زرعی شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہین‘ حسین جہانیاں گردیزی 

زرعی شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہین‘ حسین جہانیاں گردیزی 

  

ملتان(سپیشل رپورٹر) وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق کاشتکاروں کی خوشحالی کے لئے زرعی شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ کاشتکاروں کے منافع میں اضافہ اور اُن کی پیداواری لاگت میں کمی کے لئے جنگی بنیادوں پر کام کر نا ہوں گے تاکہ زرعی برآمدات میں اضافہ کر کے ملکی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار صوبائی وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے زراعت ہاؤس میں وزیراعظم پاکستان کے زرعی اصلاحاتی پروگرام کے جائزہ (بقیہ نمبر1صفحہ 6پر)

اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔ اجلاس میں سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی، ہیڈ آف مانیٹرنگ یونٹ برائے وزیر اعلیٰ پنجاب آصف فصیل، ڈائریکٹر جنرل زراعت توسیع ڈاکٹر محمد انجم علی اور چیف پنجاب ایگریکلچرل ریسرچ بورڈ ڈاکٹر عابد محمود سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں کاشتکاروں کے پیداواری لاگت میں کمی کے لئے بیج و زرعی مشینری کے پیکج کے علاوہ کسان دوست کارڈ، ڈیجیٹل سبسڈی، زرعی توسیعی خدمات میں بہتری کے طریقہ کار کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ہارویسٹنگ مشینری اور سروس پروائیڈرز پر 16 فیصد سیلز ٹیکس کی شرح کو کم کرکے ایک فیصد لانے اور وئیر ہاوسز کو پامرا ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے پر بھی اتفاق کرتے ہوئے ٹائم لائن کو مرتب کیا گیا تاکہ زرعی اصلاحات کے ثمرات کاشتکاروں کو جلد از جلد مل سکیں۔ اس موقع پر وزیر زراعت پنجاب سید حسین جہانیاں گردیزی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہ موجودہ حکومت زراعت کی ترقی کے لیے پر عزم ہے اور دور رس نتائج کے حامل منصوبے متعارف کر وارہی ہے۔ زراعت کے شعبہ میں دستیاب وسائل کے باکفایت استعمال کیلئے ٹیکنالوجی کو فروغ دیا جارہا ہے۔ زرعی مداخل پر سبسڈی کے ذریعے کاشتکاروں کی پیداواری لاگت میں کمی کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ملکی معیشت میں بہتری کے لیے زراعت کی ترقی ناگزیر ہے۔ وزیر زراعت نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کپاس کی بحالی کے لئے بھی پر عزم ہے اور اس سلسلے میں کپاس کی پیداوار میں اضافہ کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب اسد رحمان گیلانی نے کہا کہ ہمارے ملکی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ قریباً 60 ارب ڈالر ہے جس میں پنجاب کا حصہ دو تہائی یعنی 40 ارب ڈالر ہے۔ محکمہ زراعت پنجاب زرعی شعبے میں اصلاحاتی پیکج کے مطابق ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔ زرعی تحقیق کے شعبے کے لئے بھی ایک جامع اصلاحاتی پیکج پر غور کیا گیا جس کے تحت زرعی سائنسدانوں کو مالی مراعات کے عوض پر تحقیق اور نئی اقسام کی دریافت کا ٹارگٹ دیا جائے گا جسے مقرہ مدت میں پورا کرنا لازم و ملزوم ہوگا تاکہ جدید تحقیق کی روشنی میں  فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ اور بین الاقوامی سطح پر زرعی برآمدات کو بڑھایا جا سکے جس سے ملکی معیشت کو مضبوط ہوگی۔

اصلاحات

مزید :

ملتان صفحہ آخر -