئے، نتیجہ پوری قوم کے سامنے ہے لیکن اس الیکشن اور اس سے پہلے ہونے والی اوپن بیلٹ کے لئے کی جانے والی جان توڑ جدوجہد کا سنہری سبق یہ ہے کہ راستہ ہمیشہ سیدھا اختیار کرنا چاہیے اور ”ٹِھبّی“ مار کر آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ اب بھی حکومت اگر اوپن بیلٹ پر صدق دل سے یقین رکھتی ہے تو سیدھے سبھاؤ آئینی ترمیم کا راستہ اختیار کرے اور جو بھی طریقہ درست سمجھتی ہے وہ اپنا لیا جائے۔ براہ راست انتخاب بھی ایک طریقہ ہے اور بھی کئی طریقے ہیں جو دنیا نے اختیار کر رکھے ہیں وہ بھی اپنائے جا سکتے ہیں تمام طریقوں کا مطالعہ کرکے کوئی فیصلہ کر لیا جائے، شارٹ کٹ کی ناکامیاں تو دیکھ لیں اب راہ راست پر چلنے کا تجربہ بھی کر لیا جائے۔اہل فارس نے درست ہی کہہ رکھا ہے ”راہِ راست برو گرچہ دور است“

مزید :

رائے -اداریہ -