ہنگامہ تھا کیوں برپا؟

ہنگامہ تھا کیوں برپا؟
ہنگامہ تھا کیوں برپا؟

  

یہ جو ہنگامہ برپا تھا، ہماری یہ سطور شائع ہونے سے قبل ہی ختم ہو چکا ہوگا، اس کے بعد نئے الزام اور جوابی الزام شروع ہوں گے۔ ہم ذاتی طور پر اپنے تجربے کی بنا پر ان حضرات سے اتفاق کرتے ہیں، جن کے مطابق یہ چمن یونہی رہے گا اور بلبلیں آکر چلی جائیں گی، تاہم ایک عرض کرنا ہے کہ جو کچھ ہوا اور جو ہوگا وہ بہرصورت عوام کے لئے بہتر نہیں۔ اگرچہ عوام کی حیثیت اشرافیہ کے نزدیک کچھ نہیں ہے۔ اس کے باوجود حکمرانوں سے لوگوں کی توقعات وابستہ ہوتی ہیں اور پھر ایسے حکمران جو سپریم کورٹ سے سندیافتہ ایماندار اور دیانت دار ہوں اور اقتدار میں آنے  سے پہلے ان کا دعویٰ تھا کہ ان کی جماعت کے پاس ماہرین کی اتنی بہتات ہے کہ ان کو کھپانا مشکل ہے، لیکن جب پردہ اٹھا تو آئی ایم ایف سے دو بندوں کے ساتھ ادھار بھی لینا پڑا اور ماہرین ترجمانوں کی فوج نکلے  پھر دعویٰ ریاست مدینہ کا کر لیا گیا اور اس نئی ریاست مدینہ کا تصور یہ ہے کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے۔ یہ تو دل کے بھی پھپھولے  ہیں کہ ہم آج یہ کالم کمر کی شدید تکلیف، اس کے اخراجات کے بوجھ تلے، بھوکے پیٹ لکھ رہے ہیں، یہ بھوک دراصل مالی مشکلات اور مہنگائی کے ساتھ ساتھ مہنگے علاج کی بھی ہے۔

بات شروع کی تھی کہ ہنگامہ برپا تھا اور آج سے یہ ختم ہو کر دوسرا شروع ہو جائے گا کہ فیصلہ جو بھی ہو، ایک دوسرے کے خلاف شدید نوعیت کی محاذ آرائی جاری رہے گی اور بے چینی میں کمی نہیں ہو گی، جہاں تک حالات کے دباؤ کا تعلق ہے تو ہمیں وہ زمانہ یاد آ رہا ہے، جب محترمہ بے نظیر بھٹو کو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہوا اور دونوں جماعتوں کے درمیان شدید قسم کی محاذ آرائی تھی (اب دونوں حلیف ہیں) اس دور کے حوالے سے ہمارے دوست مرزا منور حسین بیگ نے فیس بک پر ایک پوسٹ لگائی ہے۔ اس میں سابق نگران وزیراعظم ملک معراج خالد مرحوم کا ذکر ہے، جو اس وقت سپیکر قومی اسمبلی تھے، جب محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا غلغلہ بلند ہوا اور پھر پیش بھی ہوئی۔ یہ امر تو سب حضرات کے علم میں ہے اور ہم بھی کئی ایسے واقعات تحریر کر چکے ہیں جن کے ہم براہ راست گواہ ہیں، ان میں اراکین کی دعوتیں، ان کے کام، پلاٹوں، گاڑیوں اور نقد رقوم کی تقسیم کے علاوہ ان کو مخالفین سے بچانا اور سیر و تفریح شامل تھے، انہی دنوں چھانگا مانگا اور سوات کا ذکر عام ہوا تھا ہمارے بھائی جہانگیر بدر کے کارنامے بھی سامنے آئے تھے، یہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی تھی، تاہم جو ذکر ہم نے کیا اس سے الگ بات مرزا منور حسین نے ایک دوست اور راوی کے توسط سے تحریر کی کہ ان دنوں ملک معراج خالد کتنے دباؤ میں اور پریشان تھے۔ حقائق کے مطابق ملک معراج خالد سپیکر تو پیپلزپارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے منتخب ہوئے لیکن انتخاب کے بعد انہوں نے ایوان کو چلانے کے لئے اپنا کردار غیر جانبدارانہ بنا لیا تھا،

محترمہ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران ملک معراج خالد بہت زیادہ دباؤ کے شکار تھے کہ محترمہ اور پیپلزپارٹی ان سے اپنی حمایت کی توقع رکھتی تھی۔ چنانچہ ان کی ذات بے اعتباری کی زد میں تھی، انہوں نے ملنے والے دوست کو بتایا کہ وہ اول و آخر پیپلئے ہیں، تاہم سپیکر کی حیثیت سے ان کا کردار غیر جانبدارانہ ہے اس لئے وہ جماعت کی مدد کریں گے لیکن آئین سے انحراف نہیں کریں گے، چنانچہ ملک صاحب نے پھر ایسا ہی کیا، جب عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تو انہوں نے سپیکر کی حیثیت سے حزب اختلاف کو پورا موقع دیا کہ وہ ایوان میں دل کا غبار نکال لیں اور ان حضرات نے بھی دل بھر کر تقریریں کیں، اس وقت پیپلزپارٹی والوں کی حالت دیدنی تھی تاہم جب تقریریں ہو چکیں تو ملک معراج خالد نے بطور سپیکر رولنگ دی  چونکہ تحریک عدم اعتماد اپوزیشن نے پیش کی اس لئے اس کی حمائت میں اراکین کی تعداد بھی اسی کو پوری کرنا ہوگی، یہ تعداد ان دنوں 119اراکین تھے، اپوزیشن یہ پورے نہ کر سکی اور تحریک ناکام ہو گئی۔ ملک معراج خالد سرخرو بھی ہو گئے اور آئینی حیثیت بھی برقرار رکھی۔ ملک معراج خالد سے ہمارے تعلقات بھی بہت اچھے رہے اور ان سے دلچسپ گفتگو بھی ہوتی تھی۔

حتیٰ کہ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے دنوں میں وہ اسیر تھے تو علیل ہو گئے، وہ میو ہسپتال کی پرائیویٹ وارڈ میں داخل تھے، ہمیں وہاں بلا لیا کرتے۔ ہم اپنے دوست اور استاد محترم سید اکمل علیمی کے ساتھ جاتے اور گھنٹہ دو گھنٹے تک تبادلہ خیال ہوتا۔ ہمارے تب کے اخبار روزنامہ ”امروز“کا دفتر بالکل سامنے تھا۔  آج کے سپیکر حضرات کا کردار کیا رہا، یہ ایک سوال ہے، جواب خود سے پوچھ لیں۔اس حوالے سے ایک بات عرض کرتے چلیں، پیپلزپارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بھٹو دور سے تعلقات خراب چلے آئے ہیں، لیکن ہم خود گواہ ہیں کہ محترمہ اپنے طور پر خلاف نہیں تھیں، بلکہ اپنی جماعت کے ان اراکین کی حمایت کرتی تھیں جن کے تعلقات اس ادارے کے بڑے لوگوں سے ہوتے۔ خود بھٹو صاحب کے پاس بھی مولانا کوثر نیازی جیسے حضرات تھے۔

بات طویل ہوتی جا رہی ہے۔ یہ عرض کر دیں کہ مخدوم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے کی ویڈیو کا بہت ذکر اور اس پر ہنگامہ ہوا، الیکشن کمیشن نے بھی نوٹس لیا ہے، تحقیق ہو گی، لیکن کیا کسی نے کھوج لگایا کہ یہ ویڈیو بنی کیسے؟ اور اسد عمر صاحب کا یہ دعویٰ کہ ہم متعلقہ ایم این اے کو جانتے ہیں، یہ کیسا اشارہ ہے، کیا یہ ”ٹریپ“ تھا؟

مزید :

رائے -کالم -