فرانس،پاکستان اور گرے لسٹ

فرانس،پاکستان اور گرے لسٹ
فرانس،پاکستان اور گرے لسٹ

  

ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو ایک بار پھر گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے مزید تین شرائط پوری کرنے کے لئے کہا ہے۔ اس سارے مرحلے میں ادارے کے اہم ترین رکن فرانس نے پاکستان کو گرے لسٹ سے نہ نکالنے اور مزید نکات شامل کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں، کیونکہ فرانس عرصہ دراز سے پاکستان  کی ہر فورم پر شدید مخالفت کر رہا ہے، جو  پاکستان کے لئے کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ 

فرانس پاکستان کی مخالفت کیوں کر رہا ہے اس کو اس مخالفت اور پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کیا فائدہ ہے؟ اس کے علاوہ فرانس یہ سب کچھ اپنے کس آقا کو خوش کرنے کے لئے کر رہا ہے؟ بات صاف ظاہر ہے کہ فرانس اور انڈیا کا گٹھ جوڑ اس کی سب سے بڑی وجہ ہو سکتا ہے۔ انڈیا تو 1989ء سے جب سے ایف اے ٹی ایف کا قیام عمل میں آیا ہے پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہا ہے، مگر اس کی تمام تر سازشیں ہمیشہ سے ناکام ہو رہی ہیں حتیٰ کہ اس نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے اسرائیل، امریکہ اور فرانس تک کی مدد حاصل کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا اور اپنے ہوائی اڈے تک امریکہ و اسرائیل کو استعمال کرنے کے لئے دئیے، اس سے بھی بڑھ کر حساس انفارمیشن  کا تبادلہ تک کرنے کا معاہدہ امریکہ کے ساتھ کر ڈالا، ابھی حال ہی میں بھارت فرانس سے رافیل طیارے خرید نے کے علاوہ جدید فرانسیسی اسلحہ خریدنے کے معاہدے کر چکا ہے، جس کی وجہ سے فرانس کا مکمل جھکا ؤ بھی انڈیا کی طرف دیکھنے میں آ رہا ہے۔

فرانس کے اس عمل کی دوسری بڑی وجہ پاکستان کا گستا خانہ خا کوں کے خلاف شدید رد عمل بھی ہو سکتا ہے، جس کی وجہ بھی واضح ہے کہ فرانس میں آزادی رائے کے نام پر اس طرح کی گھٹیا حرکت کرنا معمول بن چکا ہے، حالانکہ کسی بھی مہذب معاشرے میں انسانی حقوق کو کسی بھی مذہب کی توہین کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا اس کے بعد فرانسیسی حکومت کا منفی رویہ بھی پوری دنیا کے علاوہ  یورپ بھر میں بھی انتہائی مذمت کا شکار رہا۔ شاید پاکستان کے قدرتی رد عمل کا جواب ایف اے ٹی ایف کے فورم پر اس انداز سے دینا فرانس کی چھوٹی سوچ کی عکاسی ہے۔

تیسرا اہم نقطہ یہ ہے کہ بیشتر اسلامی ممالک نے فرانس کی مصنوعات کا اسی روز سے بابیکاٹ کر رکھا ہے جب سے فرانس نے امت مسلمہ سے معافی مانگنے کی بجائے ہٹ دھرمی سے کام لیا، جس کا فرانس کو  ناقابل ِ تلافی نقصان ہو چکا ہے یہ مخالفانہ اقدام اس سوچ کے تحت بھی ہو سکتا ہے کہ فرانس نے موقعہ غنیمت جان کر پاکستان کو ایف اے ٹی ایف میں پچھاڑنے کی آخری کوشش کی ہو، تاکہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالا جا سکے۔ 

اس کے علاوہ ایک اور اہم بات یہ ہے رافیل طیاروں کی جے ایف تھنڈر کے سامنے مارکیٹ میں ناکامی نے بھی اس مخالفت کو ہوا دی ہے، کیونکہ پاکستان کے بنائے ہوئے طیارے کی مارکیٹ رافیل سے کہیں زیادہ ہے، جس کا عملی ثبوت آذر بائیجان اور سری لنکا، ملائیشیا سے اس کی خرید کی حوالے سے مثبت خبروں کا موصول ہونا ہے۔

بھارت سے بھی بڑھ کر فرانس پاکستان کے خلاف پنجے تیز کرنے پر لگا ہے، مگر اس کو یہ جان لینا چاہئے کہ پاکستان ان کی کوئی  فرانسیسی افریقن کالونی کی طرح نہیں ہے کہ فرانس جو چاہے جیسا چاہے کر سکے۔ اس طرح کی چالیں پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی۔ ایف اے ٹی ایف کی طرف سے عا ئد کردہ  نئی تین شرائط بھی پاکستان پوری کرنے کے لئے پہلے سے کام کر چکا ہے اور بہت جلد ایف اے ٹی ایف  کو  نئی رپورٹ جمع کروا دے گا۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے، تین نکات کو پورا کرنا کوئی مشکل نہیں ہو گا۔ پاکستان اگر چاہتا تو مختلف طریقوں سے اس رپورٹ کو لمبے عرصے کے لئے کھینچ سکتا تھا، مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ حکومت پاکستان نے بہت کم عرصے میں اس پر کام کر کے رپورٹ بروقت ادارہ میں جمع کروا دی، جو پاکستان کی ذمہ داری کا ثبوت ہے۔ 

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو مزید مستحکم اور مضبوط کرے تاکہ تمام سازشی عناصر کی چالیں ناکام ہو جائیں۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو ان تمام محرکات کو جڑ سے اکھاڑنا ہو گا کہ جس کی آڑ میں بھارت اور فرانس جیسے ممالک کو پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کا موقعہ ملتا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -