ظالمانہ مہنگائی اور کھوکھلے دعوے 

ظالمانہ مہنگائی اور کھوکھلے دعوے 
ظالمانہ مہنگائی اور کھوکھلے دعوے 

  

ایک عام آدمی کو سیاسی معاملات  سے کہیں زیادہ معیشت، روزگار، امن و امان اور اخلاقی و سماجی مسائل درپیش ہیں۔ ان تمام مشکلات نے اس کی زندگی کو شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔ عوام اس وقت غربت اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے  ہیں۔بڑھتی ہوئی  مہنگائی کے باعث بہت بڑی تعداد  غربت کی لکیر سے بھی نیچے جا چکی ہے۔ بے روزگاری کے طوفان میں جو  افراد اپنی نوکریوں سے فارغ ہوئے وہ سخت اذیت میں مبتلا ہیں۔ سفید پوش لوگ بھی سخت پریشان ہیں۔

کئی سفید پوش لوگوں کے گھروں میں اب کھانا عملا  ناپ تول کر بانٹا  جا رہا ہے۔ خود حکمران اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ مہنگائی بہت زیادہ ہے لیکن نظر یہی آ رہا ہے کہ اس میں کمی لانے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیے جا رہے۔ پچھلے چند مہینوں میں ایک ہی بات بار بار سننے کو مل رہی ہے کہ مشکل وقت گزر گیا، اب حالات بہتر ہوں گے۔ یہ سال ترقی و خوش حالی کا ہوگا لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ مہنگائی کا گراف اوپر سے اوپر ہی جا رہا ہے۔ ہر معاشرے میں تین طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں، اپر کلاس، مڈل کلاس اور لوئر کلاس لیکن حالات دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم کی کتاب میں ایسا کوئی  فرق موجود نہیں۔ غریب ہے تو مزید غریب ہوتا جا رہا ہے، اگر مڈل کلاس ہے تو مر مر کے صرف بل جمع کرا رہا ہے اور نجی شعبوں کے کارکنوں کو تو ہر وقت اپنی نوکری ختم ہونے کا ڈر ستا رہا ہے۔ مالدار طبقے سے تعلق رکھنے والے تمام صنعتکار پریشان بیٹھے ہیں کہ ایک تو ملکی حالات کاروبار چلنے نہیں دے رہے اور دور دور تک چلنے کی کوئی امید بھی نظر نہیں آرہی۔ 2020 میں مہنگائی نے سارے ریکارڈ توڑ دئیے  تھے اور اب ایسا لگ رہا ہے  2021 میں یہ نئے ریکارڈ بنائے گی۔ ہر شعبے میں مسلسل بڑھتے ہوئے مسائل اور تیزی سے گھٹتے ہوئے وسائل کے باعت ہا ہا کار میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اب تو خود اقتدار میں بیٹھے ہوئے لوگ بھی کھلے عام کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ آگے بھی اندھیرا ہے۔اس سرکار کے اڑھائی سال عوام پر بہت بھاری رہے ہیں۔ آٹا، چینی دالیں، گوشت، گھی سمیت بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں 100 فیصد سے بھی زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اگست 2018 سے فروری 2020ء تک کوئی ایسی چیز نہیں جس کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ نہ ہوا ہو۔ ایک رپورٹ کے مطابق چینی کی اوسط قیمت 38 روپے اضافے سے 93 روپے 59 پیسے کلو ہو گئی۔ گڑ کی قیمت میں 45 روپے 61 پیسے کا اضافہ ہوا۔ آٹے کا بیس کلو تھیلا 200 بڑھ کر 860 روپے تک پہنچ گیا۔ اسی طرح گھی کی اوسط قیمت 100 روپے بڑھی اور اڑھائی کلو کا ڈبہ 265 روپے مہنگا ہوا۔ دالوں کی قیمت کا اگر جائزہ لیں تو دال ماش کی قیمت میں 107 روپے اضافہ ہوا۔ دال مسور کی قیمت 43 روپے 30 پیسے بڑھ گئی۔ دال مونگ 119 روپے 50 پیسے فی کلو مہنگی ہوئی اور اسی طرح دال چنا کی قیمت میں 38 روپے اور 65 پیسے کا اضافہ ہوا۔ چاول کی قیمت میں بھی 14 روپے 55 پیسے کا اضافہ ہوا۔ بکرے کا گوشت 216 فی کلو مہنگا ہوا ہے اور گائے کے گوشت میں 101 روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ انڈے 50 روپے 38 پیسے درجن مہنگے ہو گئے۔ اڑھائی سال میں سبزیوں کی قیمتوں میں غیر یقینی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ تازہ دودھ 20 روپے لیٹر اور دہی 20 روپے کلو بڑھ گیا۔ ایل پی جی گھریلو سلنڈر کی قیمت میں 37 روپے کا اضافہ ہوا۔

حکمران بالکل ایک جیسے بیانات دیتے ہیں کہ ماضی کے حکمران ملک کو لوٹ کر کھا گئے یا ہمیں خزانہ خالی ملا ہے،  وغیرہ وغیرہ۔سیاسی پارٹیاں انتخابات سے پہلے اپنے ووٹروں کو خواب دکھاتی ہیں کہ حلف اٹھاتے ہی تبدیلی لے آئیں گی لیکن جب اقتدار مل جاتا ہے تو پھر وہی سیاسی جماعتیں عوام سے کیے ہوئے وعدوں کو پس پشت ڈال  کر اپنی ترجیحات بدل لیتی ہیں۔ مشکل وقت آنے سے پہلے مسائل کا حل ڈھونڈے  اور اہم ضروریات زندگی کو اولین ترجیح کی بنیاد  پر پورا کرے۔ اب صرف یہ کہنے سے کام نہیں چلے گا“ میں مافیا کو نہیں چھوڑوں گا“۔

مزید :

رائے -کالم -