صوبائی ترقیاتی بجٹ کا حجم بڑھ کر 346 ارب روپے تک پہنچ گیا

صوبائی ترقیاتی بجٹ کا حجم بڑھ کر 346 ارب روپے تک پہنچ گیا

  

لاہور(اپنے نمائندے سے)صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت کی زیر صدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام برائے مالی سال2021-22کا جائزہ اجلاس گزشتہ روز پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری جواد رفیق، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ عبداللہ سنبل، سیکرٹری خزانہ افتخار ساہو اور دیگر سیکرٹریز نے شرکت کی۔چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نے اجلاس کو بتایا کہ رواں مالی سال میں ترقیاتی اخراجات کے لیے 337ارب روپے مختص کیے گئے تھے جبکہ وفاق کی جانب سے واجب الاداء ادائیگیوں کے بعد صوبائی ترقیاتی بجٹ کا حجم بڑھ کر 346 ارب روپے ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولائی2020ء سے اب تک ترقیاتی اخراجات کی مد میں جاری کردہ بجٹ کا 65فیصد استعمال کر لیا گیا ہے۔ترقیاتی اخراجات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جاری سکیموں کے لیے مختص 200ارب روپے میں سے129ارب جاری کیے گئے ہیں جن میں سے83ارب روپے خرچ کیے جا چکے۔ نئی سکیموں کے لیے مختص کردہ71ارب روپے سے 39ارب روپے جاری کیے گئے جن کا68فیصد استعمال ہو چکا ہے۔اسی طرح دیگر ترقیاتی پروگرامز کے لیے جاری کردہ بجٹ کا67فیصداستعمال میں لایا جا چکا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ محکمہ لٹریسی اور نان فارمل ایجوکیشن 87 فیصد، اربن ڈویلپمنٹ 86 فیصد، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ83فیصد،لیبر اینڈ ہیومن ریسورس 79فیصد، سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز79فیصد، انرجی 74فیصد اورمحکمہ سپیشلائز ہیلتھ 73فیصد بجٹ استعمال کر چکا ہے۔دریں اثناء  دیگر  محکمے 56فیصد سے زائد بجٹ استعمال کر چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پراجیکٹس میں اراضی کے حصول سے متعلق قوانین اورکورونا کے پھیلاؤ کے سبب پیدا ہونے والا تعطل تاخیر کا سبب بن رہا ہے۔

 اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے استعمال شدہ بجٹ اور زیر تکمیل سکیموں پر بھی غور کیا گیا۔صوبائی وزیر نے ہدایت کی کہ مالی سال کے اختتام تک ترقیاتی منصوبہ جات پر زیادہ سے زیادہ پیش رفت اور بجٹ کے استعمال کو یقینی بنا یا جائے۔پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ منصوبہ جات میں پیش رفت کے لیے جہاں ضروری ہو گامتعلقہ قوانین میں ترمیم کروائی جائے گی اور شراکت داروں کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -